data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

 اسلام آباد:۔ پی ٹی اے کا ٹیلی کام کمپنیوں کے لیے پاکستان میں ڈیٹا ہوسٹنگ لازمی قرار دینے کا فیصلہ کرلیا، پی ٹی اے نے “کریٹیکل ٹیلی کام ڈیٹا اینڈ انفراسٹرکچر سیکورٹی ریگولیشنز “2025 کو حتمی شکل دے دی۔

خبر رساں ادارے کے مطابق پی ٹی اے نے نئی سیکورٹی ریگولیشنز پر اسٹیک ہولڈرز سے فیڈبیک طلب کر لیا تمام لائسنس یافتہ کمپنیوں کے لیے ڈیزاسٹر ریکوری اور بزنس کنٹی نیوٹی پلان لازمی ہوں گے، ریگولیشنز ٹیلی کام سیکٹر سائبر سیکورٹی کو مضبوط بنانے کے لیے تیار کیے گئے ہیں۔

دستاویز کے مطابق پی ٹی اے نے ٹیلی کام کمپنیوں کو “زیرو ٹرسٹ سیکورٹی ماڈل” اپنانے کی ہدایت کر دی ہر ٹیلی کام ادارہ چیف انفارمیشن سیکورٹی آفیسر (CISO) تعینات کرے گا، ٹیلی کام کمپنیوں کو سالانہ رسک اسیسمنٹ اور سائبر آڈٹ کروانے کی ہدایت کی گئی ہے ،کسی بھی سنگین سائبر واقعہ کی رپورٹ 24 گھنٹوں میں پی ٹی اے کو دینا لازمی ہوگی۔

پی ٹی اے کو غیر ملکی سافٹ ویئر یا آلات کے استعمال پر پابندی لگانے کا اختیار حاصل ہوگا، ریگولیشنز کے تحت انفارمیشن سیکورٹی اسٹیئرنگ کمیٹیاں قائم کرنا لازمی ہوگا، کمپنیوں کو سپلائی چین اور وینڈرز کی سیکورٹی یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

نئی ریگولیشنز کے ذریعے صارفین کے ڈیٹا کے تحفظ کے اقدامات مزید سخت ہوں گے، پی ٹی اے نے “سی ٹی ڈی آئی ایس آر “2025 پر عوامی رائے دینے کی آخری تاریخ 7 نومبر مقرر کردی، سی ٹی ڈی آئی ایس آر 2025، پرانی 2020ءفریم ورک کی جگہ لے گا۔

ویب ڈیسک.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ٹیلی کام کمپنیوں پی ٹی اے نے

پڑھیں:

وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم

وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔

وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔

متعلقہ مضامین

  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی