صحافی پر حملے کے کیس میں ملزم ارمغان قصوروار قرار
اشاعت کی تاریخ: 19th, June 2025 GMT
کراچی: انسداد دہشتگردی کی عدالت میں صحافی مصطفیٰ عامر قتل کیس کے ملزم ارمغان کے خلاف ایک اور مقدمے، یعنی صحافی پر حملے کے کیس کی سماعت ہوئی۔ پولیس نے اپنی تفتیش مکمل کرنے کے بعد ملزم ارمغان کو صحافی پر حملے میں قصوروار قرار دے دیا۔
یہ بھی پڑھیں:مصطفیٰ عامر قتل کیس کے ملزم ارمغان کی پولیس پر فائرنگ کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آگئی
بہادرآباد پولیس کی جانب سے ملزم ارمغان کے خلاف مقدمے کا عبوری چالان عدالت میں جمع کرا دیا گیا، جس میں پراسیکیوشن کے آٹھ سے زائد گواہوں کو شامل کیا گیا ہے۔
چالان کے مطابق، 19 نومبر 2024 کو ملزم ارمغان اپنی ویگو گاڑی میں سوار تھا جب اس نے صحافی ندیم احمد خان کو روکا اور دونوں کے درمیان تلخ کلامی ہوئی۔ اس دوران ارمغان نے فائرنگ کرکے صحافی کو زخمی کر دیا اور موقع سے فرار ہو گیا۔
یہ بھی پڑھیں:ارمغان کےگھر سے برآمد ہونے والا اسنائپر سمیت جدید اسلحہ کہاں سے آیا؟
عبوری چالان میں مزید بتایا گیا ہے کہ تفتیش کے دوران ملزم ارمغان نے اپنے جرم کا اعتراف کیا۔ اس نے بیان دیا کہ اس نے صحافی کو جان سے مارنے کی نیت سے فائرنگ کی۔ مدعی مقدمہ نے بھی ملزم کو شناخت کر لیا ہے۔
عدالت نے پولیس کی جانب سے جمع کرایا گیا عبوری چالان منظور کرتے ہوئے کیس کو سماعت کے لیے انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نمبر 15 کو منتقل کر دیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انسداد دہشتگردی صحافی حملہ مصطفیٰ عامر ملزم ارمغان.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انسداد دہشتگردی صحافی حملہ مصطفی عامر
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔