UrduPoint:
2026-07-24@05:32:48 GMT

ایران پر اسرائیلی حملے اور جوہری آلودگی کے خطرات

اشاعت کی تاریخ: 20th, June 2025 GMT

ایران پر اسرائیلی حملے اور جوہری آلودگی کے خطرات

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 20 جون 2025ء) اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ اپنی فوجی مہم کے ذریعے ایران کی جوہری صلاحیتوں کو تباہ کرنے کے لیے پرعزم ہے لیکن وہ اس خطے میں جوہری تباہی سے بھی بچنا چاہتا ہے، جہاں کروڑوں لوگ رہتے ہیں اور دنیا کا زیادہ تر تیل پیدا ہوتا ہے۔

خلیج میں تباہی کے خدشات اس وقت بڑھ گئے، جب اسرائیلی فوج نے جمعرات کو اعلان کیا کہ اس نے خلیج کے ساحل پر واقع بوشہر میں ایک مقام پر حملہ کیا، جہاں ایران کا واحد جوہری پاور اسٹیشن ہے۔

تاہم بعد میں اس نے کہا کہ یہ اعلان غلطی سے کیا گیا تھا۔ اسرائیل نے اب تک کن مقامات کو نشانہ بنایا؟

اسرائیل نے نطنز، اصفہان، اراک اور تہران میں جوہری تنصیبات پر حملوں کی تصدیق کی ہے۔

(جاری ہے)

اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد ایران کو ایٹم بم بنانے سے روکنا ہے۔ تاہم ایران اس الزام کی تردید کرتا ہے کہ وہ کبھی ایٹم بم بنانا چاہتا تھا۔

بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) نے رپورٹ کیا ہے کہ نطنز میں یورینیم افزودگی کے پلانٹ، اصفہان کے جوہری کمپلیکس (بشمول یورینیم کنورژن فیسیلٹی) اور تہران میں سینٹری فیوج پروڈکشن کی سہولیات کو نقصان پہنچا ہے۔

’جارحیت کی جنگ میں‘ آئی اے ای اے اسرائیل کی شراکت دار، ایرانی الزام

اسرائیل نے اراک (جسے خنداب بھی کہا جاتا ہے) پر بھی حملہ کیا۔

آئی اے ای اے کے مطابق، اسرائیلی فوجی حملوں نے خنداب ہیوی واٹر ریسرچ ری ایکٹر کو نشانہ بنایا، جو زیر تعمیر تھا اور ابھی آپریشنل نہیں ہوا تھا جبکہ قریبی ہیوی واٹر بنانے والے پلانٹ کو بھی نقصان پہنچایا۔ آئی اے ای اے نے کہا کے مطابق یہ پلانٹ آپریشنل نہیں تھا اور اس میں کوئی جوہری مواد موجود نہیں تھا، اس لیے تابکاری کے کوئی اثرات نہیں دیکھے گئے۔

آئی اے ای اے نے آج بروز جمعے کو اپنی تازہ رپورٹ میں بتایا کہ اس مقام پر اہم عمارتیں متاثر ہوئیں۔ ہیوی واٹر ری ایکٹرز سے پلوٹونیم تیار کیا جا سکتا ہے، جو افزودہ یورینیم کی طرح ایٹم بم بنانے کے لیے استعمال ہو سکتا ہے۔

ان حملوں سے کون سے خطرات ہیں؟

انگلینڈ کی یونیورسٹی آف لیورپول کے پروفیسر پیٹر برائنٹ، جو تابکاری تحفظ سائنس اور جوہری توانائی کی پالیسی کے ماہر ہیں، نے کہا کہ اب تک کے حملوں سے تابکاری کا زیادہ خطرہ نہیں ہے۔

انہوں نے نوٹ کیا کہ اراک کی تنصیبات آپریشنل نہیں تھیں، جبکہ نطنز کی سہولت زیر زمین ہے اور تابکاری اخراج کی کوئی اطلاع نہیں ملی۔ انہوں نے کہا، ''اصل سوال یہ ہے کہ اس سہولت کے اندر کیا ہوا، لیکن جوہری تنصیبات اس کے لیے ڈیزائن کی جاتی ہیں۔ یورینیم صرف اس صورت میں خطرناک ہے، جب اسے سانس کے ذریعے یا کھانے کے ذریعے جسم میں داخل کیا جائے یا کم افزودگی پر جسم میں داخل ہو۔

‘‘

لندن کے تھنک ٹینک آر یو ایس آئی کی سینئر ریسرچ فیلو داریہ دولزیکووا نے کہا کہ جوہری ایندھن کے ابتدائی مراحل (جہاں یورینیم کو ری ایکٹر کے لیے تیار کیا جاتا ہے) پر حملوں سے بنیادی طور پر کیمیائی خطرات ہوتے ہیں، نہ کہ تابکاری خطرات۔

افزودگی کی سہولیات میں، یورینیم ہیکسا فلورائیڈ (UF6) تشویش کا باعث ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا، ''جب UF6 ہوا میں موجود پانی کے بخارات کے ساتھ تعامل کرتی ہے، تو اس سے نقصان دہ کیمیکلز پیدا ہوتے ہیں۔

‘‘

کسی بھی مواد کے پھیلاؤ کی حد کا انحصار موسم سمیت دیگر عوامل پر بھی ہوتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا، ''کم ہواؤں میں، زیادہ تر زہریلا مواد سہولت کے آس پاس جمع ہو جاتا ہے جبکہ تیز ہواؤں میں، مواد دور تک جاتا ہے اور زیادہ پھیل جاتا ہے۔‘‘ تاہم زیر زمین تنصیبات میں تابکاری کے پھیلاؤ کا خطرہ کم ہوتا ہے۔

یونیورسٹی آف لیسٹر کے سول سیفٹی اینڈ سکیورٹی یونٹ کے سربراہ سائمن بینیٹ کہتے ہیں کہ اگر اسرائیل زیر زمین تنصیبات کو نشانہ بناتا ہے تو ماحولیاتی خطرات کم ہوتے ہیں کیونکہ ''آپ جوہری مواد کو ممکنہ طور پر ہزاروں ٹن کنکریٹ، مٹی اور چٹانوں میں دبا رہے ہیں۔

‘‘ جوہری ری ایکٹرز کا کیا حال ہے؟

سب سے بڑی تشویش ایران کے بوشہر میں واقع جوہری ری ایکٹر پر حملہ ہے۔ یونیورسٹی آف مانچسٹر کے ایپی ڈیمیالوجی کے اعزازی پروفیسر رچرڈ ویک فورڈ کہتے ہیں کہ افزودگی کی سہولیات پر حملوں سے آلودگی ''بنیادی طور پر ایک کیمیائی مسئلہ‘‘ ہو گا تاہم بڑے پاور ری ایکٹرز کو وسیع نقصان ''ایک مختلف کہانی‘‘ ہے۔

انہوں نے کہا کہ تابکار عناصر یا تو غیر مستحکم مادوں کے بادل کے ذریعے یا سمندر میں خارج ہو سکتے ہیں۔

کارنیگی اینڈومنٹ فار انٹرنیشنل پیس کے نیوکلیئر پالیسی پروگرام کے شریک ڈائریکٹر جیمز ایکٹن بتاتے ہیں کہ بوشہر پر حملہ ''ایک مکمل تابکاری تباہی‘‘ کا باعث بن سکتا ہے، لیکن افزودگی کی سہولیات پر حملوں سے ''اہم آف سائٹ نتائج‘‘ کا امکان کم ہے۔

انہوں نے کہا کہ جوہری ری ایکٹر میں جانے سے پہلے یورینیم بمشکل تابکار ہوتا ہے، ''یورینیم ہیکسا فلورائیڈ کی کیمیائی شکل زہریلی ہوتی ہے، لیکن یہ زیادہ فاصلے تک نہیں جاتی اور یہ بمشکل تابکار ہوتی ہے۔‘‘ انہوں نے اسرائیلی حملوں کی مخالفت کرتے ہوئے کہا، ''تاہم اب تک اسرائیلی حملوں کے تابکاری نتائج تقریباً صفر رہے ہیں۔

‘‘

یونیورسٹی آف لیسٹر کے بینیٹ نے کہا کہ بوشہر پر حملہ کرنا اسرائیلیوں کے لیے ''احمقانہ اقدام‘‘ ہو گا کیونکہ اس سے ری ایکٹر کی دیوار ٹوٹ سکتی ہے، جس سے تابکار مواد فضا میں خارج ہو گا۔

خلیجی ریاستیں کیوں پریشان ہیں؟

خلیجی ریاستوں کے لیے، بوشہر پر کسی بھی حملے کے اثرات خلیج کے پانیوں کی ممکنہ آلودگی سے مزید سنگین ہو سکتے ہیں، جو کہ پینے کے صاف پانی کے ایک اہم ذریعے کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔

متحدہ عرب امارات میں 80 فیصد سے زیادہ پینے کا پانی صاف شدہ سمندری پانی پر مشتمل ہے، جبکہ بحرین 2016ء سے مکمل طور پر سمندر کے صاف شدہ پانی پر انحصار کرتا ہے۔ خلیجی حکام کے مطابق زیر زمین پانی کو ہنگامی منصوبوں کے لیے محفوظ رکھا گیا ہے۔ اسی طرح قطر 100 فیصد سمندری صاف شدہ پانی پر انحصار کرتا ہے۔

سعودی عرب ایک بڑا ملک ہے اور اس کے پاس قدرتی زیر زمین پانی کے زیادہ ذخائر ہیں۔

تاہم سن 2023 تک اس کی تقریباً 50 فیصد پانی کی فراہمی صاف شدہ سمندری پانی سے آتی تھی۔ اگرچہ سعودی عرب، عمان اور متحدہ عرب امارات جیسے کچھ خلیجی ممالک کے پاس پانی کے حصول کے لیے ایک سے زیادہ سمندروں تک رسائی ہے، لیکن قطر، بحرین اور کویت جیسے ممالک خلیج کے ساحل پر واقع ہیں اور ان کے پاس کوئی دوسرا ساحل نہیں ہے۔

ابوظہبی کے واٹر ریسرچ سینٹر کے ڈائریکٹر اور پروفیسر انجینئرنگ نضال ہلال کہتے ہیں، ''اگر کوئی قدرتی آفت، تیل کا اخراج یا حتیٰ کہ ایک حملہ پلانٹ کو متاثر کرے، تو لاکھوں لوگ تقریباً فوری طور پر تازہ پانی تک رسائی کھو سکتے ہیں۔‘‘

ادارت: رابعہ بگٹی

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے یونیورسٹی آف انہوں نے کہا آئی اے ای اے کی سہولیات نے کہا کہ سکتے ہیں کے ذریعے پر حملوں ری ایکٹر حملوں سے صاف شدہ جاتا ہے ہوتا ہے پر حملہ پانی کے کے لیے

پڑھیں:

امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام

امریکہ نے ایران کے خلاف مسلسل 13 ویں رات بھی فوجی کارروائیاں جاری رکھیں جبکہ ایرانی شہر اہواز میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

امریکی سینٹرل کمانڈ سینٹکام نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں تصدیق کی کہ امریکی افواج نے جمعرات کی شب ایران کے فوجی اہداف پر ایک اور حملہ کیا۔ بیان کے مطابق یہ کارروائیاں مسلسل 13 ویں رات جاری رہیں۔

U.S. forces started another night of strikes against Iranian military targets at 6:45 p.m. ET today. This is the 13th consecutive night of strikes aimed to hold Iran accountable and diminish threats from the Islamic Revolutionary Guard Corps to commercial shipping.

مزید پڑھیں

مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل

جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی

— U.S. Central Command (@CENTCOM) July 23, 2026

سینٹکام کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد ایران کو اس کے اقدامات پر جوابدہ بنانا اور پاسداران انقلاب کی جانب سے تجارتی بحری جہازوں کو لاحق خطرات کو کم کرنا ہے۔

دوسری جانب ایران کے صوبہ خوزستان کے دارالحکومت اہواز کے رہائشیوں نے جمعہ کی علی الصبح متعدد زور دار دھماکوں کی آوازیں سننے کی اطلاع دی ہے۔

ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق دھماکوں کی تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آسکیں۔

متعلقہ مضامین

  • ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم