امریکی حملے کے بعدایران کا اسرائیل پر جوابی حملہ، تل ابیب ایک بار پھر دھماکوں سے گونج اٹھا
اشاعت کی تاریخ: 22nd, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
تل ابیب: امریکا کی جانب سے ایرانی جوہری تنصیبات پر حملوں کے بعد ایران نے اسرائیل پر بھرپور جوابی کارروائی کرتے ہوئے میزائل برسادیے، جن کے نتیجے میں تل ابیب ایک بار پھر دھماکوں سے لرز اٹھا۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی حملے میں 86 افراد زخمی ہوئے ہیں جبکہ متعدد تنصیبات کو نقصان پہنچا ہے، ان حملوں میں اسرائیلی فوج کی 14 تنصیبات کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا، جن میں کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرز، سپورٹ بیسز، بایولوجیکل ریسرچ سینٹرز شامل ہیں۔
ایران نے دعویٰ کیا کہ لانگ رینج میزائلز کے ذریعے حملہ کیا گیا، جس کا مقصد دنیا کو یہ پیغام دینا تھا کہ ایران کسی بھی جارحیت کا فوری اور بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ امریکا نے اقوام متحدہ کے چارٹر، بین الاقوامی قانون اور NPT کی صریح خلاف ورزی کی ہے، اور یہ حملے مجرمانہ، غیرقانونی اور ناقابل برداشت ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران اپنی خودمختاری اور قومی سلامتی کے دفاع کے لیے تمام آپشنز محفوظ رکھتا ہے،امریکا نے اسرائیل کی حمایت کر کے ایران کے خلاف خطرناک جنگ کا آغاز کیا ہے۔ یہ عالمی اخلاقیات اور سفارتی ضابطوں کی کھلی توہین ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔
غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔
عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔
گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔
ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔