پی ٹی آئی عمران خان کو جیل میں رکھنے میں کامیاب ہوگئی، فیصل واوڈا
اشاعت کی تاریخ: 27th, June 2025 GMT
کراچی:
سینیٹر فیصل واوڈا نے مخصوص نشستوں کے حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلے کو قانونی لحاظ سے درست قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا کیس بہت کمزور تھا اور وہ پی ٹی آئی والے عمران خان کو جیل میں رکھنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔
سینیٹر فیصل واوڈا نے مخصوص نشستوں کے حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلے پر میڈیا کو دیے گئے انٹرویوز میں کہا کہ جب پونے دو سال قبل جب یہ مقدمہ دائر ہوا تھا تو اس وقت کہا تھا کہ اس مقدمے میں فیصلہ یہی ہونا ہے کہ تحریک انصاف کو مایوسی ہوگی اور یہ نشستیں ان کو نہیں ملیں گی۔
ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کا کیس قانونی لحاظ سے بہت ہی کمزور تھا، جس طرح یہ مقدمہ دائر ہوا تھا اور جس طرح اس کو چلایا گیا، اس لیے پہلے دن سے واضح تھا، قانونی کارروائی ہوتے ہوئے سپریم کورٹ میں ایک قانونی طور پر سننے کے بعد ایک فیصلہ دیا ہے، جو قانونی طور پر ٹھیک ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس میں اہم پہلو یہ تھا کہ شروع دن سے پی ٹی آئی جس حیل و حجت لے کر گئی تھیں، جس قدر قانونی خامیاں تھیں اور عام لوگوں کو بھی معلوم تھا کہ کیا ہوگا۔
فیصل واوڈا نے کہا کہ یہ فیصلہ میرے لیے تو کوئی سرپرائز نہیں ہے، میں 26 ویں ترمیم پر بھی واضح تھا اور 27 ویں ترمیم آئے گی، اس پر بھی انتہائی واضح ہوں، پہلے بھی قانون سازی ہونی تھی وہ قانون ساز کرچکے ہیں، آگے بھی کریں گے اور واضح اکثریت سے کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ میں نظر ثانی کی درخواستیں منظور، تحریک انصاف مخصوص نشستوں سے محروم
انہوں نے کہا کہ جہاں تک وہ مایوس ہیں اور ڈرامے بازی کر رہے ہیں، تحریک والے جو چاہتے تھے اس حساب سے ان کو کامیابی حاصل کی، اپنی سیاست لڑائی، مار دھاڑ، گالم گلوچ گھیراؤ کی سیاست اور پی ٹی آئی والے عمران خان کوجیل میں رکھنے میں کامیاب ہوگئے ہیں کیونکہ انہیں پتا ہے کہ وہ باہر آگئے تو یہ شکلیں نظر نہیں آئیں گی۔
سپریم کورٹ کے فیصلے پر بات کرتے ہوئے سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا کہ یہ کوئی نئی چیز نہیں ہے، ہم سب کو شروع دن سے واضح تھا، قانونی، اخلاقی اور جمہوری طور پر بھی واضح تھے۔
انہوں نے کہا کہ اتنی ساری کامیابیوں کے بعد حکومت کو پرفارم کرنا چاہیے اور تحریک انصاف کے لیے یہ شروع دن سے انتہائی مایوس کن تھا، وہ جو کچھ دکھا رہے ہیں یہ سب میک اپ اور آنکھوں کو دھول جھونکنا ہے۔
فیصل واوڈا نے کہا کہ وہ کہہ رہے ہیں احتجاج کریں گے تو میں کہنا چاہتا ہوں کہ اب پاکستان میں کوئی احتجاج نہیں کرسکتا ہے، احتجاج والی کہانی بالکل ختم ہوگئی ہے، اب ترقی اور تعمیری پاکستان کی بات ہوگی۔
ان کا کہنا تھا کہ اب مار دھاڑ اور اسمبلیوں میں احتجاج کرنے کی بات کرنا تو اسمبلیوں میں احتجاج کا ہمیں معلوم ہے، میں خود رکن ہوں، وہ سب ایک انڈراسٹینڈنگ سے ہوتا ہے، اسی کے تحت وہ باہر جاتے ہیں اور سب مراعات اور تنخواہیں لے رہے ہیں، اس لیے یہ سب ڈراما ہے۔
سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا کہ پاکستان میں جو سیاست ہوگی وہ تعمیری ہوگی، مجھ سمیت قانون ساز پہلے بھی بات کرتے تھے اب بھی کریں گے اور اب ذرا سکون سے کریں گے۔
ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ ان کے پاس بیانیہ نہیں ہے، جن کا بیانیہ بنانا ہے وہ اس حوالے سے زیرو ہیں اور اگر بیانیہ بنانے میں کوئی ہوشیار ہے تو پی ٹی آئی کے اندر عمران خان ضرور ہیں اور ہم نے بھی ان سے بیانیہ بنانا سیکھا ہے، اس لیے ہم بڑے بڑوں کا بیانیہ توڑتے تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سینیٹر فیصل واوڈا نے فیصل واوڈا نے کہا کہ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف سپریم کورٹ پی ٹی آئی رہے ہیں ہیں اور کریں گے تھا کہ
پڑھیں:
جیفری ایپسٹین سے روابط رکھنے والے ماڈلنگ اسکاؤٹ کی پیرس میں پراسرار موت
فرانسیسی حکام کے مطابق امریکی مالیاتی شخصیت اور جنسی جرائم کے مقدمات میں نامزد جیفری ایپسٹین سے روابط رکھنے والے فرانسیسی ماڈلنگ اسکاؤٹ ڈینیئل سیاد اپنے پیرس کے اپارٹمنٹ میں مردہ پائے گئے ہیں۔
69 سالہ ڈینیئل سیاد کی لاش پیر کی شب ان کے اپارٹمنٹ سے ملی، جبکہ حکام نے موت کی وجوہات معلوم کرنے کے لیے پوسٹ مارٹم کا حکم دے دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جیفری ایپسٹین کا خفیہ سوسائیڈ نوٹ منظر عام پر، موت کا وقت ’خود چننے‘ پر اظہار اطمینان
سیاد کی وکیل مینیا عرب-ٹیگرین نے امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز کو بتایا کہ ان کے مؤکل کی موت دل کا دورہ پڑنے سے ہوئی۔
تاہم ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ کئی ماہ سے جاری ذہنی دباؤ، عوامی بدنامی، طویل انتظار اور شدید اضطراب نے بھی ان کی صحت پر منفی اثرات ڈالے۔
Modeling scout Daniel Siad who introduced women to Jeffrey Epstein found dead in Paris pic.twitter.com/zMobl4buzz
— HatsOff (@HatsOffff) July 22, 2026
انہوں نے کہا کہ اگرچہ ابتدائی طور پر دل کا دورہ موت کی وجہ معلوم ہوتا ہے، تاہم حتمی رائے پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد ہی دی جا سکے گی۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے جاری کی گئی ایپسٹین فائلز میں ڈینیئل سیاد کا نام تقریباً 2 ہزار مرتبہ سامنے آیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق ایک ای میل میں سیاد نے مبینہ طور پر ایپسٹین کو لکھا تھا کہ وہ بارسلونا میں موجود ہیں اور ان کے پاس آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والی ایک نوجوان خاتون موجود ہے جسے وہ بارسلونا یا پیرس میں ماڈلنگ کے شعبے میں متعارف کرانا چاہتے ہیں۔
مزید پڑھیں: جیفری ایپسٹین نے ذاتی معاملات کو دباؤ کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی، بل گیٹس کا انکشاف
اس پر ایپسٹین نے مختصر جواب دیتے ہوئے صرف ’تصویر؟‘ لکھا تھا۔
اپریل 2009 کی ایک مبینہ ای میل میں سیاد نے براتسلاوا میں ماڈلز کی تلاش کے دوران ایک 17 سالہ سلوواک لڑکی کی تصاویر ایپسٹین کو بھیجی تھیں۔
پیرس کی پروسیکیوٹر لور بیکو کے مطابق انسانی اسمگلنگ اور فراڈ سے متعلق فروری میں شروع ہونے والی تحقیقات کے بعد اب تک کم از کم 24 خواتین ایسی سامنے آ چکی ہیں جنہوں نے ڈینیئل سیاد یا دیگر افراد کے خلاف مبینہ جرائم کے حوالے سے خود کو متاثرہ یا گواہ قرار دیا ہے۔
مزید پڑھیں: کیا سابق امریکی نائب صدر کملا ہیرس کے شوہر نے جیفری ایپسٹین کے ساتھ ہیلی کاپٹر میں سفر کیا؟
سیاد کی وکیل کا کہنا ہے کہ اگرچہ تفتیش کاروں نے ان سے متعلق تحقیقات کیں، لیکن فوری گرفتاری کے لیے کافی شواہد موجود نہیں تھے۔
’یہ بات فراموش نہیں کی جانی چاہیے کہ ڈینیئل سیاد کے خلاف کبھی مقدمہ نہیں چلایا گیا اور نہ ہی انہیں کسی عدالتی کارروائی میں باضابطہ طور پر نامزد کیا گیا۔‘
واضح رہے کہ امریکی سرمایہ کار جیفری ایپسٹین 2019 میں وفاقی تحویل کے دوران مردہ پائے گئے تھے، جبکہ ان کی موت کو سرکاری طور پر خودکشی قرار دیا گیا تھا، تاہم اس معاملے پر مختلف سوالات اور قیاس آرائیاں آج بھی جاری ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آسٹریلیا انسانی اسمگلنگ بارسلونا پوسٹ مارٹم جنسی جرائم جیفری ایپسٹین خودکشی ڈینیئل سیاد ماڈلنگ اسکاؤٹ