عمران خان کی 8 مقدمات میں ضمانت کی درخواستیں سماعت کیلئے مقرر
اشاعت کی تاریخ: 14th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور: ہائیکورٹ نے بانئ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی ) اور سابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے 9 مئی کے پرتشدد مظاہروں کے سلسلے میں درج 8 مقدمات میں دائر ضمانت کی درخواستوں کو باقاعدہ سماعت کے لیے منظور کرلیا ہے۔
لاہور ہائیکورٹ میں جسٹس سید شہباز علی رضوی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے 16 جون کو بانئ پاکستان تحریک انصاف اور سابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے 9 مئی کے پرتشدد مظاہروں کے سلسلے میں درج 8 مقدمات میں دائر ضمانت کی درخواستوں پر سماعت کرے گا۔ رجسٹرار آفس نے کاز لسٹ جاری کرتے ہوئے متعلقہ وکلا کو دلائل کے لیے طلب کر لیا ہے۔
عمران خان نے یہ ضمانت کی درخواستیں اپنے قانونی نمائندے بیرسٹر سلمان صفدر کے توسط سے دائر کی ہیں، جن میں جناح ہاؤس، عسکری ٹاور اور دیگر مقامات پر ہونے والے جلاؤ گھیراؤ کے مقدمات بھی شامل ہیں۔
درخواست گزار کا مؤقف ہے کہ ان کا ان پرتشدد کارروائیوں سے کوئی تعلق نہیں اور ان مقدمات میں سیاسی انتقام کی بنیاد پر نامزد کیا گیا ہے۔ عمران خان کی جانب سے یہ بھی مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ٹرائل کورٹ نے حقائق کو نظر انداز کرتے ہوئے ضمانت کی درخواستیں مسترد کیں، لہٰذا اعلیٰ عدالت بعد از گرفتاری ضمانت منظور کرے۔
عدالت کے آئندہ سماعت میں اہم قانونی نکات پر دلائل دیے جانے کی توقع ہے، جو ان مقدمات کی آئندہ کی کارروائی کے لیے فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: عمران خان کی مقدمات میں ضمانت کی
پڑھیں:
کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار مقرر کرنے کی سفارش
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے آئندہ مالی سال کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش کر دی۔
نجی ٹی وی چینل ہم نیوز کے مطابق پائیڈ نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شواہد پر مبنی فریم ورک رپورٹ تیار کرلی، کم از کم اجرت 40 ہزار سے بڑھا کر 45 ہزار روپے کرنے کی تجویز دی گئی ہے، اس طرح تنخواہوں میں 12.5 فیصد اضافہ ممکن ہوگا۔
رپورٹ کے مطابق کم از کم ماہانہ تنخواہ میں 12.5 فیصد اضافے سے کم آمدنی والے طبقے کی قوتِ خرید بہتر ہوگی اور انہیں مہنگائی کے اثرات سے تحفظ مل سکے گا۔ پائیڈ کا کہنا ہے کہ اجرتی پالیسی کا اثر غربت، روزگار، گھریلو طلب اور مقامی معیشت پر براہِ راست پڑتا ہے، اس لیے کم از کم اجرت کا معاملہ اب صرف لیبر ڈیپارٹمنٹ تک محدود نہیں رہا۔
اے این پی نے سوشل میڈیا پر مذہبی اشتعال انگیز مہم کیخلاف این سی سی آئی اے میں درخواست جمع کرادی
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جولائی تا اپریل مالی سال 2025-26 کے دوران اوسط افراطِ زر 6.19 فیصد رہی، جبکہ اپریل 2026 میں سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی شرح 10.9 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
پائیڈ نے زور دیا ہے کہ اجرتوں کو مہنگائی اور موجودہ معاشی حقائق کے مطابق بنایا جائے تاکہ سماجی استحکام، غربت میں کمی اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ کو یقینی بنایا جا سکے۔