22 ماہ سے جاری وحشیانہ صیہونی حملے، فلسطینی شہداء کی تعداد 60 ہزار سے تجاوز کرگئی
اشاعت کی تاریخ: 29th, July 2025 GMT
عرب میڈیا کے مطابق 60 ہزار فلسطینی شہداء کا مطلب غزہ میں یومیہ 90 سے زائد فلسطینی شہید ہوئے، غزہ کے ہر 36 فلسطینیوں میں سے ایک فلسطینی شہید ہوچکا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ غزہ میں اسرائیل کی جارحیت جاری ہے، 22 ماہ سے جاری وحشیانہ اسرائیلی حملوں میں فلسطینی شہداء کی تعداد 60 ہزار سے تجاوز کرگئی۔ امداد کی ناکہ بندی سے 147 فلسطینی شہید ہوئے، جن میں 88 بچے شامل ہیں۔ عرب میڈیا کے مطابق 60 ہزار فلسطینی شہداء کا مطلب غزہ میں یومیہ 90 سے زائد فلسطینی شہید ہوئے، غزہ کے ہر 36 فلسطینیوں میں سے ایک فلسطینی شہید ہوچکا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے فلسطینی پناہ گزین اُنروا کے سربراہ نے فوری جنگ بندی اور بڑے پیمانے پر امداد کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلی بار تسلیم کیا ہے کہ غزہ میں حقیقی بھوک ہے اور اسرائیل اس صورتحال کا ذمے دار ہے۔ دوسری جانب غزہ میں اسرائیلی مظالم پر 2 اسرائیلی تنظیموں نے اپنی ہی حکومت پر کھل کر تنقید کی۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق اسرائیل میں انسانی حقوق کی 2 تنظیموں نے پہلی بار کھل کر اسرائیل کو غزہ میں نسل کشی کا مرتکب قرار دے دیا۔ اسرائیلی تنظیم بی تسلیم اور فزیشنز فارہیومن رائٹس اسرائیل نے اپنی رپورٹس میں کہا کہ اسرائیل نے غزہ کے صحت کے نظام کو منظم طریقے سے تباہ کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: فلسطینی شہداء فلسطینی شہید
پڑھیں:
افغانستان: نورستان میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 40 سے تجاوز کر گئیں، متاثرین خوراک اور صاف پانی سے محروم
افغانستان کے صوبہ نورستان میں آنے والے تباہ کن سیلاب کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 40 سے تجاوز کر گئی ہے، جبکہ متعدد افراد اب بھی لاپتا ہیں۔ اقوام متحدہ نے بتایا ہے کہ امدادی اور ریسکیو کارروائیاں بدستور جاری ہیں، تاہم متاثرہ علاقوں میں خوراک، صاف پانی، رہائش اور طبی سہولیات کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے نیوز بریفنگ میں بتایا کہ حالیہ سیلاب نے نورستان میں گھروں، سرکاری عمارتوں اور تجارتی مراکز کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریسکیو ٹیمیں لاپتا افراد کی تلاش میں مصروف ہیں، جبکہ ہلاکتوں اور نقصانات کی تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔
Las devastadoras inundaciones que
azotan la provincia oriental de Nuristan han dejado un saldo
preliminar de al menos 20 muertos, 80 heridos y más de 100
personas desaparecidas, incluido el alcalde de la capital
provincial de Parun. pic.twitter.com/f2pXZ5kCgA
— Guillermo Gomez (@G_GomezJ) July 22, 2026
اقوام متحدہ کے مطابق متاثرہ علاقوں میں موبائل ہیلتھ ٹیمیں تعینات کر دی گئی ہیں، طبی مراکز کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے اور خوراک، ادویات اور دیگر ہنگامی امدادی سامان کی فراہمی کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے۔ عالمی ادارے کا کہنا ہے کہ متاثرین کو فوری طور پر عارضی رہائش، خوراک، طبی سہولیات، بنیادی استعمال کی اشیا اور نفسیاتی معاونت کی ضرورت ہے۔
دوسری جانب عالمی ادارہ برائے مہاجرت (آئی او ایم) نے کہا ہے کہ اچانک آنے والے سیلاب سے گھروں اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے، جس کے باعث متعدد خاندان کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ادارے کے مطابق کئی متاثرہ علاقوں میں لوگوں کو پینے کے صاف پانی اور خوراک تک رسائی حاصل نہیں، جبکہ امدادی ٹیمیں نقصانات کا جائزہ لے کر فوری امداد کی فراہمی کی تیاری کر رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:افغانستان میں قیامت خیز سیلاب، 23 افراد جاں بحق، 100 لاپتا
طالبان حکام نے ابتدائی طور پر ہلاکتوں کی تعداد 23 بتائی تھی اور کہا تھا کہ 100 سے زائد افراد لاپتا جبکہ 80 زخمی ہیں، تاہم اقوام متحدہ اور دیگر ذرائع کے مطابق اب ہلاکتیں 40 سے بڑھ چکی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ریسکیو اور نقصانات کے تخمینے کا عمل جاری ہے، اس لیے اعداد و شمار میں مزید تبدیلی آ سکتی ہے۔
آئی او ایم نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان حالیہ برسوں میں موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث قدرتی آفات کا زیادہ شکار ہو رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی اور ’ایل نینو‘ جیسے موسمی عوامل شدید بارشوں اور اچانک سیلاب کے خطرات میں اضافہ کر رہے ہیں، جبکہ افغانستان کی جغرافیائی اور معاشی کمزوری اسے ایسی آفات کے لیے مزید حساس بناتی ہے۔ عالمی ادارے نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ متاثرہ آبادی کو ہنگامی امداد کی فراہمی میں افغان حکام کی معاونت جاری رکھے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
افغانستان سیلاب نورستان