data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

واشنگٹن: امریکا نے گزشتہ شب ایران کی جوہری تنصیبات پر کیے گئے حملے کی تفصیلات جاری کر دی ہیں۔

امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین نے ایک پریس کانفرنس میں کارروائی کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔

پیٹ ہیگسیتھ نے کہا کہ امریکا نے ایران کے جوہری پروگرام کو تباہ کر دیا ہے، اور واضح کر دیا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ کئی بار یہ بات دہرا چکے ہیں کہ ایران کو جوہری طاقت نہیں بننے دیا جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ فردو جوہری پلانٹ پر حملے میں شامل امریکی اہلکاروں نے انتہائی عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا، اور اب ایران کے جوہری عزائم “خاک میں مل چکے ہیں”۔ وزیر دفاع نے خبردار کیا کہ اگر ایران جوابی کارروائی کرتا ہے تو اسے گزشتہ شب سے بھی زیادہ سخت ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کارروائی میں کسی ایرانی فوجی یا شہری کو نقصان نہیں پہنچا۔

جنرل ڈین کین نے بتایا کہ اس مشن کو “آپریشن مڈنائٹ ہیمر” کا نام دیا گیا تھا، جو ایک انتہائی خفیہ کارروائی تھی اور صرف محدود افراد کو اس کی معلومات تھیں۔ انہوں نے کہا کہ اس حملے میں 7 بی-2 بمبار طیاروں سمیت 125 سے زائد فوجی طیاروں نے حصہ لیا، جو امریکی تاریخ میں بی-2 طیاروں کا سب سے بڑا استعمال تھا۔

حملے میں مجموعی طور پر 75 گائیڈڈ ہتھیار استعمال کیے گئے، جن میں 14 جدید جی بی یو 57 بم بھی شامل تھے — یہ ان بموں کا پہلا عملی استعمال تھا۔

جنرل کین نے بتایا کہ جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب بی-2 اسٹیلتھ بمبار طیاروں نے امریکا سے پرواز کی، جن میں سے کچھ مغربی سمت اور کچھ مشرقی راستے سے روانہ ہوئے۔ ان طیاروں نے 18 گھنٹے طویل مشن کے دوران کئی بار فضائی ری فیولنگ کی۔

ایرانی فضائی حدود میں داخلے سے قبل، ایک امریکی آبدوز نے اصفہان میں کئی اہداف پر ٹام ہاک کروز میزائل فائر کیے۔ ایرانی وقت کے مطابق رات 2 بج کر 10 منٹ پر پہلے بی-2 طیارے نے فردو جوہری تنصیب پر دو GBU-57 بم گرائے، جس کے بعد دیگر بمبار طیاروں نے اصفہان اور نطنز میں اہداف کو نشانہ بنایا۔ پوری کارروائی صرف 25 منٹ میں مکمل کی گئی۔

ابتدائی اندازوں کے مطابق فردو، نطنز اور اصفہان میں موجود ایران کی تینوں اہم جوہری تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

جنرل کین کے مطابق ایرانی دفاعی نظام امریکی طیاروں کو شناخت نہ کر سکا اور نہ ہی کسی قسم کی مزاحمت سامنے آئی۔ انہوں نے کہا کہ امریکا نے جو کارروائی کی، وہ دنیا کی کوئی اور فوج نہیں کر سکتی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: طیاروں نے نے کہا کہ انہوں نے

پڑھیں:

روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن

روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔

کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔

جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل