ایلون مسک کمپیوٹر استعمال نہیں کرتے، انکے وکلا کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 24th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ٹیسلا اور اسپیس ایکس جیسی مشہور کمپنیوں کے مالک اور دنیا کے امیر ترین افراد میں شامل ایلون مسک کو عام طور پر ٹیکنالوجی کی دنیا کا بڑا نام سمجھا جاتا ہے، لیکن حالیہ عدالتی کارروائی میں ایک حیران کن انکشاف سامنے آیا ہے کہ وہ کمپیوٹر استعمال نہیں کرتے۔
یہ انکشاف کیلیفورنیا کی ایک عدالت میں زیر سماعت مقدمے کے دوران ایلون مسک کے وکلا کی جانب سے کیا گیا۔ عدالت میں جمع کروائے گئے بیان میں کہا گیا کہ ایلون مسک کی ای میلز اور موبائل فونز کی جانچ کی جا سکتی ہے، تاہم چونکہ وہ کمپیوٹر استعمال نہیں کرتے، اس لیے وہاں سے کوئی مواد حاصل نہیں ہو سکتا۔
یہ مقدمہ ایلون مسک اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی دنیا کی معروف کمپنی اوپن اے آئی کے درمیان جاری قانونی جنگ کا حصہ ہے۔ ایلون مسک نے اوپن اے آئی اور اس کے سی ای او سام آلٹمین کے خلاف مقدمہ دائر کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ کمپنی نے اپنے غیر منافع بخش مقاصد سے انحراف کیا ہے اور منافع کمانے کے لیے اصولوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ مسک کی کمپیوٹر نہ استعمال کرنے کی بات ان کے سوشل میڈیا رویے سے میل نہیں کھاتی۔ ایلون مسک ماضی میں اپنے لیپ ٹاپ کی تصاویر اور پوسٹس شیئر کر چکے ہیں، حتیٰ کہ انہوں نے کچھ ویڈیو گیمز کا بھی ذکر کیا ہے جو صرف کمپیوٹر پر کھیلی جا سکتی ہیں۔ دسمبر 2024 میں انہوں نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ایک پوسٹ میں اپنے تین سال پرانے لیپ ٹاپ کی تصویر بھی شیئر کی تھی۔
اس تضاد کے باوجود، ان کے وکلا کا مؤقف ہے کہ ایلون مسک زیادہ تر اپنا کام موبائل فونز کے ذریعے کرتے ہیں، اور وہ بھی ایسے فونز جو بڑے ڈسپلے کے حامل ہوں تاکہ کام میں آسانی ہو۔
اب یہ تنازعہ اس نہج پر پہنچ چکا ہے کہ دونوں فریق عدالت میں ایک دوسرے سے متعلق شواہد کے طور پر ای میلز اور دیگر دستاویزات جمع کرا رہے ہیں۔ مقدمے کے نتائج اور ان بیانات کی سچائی آئندہ سماعتوں میں مزید واضح ہوگی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ایلون مسک
پڑھیں:
کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) بلوچستان نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔
انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لیے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔
بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔