WE News:
2026-07-24@04:52:07 GMT

نیٹو کے سربراہ کا ٹرمپ کو ’ڈیڈی‘ کہنا موضوع بحث بن گیا

اشاعت کی تاریخ: 26th, June 2025 GMT

نیٹو کے سربراہ کا ٹرمپ کو ’ڈیڈی‘ کہنا موضوع بحث بن گیا

نیٹو کے نئے سیکریٹری جنرل مارک روٹے نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران اور اسرائیل کے بارے میں سخت زبان میں دی گئی حالیہ تقریر کا دفاع کرتے ہوئے انہیں مذاق میں ’ڈیڈی‘ کہہ دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’کبھی کبھی باپ کو سخت زبان استعمال کرنی پڑتی ہے‘۔

یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ٹرمپ نے ایک پریس کانفرنس میں اسرائیل اور ایران پر غصہ نکالتے ہوئے کہا کہ ’یہ دونوں ملک اتنی دیر سے لڑ رہے ہیں کہ انہیں خود بھی نہیں پتا کہ وہ کیا کر رہے ہیں‘۔

جب صحافیوں نے صدر ٹرمپ سے ان کے سخت الفاظ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا کہ ’یہ ایسے ہے جیسے 2 بچے اسکول کے میدان میں لڑ رہے ہوں‘۔

اس پر مارک روٹے نے مسکراتے ہوئے کہا، ’اور پھر ڈیڈی کو آ کر سخت الفاظ بولنے پڑتے ہیں‘۔

اس پر صدر ٹرمپ نے ہنستے ہوئے کہا، ’ڈیڈی؟ ۔۔ تم میرے ڈیڈی ہو!‘۔ انہوں نے یہ بات مذاق کے انداز میں کہی اور کہا کہ روٹے نے یہ بات محبت سے کہی ہے۔

ٹرمپ نے بعد میں مارک روٹے کی تعریفوں پر مبنی نجی پیغامات بھی عوام کے ساتھ شیئر کیے، جن میں روٹے نے ٹرمپ کی ایران کے بارے میں کارروائی کو ’غیر معمولی‘ قرار دیا اور کہا کہ ’آپ نے وہ کر دکھایا جو کئی دہائیوں میں کوئی امریکی صدر نہیں کر سکا‘۔

مارک روٹے نے نیٹو اجلاس میں ٹرمپ کی اس تجویز کی بھی حمایت کی کہ نیٹو کے رکن ممالک اپنی فوجی اخراجات بڑھا کر جی ڈی پی کا 5 فیصد کریں۔

انہوں نے ٹرمپ کو ’اچھا دوست‘ کہا اور ان کے اقدامات کی تعریف کی۔

جب ایک صحافی نے ان سے پوچھا کہ کیا ٹرمپ کی اتنی کھل کر تعریف کرنا انہیں کمزور نہیں دکھاتا؟ تو روٹے نے جواب دیا، ’ایسا نہیں لگتا، یہ تو بس ذوق کی بات ہے‘۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکی صدر ٹرمپ ڈونلڈ ٹرمپ ڈیڈی مارک روٹے نیٹو نیٹو صدر.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مارک روٹے نیٹو نیٹو صدر مارک روٹے روٹے نے ٹرمپ کی کہا کہ

پڑھیں:

ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی

امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔

میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔

ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔

تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔

اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔

ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔

گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔

مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔

 

 

متعلقہ مضامین

  • ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • گھوٹکی: سابق ایم پی اے شہریار شر کے بیٹے کو بازیاب کروالیا: ایس ایس پی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم