Daily Ausaf:
2026-07-24@06:00:11 GMT

ایران ،اسرائیل جنگ،عرب و عجم ، تقسیم ،نیا شاخسانہ

اشاعت کی تاریخ: 19th, June 2025 GMT

مشرق وسطیٰ کی سیاسی اور عسکری تاریخ کا بنظر غائر مطالعہ کیا جائے تو مصر اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کی نوعیت ہمیشہ غیر معمولی اہمیت کی حامل دکھائی دیتی ہے ۔اسرائیلی ریاست کے قیام عمل میں آجانے کے بعد سے ابتک دونوں ممالک کے تعلقات میں نشیب وفراز کی صورت دکھائی دیتی ہے ،جن میں شدید مبازرتیں ،سفارتی معاہدے اور پیچیدہ علاقائی سیاست کا عمل دخل رہا ہے ۔مصر نے عالم عرب کی قیادت کرتے ہوئے اسرائیل کے ساتھ کئی جنگوں میں مرکزی کردار ادا کیا ،لیکن1979 ء میں کیمپ ڈیوڈ معاہدے کے بعد مصر کی پلیسی میں اہک کلیدی تبدیلی رو نما ہوئی ۔حالیہ عالمی اور علاقائی حالات میں جبکہ فلسطین کا مسئلہ بدستور موجود ہے ۔غزہ بد ترین انسانی بحران کی زد میں آیا ہوا ہے اور اسرائیلی عسکری حملے عالمی سطح پر تنقید کی لپیٹ میں ہیں اور دوسری جانب اسے داخلی اور خارجی دبائو کے ساتھ علاقائی سیاست اور عالمی قوتوں کے مابین توازن برقرار رکھنے کے چیلنجز کا سامنا ہے ۔ اس تناظر میں مصر اور اسرائیل کے جنگی تعلقات کی جنگی تاریخ کے حوالے سے بات کی جائے تو 1948 ء میں اسرائیل کے قیام کے فوری بعدمشرق وسطیٰ مسلسل جنگی اور سیاسی کشیدگی کی لپیٹ میں نظر آنا شروع ہوجاتا ہے۔
مصر جو دنیائے عرب کا بڑا اور طاقتور ملک تھا وہ فلسطین کے مسئلے پر کبیدہ خاطر رہا ۔اسرائیل کے اعلان آزادی کے بعد مصر ،اردن ،لبنان ،شام اور عراق نے فوری طور پر اسرائیل پر حملہ کردیا ،مصر نے فلسطینی عربوں کی حمایت میں فوجی مداخلت کا قدم اٹھایا مگر اسرائیل نے نہ صرف قبضہ برقرار رکھا بلکہ مزید علاقے بھی اپنے قبضے میں لے لئے۔اس طرح عرب افوج کی شکست کے بعد ایک بڑا بحران فلسطینی مہاجرین کی صورت میں اٹھ کھڑا ہوا۔1956ء میں سوئز بحران کھڑا ہوا،صدر جمال عبدالناصر نے نہرکے قومیا لینے پر فرانس ،برطانیہ اور اسرائیل نے مصر پر یلغار کر دی اور اسرائیل نے جزیرہ نما سینا پر قبضہ کر لیا یوں اقوام متحدہ ،سویت یونین اور امریک کی مداخلت سے اس جنگ کا خطرہ ٹلا۔نہر سویز مصر کے پاس واپس آگئی مگر جزیرہ نما سینا سے اسرائیل نے عارضی واپسی کا فیصلہ سنایا۔1967ء میں مصر ،شام اور اردنایک بار پھر اسرائیل کے خلاف صف آرا ہوئے اور اسرائیل نے دفعتا حملہ کر کے مصر کی فضائیہ تباہ و برباد کردی اور سینا پر بھی اپنے عارثی قبضے کو مستقل بنالیا۔اس کے ساتھ ہی غزہ، مغربی کنارہ ،گولان کی پہاڑیوں اور مشرقی یروشلم بھی قبضے میں لے لئے۔عرب دنیا اس صدمے پر بہت پراگندہ حال ہوئی اور اس کے اندر شکست کا احساس سرایت کرگیا ۔
1973ء کے ماہ رمضان میں مصر اور شام نے مل کر اچانک اسرائیل پر اس غرض سے حملہ کر دیا کہ 1967ء کے نقصان کا بدلہ چکایا جاسکے۔مصر نہر سویز عبور کرتا ہوا سینا میں اسرائیلی پوزیشنوں پر حملہ آور ہو گیا ۔ سردست مصر کو نصرت ضرور ملی ،پھر جنگ میں توازن آگیا اور امریکہ ،سویت یونین اور اقوام متحدہ کی ثالثی کے نتیجے میں جنگ بند ہوگئی۔اس جنگ سے عرب دنیا کا عسکری نفسیاتی مورل بلند ہوا،1979ء امریکہ کی ثالثی میں صدر سادات اور ہیگن کے درمیان کیمپ ڈیوڈ معاہدہ ہوا مصر نے اسرائیل تسلیم کرلیا ۔ اسرائیل نے مصر کا جزیرہ نما سینا واپس کردیا۔مصر پہلا عرب ملک تھا جس نیاسرائیل کو با ضابطہ تسلیم کیا۔عالم عرب میں سخت تنقید اور نفرت کا طوفان اٹھ کھڑا ہو اورآخر کار1981ء میں صدر انورسادات کو قتل کر دیا گیا۔اب یہ عالم رہا ہے کہ مصر فلسطین، اسرائیل تنازعہ میں اکثر مصالحتی کوششیں کرتا ہے غزہ کی پٹی پر مصر کا اثر ورسوخ بھی چلتا ۔
سرد مہری کے باوجود مصر ،اسرائیل کے درمیان سفارت تعلقات قائم ہیں ۔مصر اسرائیل سے جنگی دشمنی سے بھی دست کشی کا مظاہرہ کرتا ہے ۔تاہم موجودہ اسرائیل ایران جنگ میں مصر براہ راست کسی بھی فریق کا عسکری اتحادی بننے کا تاثر نہیں دے رہا وہ نہ ایران کے دفاع پر مصر ہے نہ اسرائیل کے ساتھ فوجی اتحاد میں شریک ہے سفارتی اور تزویراتی حکمت عملی کا جائزہ لیا جائے تو تب بھی مصر کی پالیسی غیر جانبداری کے ساتھ متوازن ثالثی پر مبنی ہے۔ چونکہ مصر ایران کو علاقائی حریف گردانتا ہے مگر اس کے ساتھ کھلی دشمنی یا دوستی سے بھی گریزاں ہے ۔اس حوالے سے مطالعہ کیا جائے توعالم اسلام میں عرب و عجم کشمکش ایک تاریخی نفسیاتی پہلو کی حیثیت میں کارفرما ہے اور خطے کی سیاست میں عرب و عجم کی واضح تقسیم موجود ہے ۔اس لئے مصری ریاست خصوصا عسکری اسٹیبلشمنٹ ہمیشہ ایران کے ساتھ ایک فاصلہ رکھتی آئی ہے ۔اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ایران کی سیاست زیادہ تر ’’انقلابی شیعہ ازم‘‘پر استوار ہے جو عالم عرب کے بعض حلقوں میں تشویش کا سبب رہی ہے ۔مصر کے اندر اخوان المسلمون جیسی جماعتوں کی ایران نے کبھی کھل کر حمایت نہیں کی ۔یہی مسلکی تقسیم ہے جو ایران ، اسرائیل جنگ میں مصر کو غیر متحرک رکھا ہوا ہے ۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: اور اسرائیل اسرائیل نے اسرائیل کے کے ساتھ کے بعد اور اس

پڑھیں:

جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ  نازیبا ویڈیو سامنے آنے پر تنازعہ کھڑا ہو گیا۔ پہلے تو اس ویڈیو کو فیک اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی تخلیق  بتایا گیا لیکن جب ویڈیو اصل نکل آئی تو ممتاز سینئیر سیاست دان نے دوسری شادی  کرنے کا دعویٰ کیا۔ خاتون کے غیر شادی شدہ ہونے کی دستاویز نے سیاستدان کو زیادہ مشکل میں ڈال دیا۔  بنگلہ دیش کی پارلیمنٹ کے رکن، جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے سینئیر سیاستدان غازی نذرالاسلام کی   ایک نوجوان خاتون کے ساتھ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ایک کی مبینہ دوسری شادی کے معاملے پر تنازع  ان کے دوسری شادی کا اعتراف کر لینے کے بعد کم نہیں ہوا۔ اب جماعت اسلامی نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس سارے معاملہ کی تحقیقات کروا رہی ہے

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی

 بنگلہ دیش کے  میڈیا کے مطابق غازی نذرالاسلام کی سوشل میڈیا پر ایک نوجوان خاتون کے ساتھ ویڈیو وائرل ہو گئی تھی۔ پہلے تو ان کے حامیوں نے اس ویڈیو کو ڈیپ فیک اور آڑٹیفیشل انٹیلیجنس سے بنائی گئی  ویڈیو قرار دیا، لیکن جب  تنقید کرنے والے  خاموش نہیں ہوئے تو بعض لوگوں نے اس ویڈیو کی سافٹ وئیرز کی مدد سے ویریفیکیشن کی۔ فیکٹ چیک کرنے والے ایک  ادارے  نے بتا دیا کہ ویکڈو بالکل اصلی ہے۔  نذر الاسلام کی نوجوان خاتون کے ساتھ  ویڈیو کے مصنوعی ذہانت سے تیار ہونے یا اس میں کوئی تبدیلی کیے جانے کے شواہد نہیں مل۔ اس کے بعد لوگوں کی ساری توجہ ویڈیو   میں شامل افراد اور ان کے باہمی تعلق پر مرکوز ہوگئی۔ جب سوشل میڈیا پر  تنقید کافی برھ گئی تو    جماعت اسلامی کے سینئیر سیاست دان اور رکن پارلیمنٹ نے ویڈیو کلپ میں اپنے ساتھ دکھائی دینے والی نوجوان خاتون کو اپنی بیوی قرار دے دیا۔  غازی نذرالاسلام نے اپنے بیان میں کہا کہ خاتون ان کی دوسری بیوی ہے  اور ان کی شادی 17 جون کو دونوں خاندانوں اور ان کی پہلی بیوی کی رضامندی سے ہوئی تھی۔

چیئرمین یورپی یونین پاک فرینڈشپ فیڈریشن یورپ کی ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کے چیئرمین سے ملاقات

 نذر الاسلام نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ اس وائرل ویڈیو کو خفیہ طور پر ریکارڈ کرکے بھتہ خوری اور سیاسی کردار کشی کےلیے منظرِ عام پر لایا گیا۔ جماعت اسلامی کے اس سینئیر رکنِ پارلیمنٹ کی پہلی بیوی نے اس موقع پر شوہر کا ساتھ دیا اور  ایک ویڈیو بیان میں اپنے عمر رسیدہ  شوہر کے مؤقف کی  تصدیق کی کہ ان کے شوہر نے نوجوان لڑکی مریم بیگم سے دوسری شادی کرلی ہے۔ مریم بیگم نے بھی ایک علیحدہ ویڈیو میں خود کو غازی نذرالاسلام کی بیوی  قرار دیتے ہوئے کہا کہ شادی 17 جون کو دونوں خاندانوں اور نذر الاسلام کی پہلی بیوی کی موجودگی میں ہوئی تھی۔

پی سی بی نے ڈومیسٹک کرکٹ کے نئے سیزن کا شیڈول جاری کر دیا

 بنگلہ دیشی میڈیا  میں سامنے آنے والی رپورٹوں کے مطابق غازی نذرالاسلام اور ان کے خاندان کی تصدیق کے باوجود سوشل میڈیا پر خاتون مریم بیگم  سے متعلق  قانونی دستاویزات منظر عام پر آئی ہیں، جن کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی اور نہ ہی رکن پارلیمنٹ یا خاتون اور ان کے اہلخانہ نے دستاویز ات میں موجود تضاد پر کوئی وضاحت دی ہے۔ شادی کے پانچ دن بعد نذر الاسلام نے بیوی کو کنوارا ظاہر کر کے اسکی سرکاری نوکری کی سفارش کی؟ ایک دستاویز میں نذر السلام کے ساتھ نظز آنے والی لڑکی مریم کی ازدواجی حیثیت ’غیر شادی شدہ‘ درج ہے اور اس دستاویز  پر غازی نذرالاسلام کی جانب سے 22 جون، یعنی اپنی بتائی ہوئی مبینہ شادی  کی تاریخ کے پانچ روز بعد، سرکاری ملازمت کے لیے سفارش بھی موجود دکھائی دیتی ہے۔ 

دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل

 بنگلہ دیش کے میڈیا کے مطابق یہ خاتون سرکاری ملازمت کی خواہاں تھیں اور غازی نذرالاسلام نے ان کی درخواست کی سفارش کی تھی۔  غازی نذرالاسلام نے ان تمام کہانیوں نظر انداز کرتے ہوئے ایک اور پیچیدہ کہانی سے پردہ اٹھا دیا جو  دال میں کافی کچھ کالا ہونے کی نشاندہی کرتی ہے۔ عمر رسیدہ سیاستدان نذر الاسلام نے یہ دعویٰ کیا کہ 13 جولائی کو وہ ڈھاکا کے موگ بازار میں ایک دفتر گئے تھے جہاں ان کی دونوں بیویاں بھی موجود تھیں۔

 نذر الاسلام نے الزام لگایا کہ  ڈرائیور، دوسری  کے ماموں اور چند نامعلوم افراد نے انہیں یرغمال بنا کر ایک لاکھ ٹکا بھتہ وصول کیا،  ان لوگوں نے نذر الاسلام کے بقول مزید رقم کا مطالبہ کیا اور  ان لوگوں نے ہی ان کی مریم کے ساتھ خفیہ طور پر نجی ویڈیو ریکارڈ کرکے بعد میں سوشل میڈیا پر پھیلا دی۔  نذر الاسلام کے اس دعوے میں کمزوری یہ ہے کہ ویڈیو کلپ مین نذر الاسلام کو اس خاتون کے ساتھ اپنے کمرے میں بیٹھے اور بوس و کنار کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔  لوگ یہ سوال کر رہے ہیں کہ بازار کے کسی دفتر  میں یرغمال بنا کر بھتہ لینے والوں کی رسائی ان کے گھر کے کمرے تک کیسے تھی۔  

پاکستان نے کابل فضائی حملوں پر ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ مسترد کر دی

  اس سکینڈل کے سوشل میڈیا اور میڈیا میں بہت زیادہ ڈسکس ہونے کے بعد آخر کار جماعت اسلامی بنگلہ دیش نے کہا ہے کہ وہ اس سارے معاملے کی معلومات اکٹھی کر رہی ہے اور حقائق سامنے آنے کے بعد تنظیم کے اندر تادیبی کارروائی کا فیصلہ کیا جائے گا۔ جماعت اسلامی کے اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل احسان الحق محبوب زبیر کے مطابق پارٹی میڈیا رپورٹس، رکنِ پارلیمنٹ، ان کی دونوں بیویوں اور خاتون کے والد کے بیانات کا جائزہ لے رہی ہے۔

مزید :

متعلقہ مضامین

  • علماء کا سرویکل کینسر سے بچاؤ کی مہم میں محکمہ صحت کے ساتھ تعاون کا اعلان 
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم