پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری میں تاریخی اضافہ، چین سرِفہرست
اشاعت کی تاریخ: 23rd, July 2025 GMT
ویب ڈیسک: پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری میں تاریخی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس میں چین سرفہرست رہا۔ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) کی مؤثر پالیسیوں اور حکمت عملیوں کے نتیجے میں رواں مالی سال کے دوران پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے نئے دروازے کھلے ہیں۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق مالی سال 2024-25 کے دوران پاکستان کو مجموعی طور پر 2.
مون سون بارشیں, پی ڈی ایم اے کا الرٹ جاری
چین اس وقت پاکستان کی کل غیر ملکی سرمایہ کاری میں 49.9 فیصد حصے کے ساتھ سب سے بڑا شراکت دار بن چکا ہے۔ توانائی کا شعبہ غیر ملکی سرمایہ کاری کے اعتبار سے سب سے زیادہ پرکشش رہا، جس میں 1.17 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری آئی، جو مجموعی سرمایہ کاری کا نمایاں حصہ ہے۔
ایس آئی ایف سی کی معاونت سے عالمی سرمایہ کاروں کا پاکستان پر اعتماد بحال ہوا ہے، جس کے نتیجے میں اقتصادی سرگرمیوں میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ سرمایہ کاری کے اس رجحان کو پاکستان کی معیشت کے لیے ایک مثبت اشارہ قرار دیا جا رہا ہے، جو مستقبل میں روزگار کے مواقع اور صنعتی ترقی کی راہ ہموار کرے گا۔
معروف برطانوی گلوکار انتقال کر گئے
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: غیر ملکی سرمایہ کاری کی سرمایہ کاری
پڑھیں:
رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
رواں مالی سال26-2025 کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد رہی اور قابل کاشت رقبہ 3.6 فیصد کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی اور اہم فصلوں کی مجموعی پیداوار میں 0.6 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
قومی اقتصادی سروے 26-2025 کے اہم نکات کے مطابق گندم کاشت رقبہ 4.4 فیصد اور پیداوار4.3 فیصد بڑھ کر 2 کروڑ 96 لاکھ ٹن رہی۔
مالی سال 26-2025 کے دوران چاول کی پیداوار میں 2.8 فیصد اضافہ ہوگیا، گنے کی پیداوار میں 6.2 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی پیداوار8 کروڑ 94 لاکھ ٹن ریکارڈ کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق مکئی کی پیداوار میں 2.7 فیصد کمی آئی تاہم کاشت کا رقبہ گزشتہ سال کے برابر رہا، کپاس کی پیداوار میں بھی 0.5 فیصد کمی رہی اور کاشت کا رقبہ بھی 1.5 فیصد کم ہوگیا۔
دیگر فصلوں میں 2.4 فیصد نمواور پیداوار میں ریکارڈ 50.4 فیصد اضافہ ہوگیا، آلو کی پیداوار 27.6 فیصد، آم 11.6 فیصد اور کیلے کی پیداوار 30.8 فیصد بڑھ گئی۔
اسی طرح ہلدی کی پیداوار میں 25.1 فیصد مرچوں کی پیداوار میں 9.2 فیصد، کاٹن جننگ اور متفرق زرعی شعبوں کی شرح نمو صرف 0.1 فیصد رہی اور لائیو اسٹاک شعبے کی شرح نمو 3.8 فیصد رہی۔