مسئلہ کشمیر پاکستان کا قومی کاز‘ حل کئے بغیر ایشیا میں امن ناممکن: قاسم نون
اشاعت کی تاریخ: 29th, July 2025 GMT
لاہور (نیوز رپورٹر) چیئرمین پارلیمانی کشمیر کمیٹی رانا محمد قاسم نون نے کہا کہ مسئلہ کشمیر پاکستان کا قومی کاز ہے، کشمیر کے بغیر پاکستان ادھورا ہے، مسئلہ کشمیر حل کئے بغیر جنوبی ایشیا میں امن کا قیام نا ممکن ہے۔ اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں کشمیریوں کا موقف جاندار انداز میں پیش کرنے پر وزیراعظم محمد شہباز شریف کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر کے انجینئرڈ الیکشن کے باوجود مودی اور بی جے پی کو بد ترین شکست ہوئی۔ جلد کشمیر میں آزادی کا سورج طلوع ہو گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پی آئی ڈی لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ آئے روز کشمیریوں پر بھارتی مظالم کا سلسلہ بڑھتا جا رہا ہے، ہندوستانی جارحیت کی مذمت کرتے ہیں۔ کشمیر پاکستان کی شہ رگ اور پاکستان کشمیریوں کا دل ہے۔ کشمیر مذہبی، اخلاقی، سیاسی اور جغرافیائی لحاظ سے پاکستان سے مطابقت رکھتا ہے۔ جموں و کشمیر پاکستان کا حصہ ہے اور رہے گا کیونکہ پاکستان کشمیر کے بغیر ادھورا ہے۔ پوری قوم سید علی گیلانی، شبیر احمد شاہ، یاسین ملک و دیگر رہنمائوں کی جدوجہد آزادی کو سلام پیش کرتی ہے۔ عالمی برادری کو مقبوضہ کشمیر اور غزہ میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کا فوری نوٹس لینا چاہئے۔ اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں کشمیریوں کا موقف جاندار انداز میں پیش کرنے پر وزیراعظم محمد شہباز شریف کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: کشمیر پاکستان
پڑھیں:
آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے آزاد جموں و کشمیر میں ترقیاتی، تعلیمی، صحت، توانائی، مواصلات اور بنیادی ڈھانچے کے مختلف منصوبوں کے لیے 54 ارب 17 کروڑ 37 لاکھ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق جاری ترقیاتی منصوبوں کے لیے 43 ارب 10 کروڑ 54 لاکھ روپے جبکہ نئے منصوبوں کے لیے 3 ارب 94 کروڑ 45 لاکھ روپے سے زائد فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ آزاد کشمیر بلاک ایلوکیشن کے لیے 33 ارب روپے اور وزیراعظم کے خصوصی ترقیاتی پیکج کے لیے 5 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں تعلیمی شعبے کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ آزاد کشمیر کے چار اضلاع میں دانش سکولوں کے قیام اور توسیع کے منصوبوں کے لیے 6 ارب 27 کروڑ روپے سے زائد فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔ ضلع باغ کے ہاڑی گہل میں دانش سکول کے لیے 2 ارب 14 کروڑ روپے، بھمبر میں 60 کروڑ روپے، وادی نیلم کے شاردا میں ایک ارب 55 کروڑ روپے جبکہ حویلی کہوٹہ میں دانش سکول کے قیام کے لیے 2 ارب 9 کروڑ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
توانائی کے شعبے میں جگراں-II ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے ایک ارب 14 کروڑ 94 لاکھ روپے، شاردا-II منصوبے کے لیے 10 کروڑ روپے اور نگدر ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے 30 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ دواریاں ہائیڈرو پاور منصوبہ بھی ترقیاتی پروگرام میں شامل ہے۔
بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کمپلیکس، رٹھوعہ ہریام پل اور نوسیری لیسوا بائی پاس روڈ سمیت متعدد منصوبوں کے لیے فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
صحت کے شعبے میں میرپور، مظفرآباد اور راولاکوٹ کے میڈیکل کالجوں کے انفراسٹرکچر اور سہولیات کی بہتری کے لیے کروڑوں روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ میرپور واٹر سپلائی و سیوریج اسکیم، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور ایل او سی متاثرین کی بحالی کے منصوبوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
دستاویزات کے مطابق آزاد کشمیر میں لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن، آسان خدمت مرکز مظفرآباد، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی استعداد کار میں اضافے اور گورنمنٹ کالجز آف ٹیکنالوجی کے قیام کے منصوبوں کے لیے بھی فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔
حکومت نے آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں تعلیم، صحت، توانائی، سڑکوں کے انفراسٹرکچر اور شہری سہولیات کے منصوبوں کو خصوصی ترجیح دی ہے۔