ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے سمیت حالیہ واقعات کے بارے میں خاموش نہیں رہ سکتے، پاکستان
اشاعت کی تاریخ: 28th, July 2025 GMT
سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے ایران کے خلاف صیہونی حکومت کی جارحیت اور ہمارے ملک کی ایٹمی تنصیبات پر امریکی حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہم کسی غلط اقدام سے لاتعلق نہیں رہ سکتے، اس لیے صحیح یا غلط اقدام کو درست طریقے سے بیان کرنا ہماری پالیسی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ نیویارک کے دورے کے موقع پر پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ نے العربیہ ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی صدر مسعود پیزکیان پاکستان کا دورہ کرنے والے ہیں، اور ہمیں امید ہے کہ یہ دورہ اگلے ماہ (اگست) کے اوائل میں ہوگا۔ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان خطے میں سفارت کاری اور دانشمندانہ طرز عمل کی حمایت کرتا ہے اور ایران کے ساتھ کشیدگی میں کمی اور مذاکرات کی تمام کوششوں کا خیرمقدم کرتا ہے۔ پاکستانی وزیر خارجہ نے کہا کہ میں ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کے ساتھ قریبی رابطے میں ہوں۔ ہم قریبی پڑوسی ہیں، اس لیے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے سمیت حالیہ واقعات کے بارے میں خاموش نہیں رہ سکتے۔ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے ایران کے خلاف صیہونی حکومت کی جارحیت اور ہمارے ملک کی ایٹمی تنصیبات پر امریکی حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہم کسی غلط اقدام سے لاتعلق نہیں رہ سکتے، اس لیے صحیح یا غلط اقدام کو درست طریقے سے بیان کرنا ہماری پالیسی ہے۔ پاکستانی وزیر خارجہ نے زور دے کر کہا سفارت کاری اور بات چیت ہی موجودہ صورتحال سے نکلنے کا واحد راستہ ہے، اور ہم دونوں فریقوں کی حمایت اور حوصلہ افزائی جاری رکھیں گے۔ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا کہ خطے میں سفارت کاری کو آگے بڑھانے کے لیے کسی بھی ثالثی کے لیے پاکستان کی اعلیٰ سطح پر کوششیں جاری رہیں گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے نہیں رہ سکتے تنصیبات پر اور ہم کہا کہ
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :