گلگت بلتستان میں لبنان طرز کے سیٹ اپ پر لعنت بھیجتے ہیں، کاظم میثم
اشاعت کی تاریخ: 25th, June 2025 GMT
اسمبلی میں بجٹ پر بحث کے دوران خطاب کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ اگر گورنر، وزیر اعلیٰ اور سپیکر ایک ہی مسلک سے ہوں تو ہم دل سے قبول کرینگے مگر ہم ہر قسم کی تفریق کو کسی بھی صورت برداشت نہیں کرینگے۔ اسلام ٹائمز۔ اپوزیشن لیڈر گلگت بلتستان اسمبلی محمد کاظم میثم نے کہا ہے کہ ہم کبھی بھی جمہوریت پر شب خون مارنے کی کوششوں کا حصہ نہیں بنیں گے اور ایک چھوٹی سی لالی پاپ اور نظر نہ آنے والی کرسی کیلئے عوام سے غداری نہیں کرینگے۔ انہوں نے بدھ کے روز بجٹ پر بحث کے دوران کہا کہ گلگت بلتستان میں جو لبنان طرز کا سیٹ اپ بنایا گیا ہے اس پر ہم لعنت بھیجتے ہیں، اگر گورنر، وزیر اعلیٰ اور سپیکر ایک ہی مسلک سے ہوں تو ہم دل سے قبول کرینگے مگر ہم ہر قسم کی تفریق کو کسی بھی صورت برداشت نہیں کرینگے۔ انہوں نے کہا کہ اس اسمبلی پر حکومت میں شامل اتحادی جماعت وار کرتی ہے اور پورے خطے کی توہین کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم بجٹ کے نقائص کی نشاندہی کرینگے اور کسی بھی قسم کی ناانصافی کو برداشت نہیں کرینگے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: نہیں کرینگے نے کہا کہا کہ
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔