پانچ فیصد دفاعی اخراجات کا ہدف نیٹو کے تعطل کو بے نقاب کرتا ہے ،چینی میڈیا WhatsAppFacebookTwitter 0 26 June, 2025 سب نیوز


بیجنگ :توسیع کے خواہاں لیکن ارکان کے درمیان منقسم نیٹو کے سربراہ اجلاس کی سودے بازی سے ظاہر ہوتا ہے کہ یورپی سلامتی سے متعلق اتفاق رائے حاصل کرنا مشکل ہے۔ مجوزہ 5 فیصد دفاعی اخراجات کے ہدف نے امریکہ اور یورپی یونین کی سیکیورٹی اعتماد میں دراڑ ڈالنے اور نیٹو کے رکن ممالک کے درمیان گہری تقسیم کو مزید بے نقاب کر دیا ہے۔

سی جی ٹی این کی جانب سے کئے جانے والے ایک عالمی سروے سے پتہ چلتا ہے کہ 67.

4 فیصد شرکاء نے نیٹو کی تیزی سے فوجی توسیع کی مذمت کی اور خبردار کیا کہ اس سے ہتھیاروں کی ایک نئی دوڑ شروع ہوسکتی ہے اور عالمی امن و استحکام کو شدید خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔پول میں 84.7 فیصد جواب دہندگان کا خیال ہے کہ نیٹو ایک مکمل جنگی مشین بن گیا ہے ، 73.8 فیصد شرکاء کو خدشہ ہے کہ 5 فیصد ہدف کے حصول سے عالمی فوجی عدم توازن میں تیزی آئے گی ، جس سے عالمی امن اور سلامتی کو سنگین خطرہ لاحق ہوگا۔
جبکہ 76.2 فیصد افراد کا خیال ہے کہ اخراجات کا تنازع نیٹو کے یورپی رکن ممالک کے درمیان مزید تقسیم کو جنم دے گا۔ 76.6 فیصد جواب دہندگان نے امریکہ پر الزام عائد کیا کہ وہ اپنے یورپی اتحادیوں کے خدشات کو نظر انداز کر رہا ہے۔ یورپ اور امریکہ کے درمیان سکیورٹی تعاون مزید بگڑ سکتا ہے جبکہ نیٹو کے اندر اختلافات بڑھتے جا رہے ہیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرامریکہ بین الاقوامی سمندری نظام کو تباہ کرنے والا ہے ، چینی نمائندہ امریکہ بین الاقوامی سمندری نظام کو تباہ کرنے والا ہے ، چینی نمائندہ ایران کیخلاف فوجی آپریشن انتہائی کامیاب رہا، بعض چینل بے بنیاد خبریں چلا رہے ہیں، امریکی وزیر دفاع کی بریفنگ ایران کے سپریم لیڈر کا جنگ میں فتح کا اعلان، ایرانی قوم کو مبارکباد امریکا اسرائیل کی مکمل تباہی کے خدشے پر جنگ میں شامل ہوا، کچھ حاصل نہ کرسکا، خامنہ ای اسرائیل کی غزہ میں دہشت گردی بڑھ گئی، امداد کے متلاشی 80 فلسطینی شہید جنگ کے آخری دنوں میں ایران نے اسرائیل کی بہت مار لگائی، ٹرمپ ، ایران پر امریکی حملوں کو ہیروشیما پر ایٹمی بمباری سے... TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: نیٹو کے

پڑھیں:

امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے خاتمے سے متعلق خبروں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں غلط اور گمراہ کن قرار دیا ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ یہ اطلاعات درست نہیں ہیں کہ ایران اور امریکا نے چند روز قبل ایک دوسرے سے بات چیت بند کردی ہے۔

ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان رابطے اور گفتگو کا سلسلہ مسلسل جاری ہے، اور آج بھی بات چیت ہوئی ہے۔

انہوں نے کہاکہ ان مذاکرات کا انجام کیا ہوگا، اس حوالے سے کوئی کچھ نہیں جانتا، تاہم ایران کو واضح پیغام دیا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ کسی نہ کسی صورت ایک معاہدہ کیا جائے۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران گزشتہ 47 برس سے اسی طرز پر معاملات چلا رہا ہے اور یہ صورتحال مزید جاری نہیں رہ سکتی۔

واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی بدستور برقرار ہے، اور پاکستان دونوں ممالک میں معاہدہ کرانے کے لیے بھرپور سفارتکاری کررہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews امریکا ایران مذاکرات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ معاہدہ وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • جنگ کا قیدی، اسرائیل امریکہ کو کہاں لے آیا؟
  • روس سے طالبان کے بڑھتے روابط پر افغان سوشل میڈیا میں بحث، ملا عمر کی جدوجہد اور موجودہ پالیسیوں کا موازنہ
  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
  • خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار