WE News:
2026-07-24@07:58:54 GMT

کیا برطانیہ فلسطینی ریاست کو باقاعدہ تسلیم کرنے والا ہے؟

اشاعت کی تاریخ: 29th, July 2025 GMT

کیا برطانیہ فلسطینی ریاست کو باقاعدہ تسلیم کرنے والا ہے؟

برطانیہ کے وزیراعظم کیر اسٹارمر فلسطینی ریاست کو باقاعدہ طور پر تسلیم کرنے پر غور کررہے ہیں، دو سینئر حکومتی عہدیداروں نے پیر کو اس بات کی تصدیق کی جس کے پیچھے غزہ میں بڑھتی ہوئی انسانی بحران اور عوامی دباؤ کا بڑا ہاتھ ہے۔

یہ پیشرفت برطانوی خارجہ پالیسی میں ایک اہم تبدیلی کی علامت ہے، کیونکہ 250 سے زائد ارکان پارلیمنٹ بشمول حکومتی جماعت لیبر پارٹی کے کچھ ارکان نے حکومت سے فلسطین کو تسلیم کرنے کی اپیل کی ہے۔ یہ مطالبہ اس ہفتے ایک اہم اقوام متحدہ کی کانفرنس سے قبل سامنے آیا ہے، جو دو ریاستی حل کو دوبارہ زندہ کرنے پر مرکوز ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان علما کونسل کا اقوام متحدہ میں فلسطینی ریاست کے قیام سے متعلق کانفرنس کی تائید کا اعلان

حکومتی ذرائع کے مطابق کیراسٹارمر کی کابینہ غزہ میں قحط اور شہریوں کی اموات کے بعد اس معاملے پر سنجیدگی سے غور کررہی ہے، جہاں اسرائیلی پابندیوں کی وجہ سے انسانی امداد کی ترسیل میں شدید مشکلات پیش آرہی ہیں۔ قحط سے متاثر بچوں کی تصاویر اور عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی بے چینی نے حکومتی افسران کے خیالات کو متاثر کیا ہے۔

برطانوی وزیراعظم نے ماضی میں فلسطینیوں کے خود مختاری کے حق کی حمایت کی تھی، لیکن ابھی تک فلسطین کو فوری طور پر تسلیم کرنے سے گریز کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ فلسطین کو الگ ریاست تسلیم کرنا ’ایک سطحی قدم‘ہوگا جو اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے مذاکرات میں رکاوٹ ڈال سکتا ہے۔

ان کے خیال میں فلسطین کو الگ ریاست تسلیم صرف اس صورت میں کیا جانا چاہیے جب یہ دو ریاستی حل اور فلسطینیوں و اسرائیلیوں کے لیے مستقل سیکیورٹی کا حصہ ہو۔

یہ بھی پڑھیں: اقوام متحدہ میں عالمی کانفرنس کی تیاریاں، سعودی عرب فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے سرگرم

تاہم برطانوی وزیر اعظم پر سیاسی دباؤ بڑھ رہا ہے، ان کی کابینہ کے کئی ارکان فلسطین کو تسلیم کرنے کی حمایت کررہے ہیں۔ اس حوالے سے اس ہفتے ایک ہنگامی کابینہ اجلاس بھی طلب کیا گیا ہے، جس سے حکومتی سنجیدگی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

وزیراعظم اسٹارمر نے اس معاملے کو اسکاٹ لینڈ میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے دوران بھی اٹھایا۔ ٹرمپ نے فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون کی فلسطین کو تسلیم کرنے کی حالیہ کوشش کو ’اثر سے خالی‘ قرار دیا، لیکن برطانیہ کے اس فیصلے پر تنقید کرنے سے گریز کیا۔

اسٹارمر نے ٹرمپ سے اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کی اپیل کی تاکہ غزہ میں امداد کی ترسیل میں رکاوٹوں کو دور کیا جاسکے۔ سابق امریکی صدر نے اس بات کی حمایت کی کہ برطانیہ اور دیگر یورپی ممالک کے ساتھ مل کر غزہ میں خوراک کی تقسیم کے مراکز قائم کیے جائیں۔

اسٹارمر کا موقف ان کے قانونی پس منظر اور بین الاقوامی بحرانوں سے نمٹنے کی سیاسی حقیقتوں کے درمیان توازن کی عکاسی کرتا ہے۔ تاہم، ناقدین کا کہنا ہے کہ فلسطین کو فوری طور پر تسلیم کرنا جلدبازی ہوگی اور اس سے برطانیہ کی عالمی سطح پر اثر و رسوخ پر منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: برطانوی رکنِ پارلیمان کا اپنے ملک سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا مطالبہ

دوسری جانب، اس قدم کی حمایت کرنے والوں کا خیال ہے کہ برطانیہ کی تاریخی ذمہ داری ہے کہ وہ فلسطین کو تسلیم کرے اور غزہ میں جاری انسانی المیے پر عالمی توجہ مرکوز کرے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news امریکا برطانیہ ڈونلڈ ٹرمپ فلسطین وزیراعظم.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امریکا برطانیہ ڈونلڈ ٹرمپ فلسطین فلسطین کو تسلیم فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کی حمایت

پڑھیں:

ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی

ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔

متعلقہ مضامین

  • مغربی کنارے میں اسرائیلی فورسز اور آبادکاروں کا دھاوا، 4 فلسطینی شہید
  • پاسدارانِ انقلاب کی دھمکی پر برطانیہ کا بھی سخت ردعمل آگیا
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف
  • کراچی: 6 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی کرنے والا ملزم پولیس مقابلے میں مارا گیا
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری