کراچی:

ایشین کرکٹ کونسل کی جانب سے ایشیا کپ 2025 کے شیڈول کے اعلان کے بعد بھارت میں ہنگامہ برپا ہوگیا۔

بھارتی ایوانوں سے لے کر میڈیا تک ہر جانب مودی سرکار سے ٹورنامنٹ کے بائیکاٹ کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔

بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ ایشیا کپ میں پاکستان کے ساتھ کھیلنے کا فیصلہ بی سی سی آئی کی بزدلی اور بے شرمی ہے۔

بھارتی میڈیا نے بی سی سی آئی پر قومی جذبات پر کاروباری مفادات کو ترجیح دینے کا الزام لگایا اور سوال کیا کہ موجودہ صورتحال میں پاکستان کے خلاف میچ پر غور کیوں کیا گیا؟۔

بھارتی میڈیا نے مؤقف اپنایا ہے کہ بھارت کو پاکستان کے ساتھ نہیں کھیلنا چاہیے اور اگر بھارت شرکت نہ کرے تو ٹورنامنٹ ممکن ہی نہیں۔

 اپوزیشن جماعتوں نے بھی مودی حکومت پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ جب پاکستان سے تجارت بند ہے تو کرکٹ کی اجازت کیوں؟۔

چند روز قبل ہی بھارتی لیجنڈ کرکٹرز نے پاکستان چیمپئنز کے خلاف میچ کھیلنے سے انکار کیا تھا جس کے بعد اب ایشیا کپ میں پاک بھارت ٹاکرے پر رضامندی پر بی سی سی آئی کو شدید تنقید کا سامنا ہے۔

 سوشل میڈیا پر "بائیکاٹ ایشیا کپ" ٹرینڈ کررہا ہے اور بھارتی شائقین بورڈ پر قومی جذبات کو نظر انداز کرنے کا الزام لگا رہے ہیں۔

بی سی سی آئی پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ کھیلنے سے متعلق واضح پوزیشن اختیار کرے۔

یاد رہے کہ ایشیا کپ کا انعقاد 9 سے 28 ستمبر تک متحدہ عرب امارات میں ہوگا جہاں پاکستان اور بھارت 14 ستمبر کو آمنے سامنے ہوں گے۔

گروپ اے میں بھارت، پاکستان، یو اے ای اور عمان کو رکھا گیا ہے، جبکہ گروپ بی میں سری لنکا، بنگلہ دیش، افغانستان اور ہانگ کانگ شامل ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: بھارتی میڈیا پاکستان کے ایشیا کپ

پڑھیں:

ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی

امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔

رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔

خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔

اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔

ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔

یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی