غزہ : امداد کے متلاشی فلسطینیوں پر جان بوجھ کر گولیاں چلائیں، اسرائیلی فوجیوں کا اعتراف
اشاعت کی تاریخ: 28th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
تل ابیب:اسرائیلی اخبار ہارٹز نے اپنی چشم کشا تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ غزہ میں امریکی و اسرائیلی امدادی منصوبے غزہ ہیومینیٹیرین فاؤنڈیشن (GHF) کے مراکز پر امداد کے منتظر فلسطینیوں پر اسرائیلی فوج نے جان بوجھ کر براہ راست فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں سینکڑوں فلسطینی شہید اور ہزاروں زخمی ہو چکے ہیں۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کےمطابق اسرائیلی فوج کے اہلکاروں اور افسران نے اخبار کو بتایا کہ کمانڈروں نے فوجیوں کو براہ راست فائرنگ کے احکامات دیے تاکہ امداد کے لیے جمع ہونے والے ہجوم کو منتشر کیا جا سکے چاہے وہ کسی قسم کا خطرہ نہ بھی بن رہے ہوں۔
اسرائیلی فوجیوں نے میڈیا کو بتایا کہ ہماری زبان صرف گولی ہے، ہر فلسطینی کو ہم جب چاہیں گولی مار سکتے ہیں، ہمیں یہاں تعینات کرنے کا مقصد ہی فلسطینیوں کو گولیاں مارکر ختم کرنا ہے، ہم ان لوگوں کو دشمن سمجھ کر مارتے ہیں، حالانکہ ان کے پاس کوئی ہتھیار نہیں ہوتے۔
ایک اہلکار نے کہا کہ”جہاں میری تعیناتی تھی وہاں روزانہ ایک سے پانچ افراد گولیوں کا نشانہ بنتے،
ہم پر کبھی کوئی فائرنگ نہیں ہوئی، غزہ میں انسانی جان کی کوئی قدر نہیں، ہم حکم کے جو فلسطینی نظر آئے گولی مارو۔
خیال رہےکہ GHF کے مراکز کا انتظام امریکی افراد کے پاس ہے جبکہ ان مراکز کی سیکورٹی کے مختلف دائرے ہیں، اندرونِ مرکز میں امریکی اہلکار موجود ہوتے ہیں اور بیرونی حفاظتی زون: اسرائیلی فوج، ٹینک، اسنائپرز اور مارٹر توپیں ہوتیں ہیں جو فلسطینیوں پر ظلم ڈھاتیں ہیں۔
واضح رہےکہ فلسطینی وزارت صحت کے مطابق 27 مئی سے اب تک 549 فلسطینی شہید اور 4,000 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے خاتمے سے متعلق خبروں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں غلط اور گمراہ کن قرار دیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ یہ اطلاعات درست نہیں ہیں کہ ایران اور امریکا نے چند روز قبل ایک دوسرے سے بات چیت بند کردی ہے۔
ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان رابطے اور گفتگو کا سلسلہ مسلسل جاری ہے، اور آج بھی بات چیت ہوئی ہے۔
انہوں نے کہاکہ ان مذاکرات کا انجام کیا ہوگا، اس حوالے سے کوئی کچھ نہیں جانتا، تاہم ایران کو واضح پیغام دیا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ کسی نہ کسی صورت ایک معاہدہ کیا جائے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران گزشتہ 47 برس سے اسی طرز پر معاملات چلا رہا ہے اور یہ صورتحال مزید جاری نہیں رہ سکتی۔
واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی بدستور برقرار ہے، اور پاکستان دونوں ممالک میں معاہدہ کرانے کے لیے بھرپور سفارتکاری کررہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews امریکا ایران مذاکرات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ معاہدہ وی نیوز