ٹرمپ انتظامیہ بھارت میں مسلم دشمنی کا نوٹس لے،جسٹس فار آل
اشاعت کی تاریخ: 16th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکا میں قائم انسانی حقوق کی سرکردہ تنظیم جسٹس فار آل نے ٹرمپ انتظامیہ پر زور دیا ہے کہ وہ بھارت میں مسلم مخالف واقعات کا بھر پور نوٹس لے۔ جسٹس فار آل نے ایک بیان میں بی جے پی کی حکمرانی والی ریاست گجرات میں 22 مئی کو مسلمانوں کے 8ہزار سے زائد مکانات کی بغیر کسی قانونی نوٹس کے مسماری اور بی جے پی کی ایک اور حکمرانی والی ریاست اتر پردیش میں مسلم نوجوانوں پر ہندو توا کارکنوں کے بہیمانہ تشدد کا حوالہ دیتے ہوئے امریکی محکمہ خارجہ پر زور دیا کہ وہ بھارت کو خصوصی تشویش کا حامل ملک قرار دے اور امریکی کمیشن براہ بین الاقوامی مذہبی آزادی کی سفارش پر سنجیدگی سے غور کرے۔ بیان میں کہا گیا کہ مسلمان نوجوانوں پر گائے کا گوشت لے جانے کا الزام لگایا گیا اور انہیں بری طرح مارا پیٹا گیا ۔ بعد میں ثابت ہوا کہ ان کے پاس گائے کا گوشت نہیں تھا لیکن ابھی تک حملہ کرنے والوں میں سے کسی کو نہیں پکڑا گیا۔ تنظیم نے محکمہ خارجہ پر زور دیا کہ وہ امریکا بھارت تجارتی اور دفاعی تعاون کو مذہبی آزادی اور قانون کی حکمرانی پر ایک واضح اور بھر پور پیش رفت سے جوڑے اورجنوبی ایشیا میں مذہبی آزادی کے حالات کی نگرانی کے لیے ایک خصوصی نمائندے کا تقرر کرے۔بیان میں مزید کہا گیا کہ ہجومی تشدد اور مسلمانوں کی املاک کی مسماری معمول بن چکا ہے۔ جسٹس فار آل کے صدر امام عبدالمالک مجاہد نے کہا کہ بھارت کو یہ واضح پیغام دینے کی ضرورت ہے کہ ملک میں بلڈوزر سیاست کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ تنظیم کے رہنما ظہیر عادل نے کہا کہ امریکا اس ساری صورتحال پر آنکھیں بند کرنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جسٹس فار ا ل
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔