اقوام متحدہ کا منشور عالمی امن، خودمختاری اور قانون کی حکمرانی کی بنیاد ہے،ایاز صادق
اشاعت کی تاریخ: 30th, July 2025 GMT
اسلام آباد (خبرنگار)سوئٹزرلینڈ کے دارالحکومت جنیوا سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے جنیوا میں منعقدہ چھٹی عالمی اسپیکرز کانفرنس کے موقع پر اسلامی جمہوریہ ایران کی میزبانی میں ہونے والے اعلی سطحی اجلاس بعنوان ’’عالمی امن و سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قانون کا تحفظ‘‘میں شرکت کی اپنے خطاب میں، جس میں دنیا بھر سے سربراہانِ ریاست، سفارتکاروں اور پارلیمنٹیرینز نے شرکت کی، اسپیکر قومی اسمبلی نے اقوام متحدہ کے منشور میں درج اصولوں اور مقاصد کے ساتھ پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اقوام متحدہ کا منشور عالمی امن، سلامتی، خودمختاری، اور قانون کی حکمرانی کی بنیاد ہے اسپیکر سردار ایاز صادق نے اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف اسرائیلی جارحیت کی شدید مذمت کی اور اسے ’’غیر قانونی اور بلاجواز اقدام‘‘قرار دیا جو ایران کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا عسکری حملے اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔انہوں نے متنبہ کیا کہ ایسے اشتعال انگیز اقدامات نہ صرف علاقائی کشیدگی کو بڑھاتے ہیں بلکہ عالمی امن کے لیے بھی خطرہ ہیں انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان کی قیادت اور پارلیمنٹ نے اس جارحیت کی مذمت باقاعدہ بیانات اور قراردادوں کے ذریعے کی ہے، اور ایک بار پھر ایران کی خودمختاری اور اقوام متحدہ کے منشور کے تحت اس کے حقِ دفاع کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: اقوام متحدہ کے منشور عالمی امن انہوں نے
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔