کراچی: قتل کے بعد خاتون کی لاش سمندر میں پھینکنے والا ملزم 3 سال بعد گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 19th, June 2025 GMT
---فائل فوٹو
کراچی میں کیماڑی پولیس نے خاتون کو قتل کر کے لاش سمندر میں پھینکے والے مفرور ملزم کو گرفتار کرلیا۔
ایس ایس پی انویسٹی گیشن کیماڑی اظہر جاوید کے مطابق سال 2022ء میں خاتون نصیب زرینہ گھر سے سودا لینے نکلی تھی کہ لاپتہ ہوگئی، خاتون کی لاش دوسرے روز بابا بھٹ جزیرہ کے پاس سمندر سے ملی تھی۔
خاتون کے قتل کا مقدمہ نامعلوم ملزمان کے خلاف درج کیا گیا تھا۔
تفتیشی ٹیم تھانہ ڈاکس نے ملوث ملزمان کا سراغ لگایا تھا اور ایک ملزم کو گرفتار کرلیا تھا جبکہ دوسرا ملزم رحمان بلال بیرونِ ملک فرار ہوگیا تھا۔
پولیس کے مطابق ملزم رحمان کو بیرونِ ملک سے واپسی پر تکنیکی و انٹیلیجنس بنیادوں پر سراغ لگا کر اس کے گھر سے گرفتار کیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔