رجب طیب ایردوان مسلم دنیا کے مضبوط و جرات مند رہنما ء،ہر فورم پر فلسطینیوں ،امت مسلمہ کے حقوق کیلئے آواز بلند کی، عطاء تارڑ
اشاعت کی تاریخ: 28th, July 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 28 جولائی2025ء) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ رجب طیب ایردوان مسلم دنیا کے مضبوط، بااصول اور جرتمند رہنما ہیں جنہوں نے نہ صرف ترکیہ کی تعمیر و ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا بلکہ امت مسلمہ کی آواز کو ہر عالمی فورم پر موثر انداز میں بلند کیا، ان کے دور قیادت میں پاکستان اور ترکیہ کے درمیان برادرانہ تعلقات مزید مستحکم ہوئے۔
غزہ اور فلسطین کے مسلمانوں کی آواز ہر فورم میں اٹھانے پر رجب طیب ایردوان کو سلام پیش کرتے ہیں۔ وہ پیر کے روز ادارہ فروغ قومی زبان میں معروف محقق، سینئر صحافی اور ترکیہ ریڈیو اینڈ ٹیلی ویژن کی اردو سروس کے سربراہ ڈاکٹر فرقان حمید کی کتاب رجب طیب ایردوان ۔(جاری ہے)
عالم اسلام کا ٹائیگر کی تقریب رونمائی سے خطاب کر رہے تھے۔ تقریب میں ترکیہ، آذربائیجان، ترکمانستان، قازقستان، ازبکستان اور روانڈا کے معزز سفرا، معروف محقق ڈاکٹر فرقان حمید، ممتاز صحافیوں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے شرکت کی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ رجب طیب ایردوان کی قیادت اور خدمات پر لکھی گئی اس کتاب کی تقریب رونمائی میں شرکت میرے لئے باعث اعزاز ہے۔ صدر ایردوان کی عوامی قیادت، بصیرت اور فلاحی وژن نے انہیں صرف ترکیہ ہی نہیں بلکہ مسلم دنیا کا قائد بنا دیا ہے۔ انہوں نے جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی کو ایک ایسی جماعت میں تبدیل کیا جو عوام سے جڑی ہوئی ہے اور جس کی جڑیں معاشرے کی بنیادوں تک پھیلی ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ استنبول کے میئر کے طور پر صدر ایردوان کا دور سنہری دور کہلاتا ہے جہاں انہوں نے اعلی انتظامی صلاحیتوں اور موثر طرز حکمرانی کی مثال قائم کی۔ انہوں نے کہا کہ استنبول تہذیبی اور تاریخی شہر ہے جہاں مشرق و مغرب ملتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ رجب طیب ایردوان جیسا عوامی رہنما جب نچلی سطح سے ابھرتا ہے تو وہ عوام کے دلوں سے جڑ کر قیادت کرتا ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ صدر ایردوان پاکستان کے عظیم دوست ہیں، ان کے دور میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون میں عملی وسعت آئی، شہباز شریف جب وزیراعلی پنجاب تھے تو اس دور میں ترکیہ کے تعاون سے لاہور میٹرو بس اور ویسٹ مینجمنٹ سمیت کئی منصوبے مکمل ہوئے جو اس دوستی کی عملی مثالیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان تعلقات تاریخی اور برادرانہ نوعیت کے ہیں۔ خلافت تحریک اس دوستی کا نقطہ آغاز ہے، 1947 سے پہلے ہی برصغیر کے مسلمان ترک بھائیوں سے جڑے ہوئے تھے۔ یہ ایک ایسی دوستی ہے جو سرحدوں سے ماورا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترکیہ نے ہمیشہ پاکستان کے موقف کی کھل کر حمایت کی ہے، بھارت کے ساتھ حالیہ کشیدگی کے دوران ترک عوام نے پاکستانی عوام سے جس محبت اور یکجہتی کا اظہار کیا وہ قابل تحسین ہے۔ انہوں نے کہا کہ قدرتی آفات ہوں، عالمی چیلنجز یا سیاسی بحران، ہر مشکل گھڑی میں ترکیہ پاکستان کے ساتھ کھڑا رہا ہے۔ انہوں نے صدر ایردوان کی طرف سے فلسطین کے مظلوم عوام کے لئے اٹھائی گئی آواز کو جرات مندانہ اور تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ صدر رجب طیب ایردوان نے پناہ گزینوں کے لئے ہمیشہ دروازے کھولے، پاکستان خود مہاجرین کے تجربے سے گذرا ہے اور ہمیں معلوم ہے کہ دوسروں کے لئے دروازے کھولنا کتنا اہم ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر ایردوان نے فلسطینیوں کے لئے ہر بین الاقوامی پلیٹ فارم پر آواز بلند کی چاہے وہ اقوام متحدہ ہو، ڈی ایٹ سربراہ اجلاس ہو یا شنگھائی تعاون تنظیم۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی بربریت دنیا کے سامنے ہے، فلسطینیوں کیلئے انسانی امداد کو روکنا ایک انسانیت سوز المیہ ہے۔ پاکستان نے نہ صرف فلسطینی عوام کیلئے انسانی امداد بھجوائی بلکہ فلسطینی طلبا کو میڈیکل کالجوں میں تعلیم کے مواقع بھی فراہم کئے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے ہر فورم پر فلسطینیوں کیلئے آواز بلند کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر ایردوان کو پاکستان میں بے پناہ محبت، عزت اور محبت حاصل ہے اور یہ یہ کتاب صدر ایردوان کی بصیرت افروز قیادت، فلاحی وژن اور امت مسلمہ کے لئے ان کے کردار کو خراج تحسین ہے۔ پاکستان اور ترکیہ کے عوام دل کے رشتے میں بندھے ہوئے ہیں اور یہ تعلق وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہوا ہے۔ قبل ازیں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کتاب کے مصنف، سینئر صحافی اور ٹی آر ٹی اردو سروس کے سربراہ ڈاکٹر فرقان حمید نے کہا کہ صدر رجب طیب ایردوان ایک ایسی غیر معمولی شخصیت ہیں جنہوں نے ترکیہ ہی نہیں بلکہ پوری امت مسلمہ کی قیادت کا حق ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایردوان کی جدوجہد، فلاحی وژن اور عوامی خدمت پر مبنی سیاسی سفر صرف ترکیہ کی تاریخ نہیں بلکہ مسلم دنیا کے لیے ایک تحریک ہے۔ ڈاکٹر فرقان حمید نے کہا کہ ایردوان کی قیادت میں ترکیہ نے دفاعی خودکفالت، اقتصادی استحکام اور جمہوریت کے تحفظ جیسے میدانوں میں تاریخی کامیابیاں حاصل کیں۔ انہوں نے کہا کہ ایردوان کی شخصیت صرف ترکیہ تک محدود نہیں بلکہ ان کی فکر، نظریہ اور جرات مندانہ مقف پوری امت کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ ڈاکٹر فرقان حمید نے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان روحانی، تاریخی اور برادرانہ تعلق استوار ہے۔ صدر ایردوان کی کاوشوں سے پاکستان اور ترکیہ کے درمیان بڑھتی ہوئی قربت، روحانی ہم آہنگی، دفاعی تعاون اور ثقافتی یگانگت کو بھی اس کتاب میں بڑے دلنشیں انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کتاب میں ایردوان اور پاکستان کے درمیان قائم دل و جاں کے تعلق کا بھی خوبصورت تذکرہ ہے۔ صدر ایردوان نے نہ صرف پاکستانی قیادت بلکہ عوام کے ساتھ بھی روحانی تعلق قائم کیا ہے۔ ان کی تقاریر میں علامہ اقبال کی شاعری کا حوالہ دینا، دراصل پاکستان سے ان کی والہانہ عقیدت کا ثبوت ہے۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے پاکستان اور ترکیہ کے درمیان ڈاکٹر فرقان حمید رجب طیب ایردوان انہوں نے کہا کہ صدر ایردوان کی نے کہا کہ صدر پاکستان کے مسلم دنیا صرف ترکیہ نہیں بلکہ میں ترکیہ بلند کی کے ساتھ دنیا کے کے لئے
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔