مکہ مکرمہ کے ممتاز نجی عجائب گھروں میں شامل العمودی میوزیم، شہر کے ثقافتی و تاریخی ورثے کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ میوزیم نہ صرف قدیم اسلامی اور حجاز کی روایات کا امین ہے بلکہ اسے مکہ کی تہذیبی ترقی کا جیتا جاگتا ثبوت بھی کہا جا سکتا ہے۔

العمودی میوزیم کا قیام اور تاریخ

العمودی میوزیم کی بنیاد 1422 ہجری میں معروف مقامی مورخ ابو بکر بن عبدالرحمٰن العمودی نے رکھی، جبکہ یہ 1436 ہجری میں عوام کے لیے باقاعدہ طور پر کھولا گیا۔ تقریباً 2,000 مربع میٹر پر محیط یہ عجائب گھر آج 15 ہزار سے زائد تاریخی و ثقافتی نوادرات کا خزانہ بن چکا ہے، جن میں سے کئی اشیاء کی عمر 150 سال سے زیادہ ہے۔

یہ بھی پڑھیے اب مکہ مکرمہ میں زمزم کا پانی کیسے ملا کرے گا؟ نیا نظام رائج

نوادرات اور تاریخی ذخیرہ

میوزیم میں موجود اہم اشیاء میں روایتی ملبوسات اور زیورات، قدیم موسیقی کے آلات، نایاب سکے اور دستی ہنر مندی کے نمونے، زرعی آلات، ہتھیار، اور دستاویزی ریکارڈز، مٹی کے برتن، لکڑی کے کام اور لوہار کاریگری کے نادر نمونے شامل ہیں۔

حرمین شریفین کی نایاب جھلکیاں

میوزیم کا ایک مخصوص حصہ حرمِ مکی اور مقدس مقامات کی تاریخی تصاویر، ماڈلز اور نقشوں پر مشتمل ہے۔ ان میں سے بعض تصاویر کی عمر 100 سال سے زائد ہے۔ یہ حصہ سعودی حکومت کی حرمین شریفین کی خدمت میں کی گئی کوششوں کا عکس پیش کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے آبِ زمزم: برکت، معیار اور خدمت کی عظیم روایت

منفرد طرزِ تعمیر

میوزیم کی عمارت قدیم محلوں کے طرز پر تعمیر کی گئی ہے، جس میں مقامی مٹی، کچی اینٹیں، کھجور کے پتّے اور لکڑی استعمال کی گئی ہے۔ اس تعمیراتی انداز کا مقصد مقامی ثقافت اور تاریخی شناخت کو اجاگر کرنا ہے۔

تعلیمی و سیاحتی مرکز

العمودی میوزیم آج کل سیاحوں، عمرہ و حج زائرین، طلبہ اور روزانہ آنے والے زائرین کے لیے ایک مقبول مقام بن چکا ہے۔ یہاں تاریخی آگہی کے لیے انٹر ایکٹو سرگرمیوں کا بھی اہتمام کیا جاتا ہے تاکہ نوجوان نسل مکہ مکرمہ کی تہذیبی عظمت سے روشناس ہو سکے۔

یہ بھی پڑھیے مکہ مکرمہ: حرا ثقافتی منصوبہ، اسلامی ورثے کی حفاظت اور فروغ کی طرف ایک اہم قدم

العمودی میوزیم نہ صرف ایک عجائب گھر بلکہ مکہ مکرمہ کے تاریخی ورثے کا زندہ اور متحرک امین ہے۔ یہ ادارہ آنے والی نسلوں کو ان کی جڑوں سے جوڑنے اور ثقافتی شعور بیدار کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

العمودی میوزیم مکہ مکرمہ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: العمودی میوزیم مکہ مکرمہ العمودی میوزیم مکہ مکرمہ کے لیے

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل