روس میں 4 کروڑ سال پرانے کاکروچ کی دریافت
اشاعت کی تاریخ: 27th, June 2025 GMT
روس کے علاقے کالینن گراڈ میں ایک کہربا یعنی ایمبر کے ٹکڑے سے تقریباً 3.5 سے 4 کروڑ سال پرانے کاکروچ کا فوسل دریافت ہوا ہے، یہ دریافت ٹیکنالوجی کی بڑی کمپنی روس ٹیک کے زیرانتظام کام کرنے والے کالینن گراڈ ایمبر کومبائن کے عملے نے ہاتھ سے چیزوں کو چھاننے کے دوران کی۔
یہ قدیم کیڑا 41 ضرب 21 ملی میٹر کے کہربا کے ایک ٹکڑے میں بند ہے، جس کا وزن 7 گرام ہے، کمپنی کے مطابق کاکروچ کہربا کی سطح کے کافی قریب محفوظ ہے، جس سے اس کے پروں، ٹانگوں اور سر کا تفصیلی مشاہدہ ممکن ہوا ہے۔
Russian miners find 40-million-year-old cockroach
The fossilized insect was discovered in a piece of amber in Kaliningrad Region pic.
— Acidicus (@Acidicus) June 26, 2025
کالینن گراڈ ایمبر کومبائن کی جیمولوجسٹ یعنی قیمتی پتھروں کی ماہر آنا دوگینا کا کہنا ہے کہ یہ پچھلے 5 سالوں میں کمپنی کو ملنے والا سب سے بڑا کاکروچ نما فوسل ہے، اور اس کی عمر کم از کم 3.5 سے 4 کروڑ سال کے درمیان بتائی گئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ کاکروچ بہت خوش قسمتی سے رال میں ڈھک گیا تھا، یہ کہربا کی سطح کے اتنا قریب ہے کہ نظر آ جائے، لیکن کنارے سے اتنا دور بھی ہے کہ پالش کرنے سے نقصان نہ پہنچے۔
یہ بھی پڑھیں:سائنسدانوں نے 27 کے قریب جنگلی اور آبی حیات کی نئی اقسام دریافت کر لیں
ماہرین کے مطابق اگرچہ یہ کیڑا آج کے عام کاکروچ سے مختلف ہے، مگر اس سے ملتی جلتی انواع اب بھی گرم علاقوں میں پائی جاتی ہیں۔
کالینن گراڈ ایمبر کومبائن دنیا کی واحد فیکٹری ہے جو صنعتی پیمانے پر کہربا نکالتی ہے، یہاں ایسے خاص طریقے استعمال کیے جاتے ہیں جن سے ان کہربا کے ٹکڑوں کی مکمل حفاظت کی جاتی ہے، خاص طور پر وہ جن میں پودوں یا جانوروں کے آثار موجود ہوں۔
یہ بھی پڑھیں:مریخ پر اب تک کا سب سے بڑا نامیاتی مالیکیول دریافت
یہ دریافت کالینن گراڈ کے ایمبر میوزیم کے ذخیرے میں شامل کی جائے گی، جہاں 14,000 سے زائد نایاب کہربا کے نمونے موجود ہیں، جن میں 3,000 سے زیادہ ایسے ٹکڑے شامل ہیں جن میں جاندار یا پودوں کے آثار ہیں۔
کالینن گراڈ میں پایا جانے والا بالٹک کہربا اپنی زبردست تفصیل کے ساتھ قدیم زندگی کے آثار محفوظ رکھنے کے لیے مشہور ہے۔ اس علاقے میں دنیا کے 90 فیصد سے زائد کہربا کے ذخائر موجود ہیں، جن میں اکثریت یانتارنی نامی گاؤں کے قریب پائی جاتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایمبر ایمبر کومبائن ایمبر میوزیم روس روس ٹیک کالینن گراڈ کہربا
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایمبر ایمبر کومبائن ایمبر میوزیم روس ٹیک کہربا ایمبر کومبائن کہربا کے
پڑھیں:
پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں سمیت مختلف شعبوں کے لیے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے گورننس، ٹیکنالوجی، توانائی اور خواتین کی فلاح و بہبود کو خصوصی ترجیح دی جائے گی۔
دستاویزات کے مطابق پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) اچیومنٹ پروگرام کے تحت ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 70 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کابینہ ڈویژن کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2 ارب روپے جبکہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے منصوبوں کے لیے ایک ارب 70 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں پارلیمنٹ لاجز کی اپ گریڈیشن کے لیے 5 کروڑ 60 لاکھ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسی طرح نیشنل آرکائیوز آف پاکستان کی بحالی اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے منصوبے کے لیے 5 ارب 50 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔
توانائی کے شعبے میں سرکاری عمارتوں میں شمسی توانائی کے نظام کی بہتری اور توانائی بچت اقدامات کے لیے 19 کروڑ 40 لاکھ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
وفاقی دارالحکومت میں جدید ٹیکنالوجی حب کے قیام کے لیے اسلام آباد ٹیکنوپولس منصوبے پر ایک ارب 58 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC) کے امتحانی نظام کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے 70 کروڑ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
خواتین کی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے تحت اسلام آباد میں ورکنگ ویمن ہاسٹل کے قیام کے لیے 16 کروڑ 70 لاکھ روپے جبکہ خواتین افسران کے لیے رہائشی سہولیات کی فراہمی کے منصوبے پر 82 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ڈیجیٹل گورننس، سرکاری اداروں کی استعداد کار بڑھانے، توانائی بچت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔