ویب ڈیسک: پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری میں تاریخی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس میں چین سرفہرست رہا۔ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) کی مؤثر پالیسیوں اور حکمت عملیوں کے نتیجے میں رواں مالی سال کے دوران پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے نئے دروازے کھلے ہیں۔

 اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق مالی سال 2024-25 کے دوران پاکستان کو مجموعی طور پر 2.

45 ارب ڈالر کی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری موصول ہوئی، جس میں سب سے نمایاں حصہ چین کا رہا۔ چین کی جانب سے اس عرصے میں پاکستان کو 1.22 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری موصول ہوئی، جو گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 90 فیصد زیادہ ہے۔

مون سون بارشیں, پی ڈی ایم اے کا الرٹ جاری

 چین اس وقت پاکستان کی کل غیر ملکی سرمایہ کاری میں 49.9 فیصد حصے کے ساتھ سب سے بڑا شراکت دار بن چکا ہے۔ توانائی کا شعبہ غیر ملکی سرمایہ کاری کے اعتبار سے سب سے زیادہ پرکشش رہا، جس میں 1.17 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری آئی، جو مجموعی سرمایہ کاری کا نمایاں حصہ ہے۔

 ایس آئی ایف سی کی معاونت سے عالمی سرمایہ کاروں کا پاکستان پر اعتماد بحال ہوا ہے، جس کے نتیجے میں اقتصادی سرگرمیوں میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ سرمایہ کاری کے اس رجحان کو پاکستان کی معیشت کے لیے ایک مثبت اشارہ قرار دیا جا رہا ہے، جو مستقبل میں روزگار کے مواقع اور صنعتی ترقی کی راہ ہموار کرے گا۔
 

معروف برطانوی گلوکار  انتقال کر گئے

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: غیر ملکی سرمایہ کاری کی سرمایہ کاری

پڑھیں:

سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔

ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
  • عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں کمی
  • رائل کمیشن کی مکہ کے تاریخی ورثے کے تحفظ اور فروغ کے لیے اہم پیشرفت
  • سعودی ایپ ’ہُدہُد‘ عمرہ زائرین کے لیے جدید رہنما بن گئی، مکہ کے مذہبی و تاریخی مقامات تک رسائی آسان
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل