ایران پر اسرائیلی حملے کے نتیجے میں ہونیوالے جانی نقصان کی تفصیلات سامنے آگئیں
اشاعت کی تاریخ: 13th, June 2025 GMT
ایران پر اسرائیلی حملے کے نتیجے میں ہونیوالے جانی نقصان کی تفصیلات سامنے آگئیں WhatsAppFacebookTwitter 0 13 June, 2025 سب نیوز
تہران: ایران پر اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں ہونے والے جانی نقصانات کی تفصیلات سامنے آگئی۔ایرانی کی نیم سرکاری مہر نیوز ایجنسی کے مطاب اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں ایران میں 78 افراد جاں بحق جبکہ 329 زخمی ہوئے۔خبررساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی حملوں میں تہران کے رہائشی علاقوں کو بھی نشانہ بنایا۔
دوسری جانب اسرائیلی حملوں میں شہید ہونے والے فوجی عہدیداروں اور ایٹمی سائنسدانوں کے نام بھی جاری کردیے گئے ہیں۔ایرانی میڈیا کے مطابق شہید فوجی عہدیداروں میں پاسداران انقلاب کے سربراہ میجر جنرل حسین سلامی، پاسداران انقلاب کے سابق سربراہ محمد حسین افشردی عرف محمد باقری، پاسداران انقلاب فضائی فورس کے سربراہ امیر علی حاجی زادے اور پاسداران انقلاب خاتم الانبیا ہیڈکوارٹر کے سربراہ غلام علی رشید شامل ہیں۔اسرائیلی حملوں میں شہید ہونے والے ایرانی جوہری توانائی پروگرام سے وابستہ سائنسدانوں میں احمد رضا ذوالفقاری دریانی، فریدون عباسی، محمدمہدی تہرانچی، عبدالحمیدمنوچہر اور امیر حسین فقہی شامل ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرخطے میں سیکیورٹی صورتحال کے باوجود پاکستانی فضائی حدود مثر استعمال ہو رہی ہے، حکام خطے میں سیکیورٹی صورتحال کے باوجود پاکستانی فضائی حدود مثر استعمال ہو رہی ہے، حکام سی ڈی اے میں تقرری و تبادلے کی ہوا،، ڈائریکٹر سیکورٹی کو ڈائریکٹر انفورسمنٹ کا اضافی چارج دیدیا گیا،، مزید تقرری و تبادلے کی... ڈائریکٹر انفورسمنٹ افتخار علی حیدری ایک بار پھر معطل،، دستاویز سب نیوز پر ۔۔۔۔ ایران میں کتنے پاکستانی زائرین موجود ہیں؟ وزارت خارجہ کی ایران، عراق کے سفر پر نظرثانی کی ہدایت بینک سے کیش نکالنے پر کتنا ٹیکس ادا کرنا ہوگا؟ ایف بی آر کی قائمہ کمیٹی کو بریفنگ ایران، اسرائیل کشیدگی کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: کے نتیجے میں
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔