Islam Times:
2026-07-24@02:14:24 GMT

اہل ایران، دنیا صرف طاقت کی زبان سمجھتی ہے

اشاعت کی تاریخ: 16th, June 2025 GMT

اہل ایران، دنیا صرف طاقت کی زبان سمجھتی ہے

اسلام ٹائمز: مشہور قانون دان جناب سجاد حمید یوسفزئی نے لکھا ہے: "کافر کافر شیعہ کافر" کا نعرہ ہمارے سنیوں نے بہت لگایا، مگر حقیقت یہ ہے کہ وقت کے سب سے بڑے سامراج اور اسلام دشمن ممالک، امریکہ و اسرائیل کے خلاف اگر کوئی ڈٹ کر کھڑا ہوا ہے تو وہ صرف اور صرف شیعہ ریاست ایران کھڑا ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ غزہ کی خاطر اور مسلمانوں کے قبلہ اول کی خاطر بھی اسوقت یہی شیعہ ریاست کھڑی ہے۔ اپنا سب کچھ داؤ پر لگا دیا ہے، مگر سامراج کے سامنے نہیں جھکا۔ دوسری طرف تمام ممالک وقت کے سامراج کے سامنے سجدہ ریز ہیں، اسکے بعد شیعہ کافر کا نعرہ پتہ نہیں کس منہ سے لگائیں گے۔" تحریر: ڈاکٹر ندیم عباس

ابتدائے کائنات سے دنیا میں یہ اصول حاکم ہے کہ طاقتور ترین باقی رہے گا۔ اس دنیا میں طاقتور کے لیے کوئی ضابطہ، کوئی قانون اور کوئی اخلاق نہیں ہے۔ وہی مغرب جو جانوروں کے حقوق کی خلاف ورزی پر ممالک پر پابندیوں کی دھمکیاں دیتا ہے، غزہ میں کئی ہزار بچوں کی شہادت پر بھی صرف خاموش نہیں رہا بلکہ ہتھیار فراہم کر رہا ہے۔ پاک بھارت جنگ میں صرف ایک ماہ پہلے یہ ثابت ہوچکا ہے کہ امن صرف طاقت سے ہے۔ ایک دن پہلے امریکی نائب صدر کہہ رہا تھا کہ ہمارا اس جنگ سے کوئی تعلق نہیں اور جب پاکستان نے چھ طیاروں کو مار گرایا اور دلی تک پاکستانی ڈرونز اور میزائل پہنچنے لگے تو جنگ کی تپش محسوس ہوئی۔ امریکہ اور اس کے اتحادی بھاگے بھاگے آئے اور جنگ بندی ہوگئی۔ نریندر مودی بقول بلاول بھٹو زرداری ایک طرح سے نیتن یاہو کا ٹیمو ورژن یعنی دو نمبر کاپی ہے۔ اسے بھی صرف طاقت کی زبان سمجھ میں آتی ہے، اسرائیل بھی فقط طاقت کی زبان سمجھتا ہے۔

حامد میر نےبڑا زبردست لکھا ہے کہ مشہور ماہر امور مشرق وسطیٰ رابرٹ فسک کہا کرتے تھے کہ نیتن یاہو عراق کی طرح ایران پر بھی حملہ کروائے گا اور امریکہ کو اس جنگ میں گھسیٹ لے گا۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی جنگی حکمت عملی بڑی زبردست ہے۔ ابھی تک خبردار کیا گیا، مگر کوئی ایسا اقدام نہیں اٹھایا گیا، جس سے امریکہ میں اسرائیلی لابی کو امریکہ کو جنگ میں پھینکنے کا موقع مل جائے۔ آج جب آپ کے میزائل تل ابیت اور حیفہ میں تباہی مچا رہے ہیں تو آپ کا درد دنیا کو محسوس ہو رہا ہے۔ اب سویلینز کے حقوق، عام عمارتیں، سول انفراسٹکچر سب کچھ یاد آرہا ہے۔ کیا یہ سب کچھ غزہ میں برباد نہیں کیا گیا؟ اس کو تو چھوڑیں، وہاں تو ہسپتال تک ملبے کا ڈھیر بنا دیئے گئے۔ دنیا اس وقت آپ پر حملہ کرتی ہے، جب اسے یقین ہوتا ہے کہ آپ کمزور ہیں۔ پہلے دن کے حملوں کے بعد پاکستان کا پورا سوشل میڈیا یہ سوال اٹھا رہا تھا کہ ایران اتنا کمزور ملک ہے۔؟

کچھ احمق تو یہاں بھی کوئی کٹھ پتلی حکومت دیکھ رہے تھے۔ جب محض بیس گھنٹوں کے بعد ہی اللہ کے لشکر کی مار اسرائیل پر پڑنے لگی تو سب اسے فخر سے شیئر کرنے لگے۔ آج پاکستان کی رائے عامہ سو فیصد اسلامی جمہوریہ ایران کے حق میں ہوچکی ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف فرقہ پرستوں، امریکی اور اسرائیلی لابی کے پروپیگنڈے کا خاتمہ ہوچکا ہے۔ ایک تحریر سوشل میڈیا پر بڑی مشہور ہو ہوئی ہے، بلامبالغہ اسے کئی لاکھ لوگوں نے پڑھا اور اس کے پاکستانی سماج پر اثرات ہوئے۔ یہ تحریر ڈاکٹر اسرار صاحب کی تنظیم اسلامی کے سربراہ جناب خالد محمود عباسی صاحب کی ہے۔ لکھتے ہیں: ‏حالیہ ایران اسرائیل جنگ میں جہاں تل ابیب اور اصفہان میں کئی فلک بوس عمارات تباہ ہوئیں، وہیں ہمارے بزرگوں کی تعمیر کردہ ایک عمارت بھی تباہ ہوئی ہے۔

یہ تاریخی عمارت 80 اور 90 کے عشروں میں ہمارے خالی ذہنوں میں تعمیر کی گئی کہ ایران اسرائیل اندر سے بھائی بھائی ہیں اور محض سادہ لوح مسلمانوں کو دھوکہ دینے کے لیے ایک دوسرے کو للکارتے ریتے ہیں۔ سب سے زیادہ نقصان اس عمارت کے گرنے سے ہوا ہے۔ کیونکہ اب ایسی بہت سی عمارتوں کو مخدوش قرار دیا جا سکتا ہے، جو اس بڑی عمارت کے آس پاس واقع ہیں اور لاکھوں سادہ لوح مسلمان وہاں اب بھی بال بچوں سمیت رہائش پذیر ہیں۔ ہمیں یا تو یہ مخدوش عمارتیں خالی کرنی ہوں گی یا راتوں رات جھوٹ کی ایک نئی عمارت کھڑی کرنی ہوگی جو "ایران اسرائیل بھائی بھائی" سے بھی اونچی ہو۔ اتنی اونچی کہ دیکھنے والوں کی ٹوپیاں گر جائیں۔

دنیا میں طاقتور کی بات سنی جاتی ہے اور اسی کی بات مانی جاتی ہے، دلیل و منطق سے چلنے والے طاقت سے خالی ہوں تو ان کی آواز ہوا میں ہی تحلیل ہو جاتی ہے اور اس کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ زیٹو کے بانی مشہور امریکن تجزیہ نگار مہدی حسن نے درست سوال اٹھایا ہے کہ آپ مغربی میڈیا اٹھا کر دیکھ لیں، رپورٹنگ ایسے ہو رہی ہے جیسے ایران نے اسرائیل پر حملہ کیا ہے اور اسرائیل اس کا وکٹم ہے، حالانکہ حملہ اسرائیل نے کیا ہے اور وکٹم ایران ہے، جسے اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔ دوسرا ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہیں اور ایران نے این پی ٹی پر سائن بھی کیے ہیں، اس کے مقابل اسرائیل کے پاس ایٹمی ہتھیار بھی ہیں اور اس نے این پی ٹی پر دستخط بھی نہیں کیے۔ میڈیا میں آپ کو ایسے نظر آئے گا، جیسے ایران ایٹمی پاور ہے اور اسرائیل کو خطرہ پڑا ہوا ہے۔ یہ طاقت ہی ہے کہ ٹرمپ پچھلے چند  گھنٹوں میں تین بار ایران اسرائیل جنگ بندی پر زور دے چکا ہے۔

راشد خان نے خوب لکھا ہے۔ ایرانیوں کی اپنی تہذیب سے مضبوط تعلق کی عمر پانچ میلینیم سال ہے، یہ تعلق اسے جُداگانہ شناخت کا قابل فخر احساس دیتا ہے، جبکہ واقعہ کربلا سے یہ قوم بے مثال قربانی کا جذبہ حاصل کرتی ہے۔ اسی وجہ سے جیسے جیسے اسرائیلی حملے بڑھ رہے ہیں، اہل ایران متحد ہوتے جا رہے ہیں۔ اس کے مقابل اسرائیل پر ہونے والا ہر حملہ وہاں انتشار پیدا کر رہا ہے، کیونکہ اسرائیل بہت چھوٹا ملک ہے۔ کوئی غیر ملکی اسرائیل میں اس لیے نہیں آیا کہ اس کی جان کو کوئی خطرہ ہو۔ ایران جو تقریباً 16 لاکھ مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ایک وسیع اور عریض ملک ہے، یہ حملوں کی شدت کو جغرافیائی پھیلاؤ کے باعث سہنے کی طاقت رکھتا ہے اور دشمن کے وار کو جذب کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کے برعکس اسرائیل جس کا کل رقبہ محض 22 ہزار مربع کلومیٹر ہے، ہر حملے پر فوری طور پر دباؤ محسوس کرتا ہے۔ وہاں کے شہروں، عسکری تنصیبات اور بنیادی انفراسٹرکچر پر ہونے والا کوئی بھی حملہ نہ صرف زمینی حقائق کو بدل دیتا ہے بلکہ نفسیاتی لحاظ سے بھی گہرا اثر چھوڑتا ہے۔

 وطن عزیز میں لوگ اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ کھڑے ہیں، وہیں وحدت امت کی راہیں پیدا ہو رہی ہیں اور غلط فہمیاں دور ہو رہی ہیں۔ مشہور قانون دان جناب سجاد حمید یوسفزئی نے لکھا ہے: "کافر کافر شیعہ کافر" کا نعرہ ہمارے سنیوں نے بہت لگایا، مگر حقیقت یہ ہے کہ وقت کے سب سے بڑے سامراج اور اسلام دشمن ممالک، امریکہ و اسرائیل کے خلاف اگر کوئی ڈٹ کر کھڑا ہوا ہے تو وہ صرف اور صرف شیعہ ریاست ایران کھڑا ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ غزہ کی خاطر اور مسلمانوں کے قبلہ اول کی خاطر بھی اس وقت یہی شیعہ ریاست کھڑی ہے۔ اپنا سب کچھ داؤ پر لگا دیا ہے، مگر سامراج کے سامنے نہیں جھکا۔ دوسری طرف تمام ممالک وقت کے سامراج کے سامنے سجدہ ریز ہیں، اس کے بعد شیعہ کافر کا نعرہ پتہ نہیں کس منہ سے لگائیں گے۔"

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: اسلامی جمہوریہ ایران سامراج کے سامنے ایران اسرائیل شیعہ ریاست شیعہ کافر ہے اور اس ایران کے کا نعرہ کی خاطر ہیں اور لکھا ہے وقت کے ہوا ہے کے بعد سب کچھ رہا ہے

پڑھیں:

پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا

پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔

آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔

 پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔

پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔

 بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔

حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔

 پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔

اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔

اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔

پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔

اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔

عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔

پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار