اسلام آباد (اپنے سٹاف رپورٹر سے)قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں وفاقی بجٹ پر بحث کے دوران وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ جن مسلمان ممالک کے اسرائیل سے تعلقات ہیں وہ منقطع کر دیں او آئی سی کا فوراً اجلاس بلایا جائے۔ زیادہ تر مسلمان ممالک فوجی لحاظ سے بہت کمزور ہیں۔ جس طرح فلسطینی بچوں کو شہید کیا گیااس پر غیرمسلموں کے ضمیر جاگ رہے ہیں۔ جب بھارت نے ہم پر حملہ کیا تو ہم نے اپنے سے پانچ گنا بڑے دشمن کو مٹی میں رول دیاہماری افواج اور عوام نے بھارت کے غرور کو مٹی میں ملا کر رکھ دیاپاکستان کے چپے چپے کا دفاع کریں گے انہوں نے کہا کہ ایران میں ان کی ایٹمی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا اس میں اسرائیل اکیلا نہیں ہے اسے ہر قسم کا کور فراہم کیا گیا۔ اسرائیل نے یمن اور فلسطین کے بعد ایران کو ٹارگٹ بنا یا ہے مسلم امہ کو موجودہ حالات میں متحد ہونا پڑے گا لیکن اگر مسلم امہ متحد نہ ہوئی تو سب کی باری آئے گی۔ مسلم ممالک کے پاس اسلحہ اپنی جگہ مگر اسرائیل سے  الگ الگ لڑنے کی سکت نہیں غزہ میں بچے شہید کئے جارہے ہیں مگر مسلمان ممالک کی اکثریت خاموش ہے۔ ہماری افواج اور عوام نے بھارت کا غرور کو مٹی میں ملا کر رکھ دیا ایران ایٹمی مذاکرات میں مصروف ہے مذاکرات میں مصروف ہوتے ہوئے اس پر حملہ کیا گیا‘ پاکستان روز اول سے اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے پر کھڑا ہے کچھ سالوں سے کچھ پاکستانی اسرائیل گئے پاکستانی کیسے اسرائیل گئے کس نے بھیجا کس نے سپانسر کیا اس معاملے میں نہیں جانا چاہتا صیہیونیت سے اس وقت ساری دنیا کو خطرہ لاحق ہوچکا ہے سارے یہودیوں کو اس ظلم کا ذمہ دار نہیں سمجھتا‘ حال میں بنیان مرصوص ہوا سال 2019ء اپریل میں جب  ابھی نندن والا واقعہ ہوا اس وقت کے وزیر اعظم کو جنرل باجوہ نے اپوزیشن کے ساتھ بٹھانے کی کوشش کی مگر وہ نہ مانے ابھی نندن کو واپس کرکے سرنڈر کیا گیا پاک فضائیہ کی کامیابی کو اس وقت خاک میں ملا دیا گیا اس وقت جنرل باجوہ کے بارے میں سپیکر صاحب بارے ماتھے پر پسینہ اور ٹانگیں کانپ رہی تھیں والا الزام بھی آیا لیکن ابھی حال میں جب پاک بھارت جنگ ہوئی تو وزیر اعظم سمیت سب ایک سوچ اور عزم سے کھڑے تھے ہماری فضائیہ نے وہ کمال کردکھایا کہ بنانے والے پوچھنے پر مجبور ہوگئے ہمارے سائبر جنگجوئوں نے وہ کمال کرکے دکھایا کہ دنیا دیکھتی ہی رہ گئی بھارت کے ڈیم خود بخود بہنا شروع ہوگئے اور آئی پی ایل کی روشنیاں بند ہوگئیں بھارت کا نظام زمین بوس کردیا ہمارے سائبر جنگجوؤں نے دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا تھا خواجہ محمد آصف نے کہا کہ جہاں تک بجٹ کا تعلق ہے ہمارے وزیر خزانہ نے مائنس سے جی ڈی پی کو 2.

7 فیصد تک پہنچا دیا ہے مہنگائی 2023ء میں کہاں تھی آج کہاں تک نیچے آچکی ہے ہماری حکومت نے دنیا کو اعتماد دیا ہے انہوں نے کہا کہ تمباکو سیکٹر میں سالانہ 300 ارب ٹیکس چوری ہوتا ہیسیلز ٹیکس کی مد میں سالانہ اربوں ٹیکس چوری ہوتی ہیایف بی آر نے ریکوریوں میں کوانٹم جمپ لیا ہے ٹیکس وصولی بہتر ہونے پر ملک کو بیرونی قرضے کی ضرورت نہیں ہے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا کہ کون لوگ تھے جنہوں نے آئی ایم ایف کو خط لکھے کہ پاکستان کو قرضہ نہ دیا جائے ایشو ضرور بنائیں لیکن ایک شخص کو ساری سیاست کا محور بنا دینا درست نہیں۔ مہنگائی بالکل ہے لیکن بڑھنے کی شرح کہاں سے کہاں نیچے آگئی ہم ان مسائل سے نکل رہے ہیں سٹاک مارکیٹ ایک لاکھ 25ہزار پوائنٹس تک پہنچی۔ آئی ایم ایف کو کس نے پاکستان کو دیوالیہ ہونے کے لئے خط کس نے لکھے تھے۔ ہم نے حکومت سنبھالی تو معیشت کچرا تھی یہ پیری فقیری نہیں کہ گدی نشینی مل جائے گی جب چند ہفتے پہلے جنگ کے بادل منڈلا رہے تھے تو کہا گیا تیل جہازوں کو اڑانے کے لیے نہیں ان کی خواہش تھی کہ ہمیں اندر سے تو مار نہیں پڑ سکی شاید باہر سے پڑ جائے کل بھی ہم مکمل مسلح تھے آج بھی مسلح ہیں وزیر دفاع نے کہا کہ تیل و اسلحہ کل بھی تھا آج بھی ہے یہ تو سوشل میڈیا پر افواج کو گالیاں دیتے رہے پاک فضائیہ نے جنگی تاریخ رقم کردی مودی کو اتنی جوتیاں بھارت میں پڑ رہی ہیں اتنی تو شائد ہم نے بھی نہیں ماری تھیں جب بھارت ہم پر حملہ آور ہورہا تھا تو یہ بتائیں کس کے ساتھ کھڑے تھے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا کہ بھارت نے پانیوں میں بڑھنے کی کوشش کی مگر بحریہ کی تیاری دیکھ کر اسے پیچھے بھاگنا پڑا ہم نے آہنی دیوار بن کر دکھا دیا ٹی ٹی پی ہو بی ایل اے بھارت کے ایجنٹ ہیں اگر کوئی ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کے لئے ذرا سی بھی ہمدردی رکھتا ہے تو وہ پاکستانی نہیں ہے ان کی طرح ایک شخص کے لئے سب کچھ کرنے سے قومیں نہیں بنتیں خواجہ آصف کی تقریر کے دوران پی ٹی آئی ارکان نے شور واویلا بھی کیا۔

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: خواجہ محمد ا صف نے وزیر دفاع نے کہا کہ کیا گیا

پڑھیں:

سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ

اسلام آباد:

اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

جسٹس انعام امین منہاس نے درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار کی جانب سے بیرسٹر ظفر اللہ جبکہ اسسٹنٹ اٹارنی جنرل، ایف آئی اے اور امیگریشن حکام بھی عدالت پیش ہوئے۔ عدالتی ہدایت پر بیرسٹر ظفر اللہ نے کوئٹہ پولیس کا خط پڑھا۔

جسٹس انعام امین منہاس نے استفسار کیا کہ متعلقہ پولیس کہہ رہی ہے بندہ نہیں چاہیے، ایف آئی اے کو بھی مطلوب نہیں، جن کو چاہیے تھا ان کو بھی اب نہیں چاہیے، پھر ابھی تک نام کیوں نہیں نکالا؟

ایف آئی اے حکام نے جواب دیا کہ ای سی ایل میں نام نہیں ہے، صرف پی این آئی لسٹ میں نام ہے جو 28 مارچ کو ڈالا گیا۔

عدالت نے استفسار کیا کہ اس لسٹ میں نام کتنے دن کے لیے ہوتا ہے اور کب مکمل ہوئی؟ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ ایک ماہ کے لیے ہوتا ہے اور پھر ایک ماہ کی توسیع لینا ہوتی ہے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ زیادہ سے زیادہ 60 روز رکھ سکتے ہیں تو اب جولائی ہے، کتنے ماہ ہوگئے ہیں؟ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ 5 ماہ ہوگئے، ابھی تک ہمیں آفیشلی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

عدالت نے ایف آئی اے افسر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اتنے وقت کیسے آپ رکھ سکتے ہیں، کس قانون کے تحت ابھی تک رکھا ہوا ہے۔ جسٹس راجہ انعام امین نے ریمارکس دیے کہ ایسے کتنے ہی کیسز ہمارے پاس آرہے ہیں، کتنی بار لکھ بھی چکے ہیں، سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی ہے۔

عدالت نے سردار یار محمد رند کی سفری پابندی لسٹ سے نام نکالنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

متعلقہ مضامین

  • سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • پاسدارانِ انقلاب کی دھمکی پر برطانیہ کا بھی سخت ردعمل آگیا
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم