اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 29 جولائی 2025ء) جمہوریہ کانگو میں اقوام متحدہ کے امن مشن (مونوسکو) نے 26 اور 27 جولائی کو الائیڈ ڈیموکریٹک فورسز (اے ڈی ایف) کی جانب سے شہریوں پر حملوں کی سخت مذمت کی ہے جن میں بچوں سمیت 49 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔

صوبہ شمالی کیوو میں کیے جانے والے اس حملے میں لوگوں کے گھروں اور دکانوں کو آگ لگا دی گئی جبکہ متعدد افراد کو اغوا کر لیا گیا۔

اطلاعات کے مطابق بیشتر ہلاکتیں ایک چرچ میں عبادت کے دوران ہوئیں جس میں لوگوں کو تیز دھار آلات سے نشانہ بنایا گیا۔ رواں ماہ کے آغاز میں بھی اسی صوبے کے علاقے اتوری میں 'اے ڈی ایف' کے حملوں میں 82 شہری ہلاک ہو گئے تھے۔ Tweet URL

1995 میں قائم ہونے والا یہ گروہ شہریوں کے انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں میں ملوث رہا ہے اور اقوام متحدہ نے جون 2014 سے اس کے خلاف پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔

(جاری ہے)

ہتھیار پھینکنے کا مطالبہ

مونوسکو نے وحشیانہ تشدد کے ان واقعات پر غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے انہیں بین الاقوامی انسانی قانون اور انسانی حقوق کی سنگین پامالی قرار دیا ہے۔

مشن نے متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کانگو کے حکام پر زور دیا ہے کہ وہ ان ہلاکتوں کی تحقیقات کریں اور تمام غیر ملکی مسلح گروہوں سے کہا ہے کہ وہ غیر مشروط طور پر ہتھیار پھینک کر اپنے ممالک کو واپس جائیں۔

مونوسکو کی قائمقام سربراہ ویوین وان ڈی پیری نے کہا ہے کہ غیرمسلح شہریوں کے خلاف یہ منظم حملے انسانی حقوق کے تمام اصولوں اور بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مشن اپنی ذمہ داری کے تحت شہریوں کو تحفظ دینے کے لیے کانگو کے حکام کے ساتھ کام جاری رکھے گا۔

شہریوں کے تحفظ کی کوششیں

کانگو میں اقوام متحدہ کا مشن ان حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی تدفین اور زخمیوں کو طبی نگہداشت کی فراہمی کے لیے مقامی حکام کو مدد دے رہا ہے۔

مشن نے حالیہ حملے کا نشانہ بننے والے شمالی کیوو کے شہر کومانڈا میں سلامتی سے متعلق کوششوں میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔

مونوسکو کی سربراہ نے کہا ہے کہ مشن کانگو کے حکام اور مقامی لوگوں کے ساتھ مل کر مزید حملوں کو روکنے، شہریوں کو تحفظ مہیا کرنے، کشیدگی میں کمی لانے اور مسلح تشدد سے متاثرہ علاقوں میں استحکام کے لیے پرعزم ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے

پڑھیں:

مقبوضہ کشمیر میں حالاے نشل کشی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں، رُکن برطانوی پارلیمنٹ

برطانوی ایوانِ بالا کے رکن لارڈ قربان حسین نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے حالات نسل کُشی کی طرف جارہے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق لارڈ قربان حسین نے برطانوی پارلیمنٹ میں مقبوضہ کشمیر کی انسانی حقوق کی صورتحال پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ان کے مطابق وہاں کے حالات نسل کشی کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔

انہوں نے جینوسائڈ واچ کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے برطانوی حکومت سے پوچھا کہ وہ ان انتباہات کو کس حد تک سنجیدگی سے لیتی ہے اور ممکنہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی روک تھام کے لیے کیا اقدامات کر رہی ہے۔

جواب میں برطانوی حکومت کی جانب سے پارلیمانی انڈر سیکرٹری لارڈ کولنز نے کہا کہ برطانیہ انسانی حقوق سے متعلق اپنے دیرینہ مؤقف پر قائم ہے اور بھارتی پولیس یا سکیورٹی فورسز کے خلاف مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات کی مکمل، شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کی حمایت کرتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • مقبوضہ کشمیر میں حالاے نشل کشی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں، رُکن برطانوی پارلیمنٹ
  • نام نہاد جنگ بندی بے اثر، غزہ میں شہریوں کی ہلاکتیں جاری: انتونیو گوتریس
  • کوہاٹ: ڈیرہ اسماعیل خان میں نامعلوم افراد کی فائرنگ، بچے سمیت 3 افراد قتل 
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم