ویسٹ انڈیز کیخلاف سیریز میں آسٹریلیا کے دو اہم بلے باز ٹیم سے باہر
اشاعت کی تاریخ: 21st, June 2025 GMT
آسٹریلوی بلے باز مارنس لبوشین کو ویسٹ انڈیز کے خلاف پہلے ٹیسٹ سے ڈراپ کر دیا گیا جبکہ اسٹیون اسمتھ انجری کے باعث ٹیم کا حصہ نہیں ہوں گے۔
کرک انفو کے مطابق دونوں کھلاڑیوں کی جگہ سیم کونسٹاس اور جوش انگلس کو ٹیم کا حصہ بنایا گیا ہے۔
25 جون کو بارباڈوس میں شروع ہونے والے ٹیسٹ سے پانچ روز قبل آسٹریلیا کی جانب سے ان تبدیلیوں کی تصدیق سے معلوم ہوتا ہے کہ کینگروز جنوبی افریقا کے خلاف ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ میں کھلائی جانے والی بیٹنگ لائن سے کافی مختلف بیٹنگ کے ساتھ اتریں گے۔
سیم کونسٹاس بھارت کے خلاف سیریز میں آخری دو ٹیسٹ میچز کے بعد تیسری بار ایکشن میں دِکھائی دیں گے۔ انہوں نے میلبرن میں ڈیبیو کرتے ہوئے 65 گیندوں پر 60 رنز کی شاندار اننگز کھیلی تھی۔ جبکہ جوش انگلس نے رواں برس کے شروع میں سری لنکا کے خلاف گال میں ڈیبیو پر سینچری جڑی تھی۔
واضح رہے ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے فائنل میں مارنس لبوشین کو بطور اوپنر کھلایا گیا تھا۔ انہوں نے دونوں اننگز میں 17 اور 22 رنز کی باریاں کھیل کر دو سال پر محیط خراب پرفارمنس کا تسلسل برقرار رکھا۔
Post Views: 4.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کے خلاف
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔