انسانی امداد کے نام پر قتلِ عام! غزہ میں خوراک لینے والے فلسطینی گولیوں کا نشانہ
اشاعت کی تاریخ: 27th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
غزہ:بین الاقوامی طبی تنظیم ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز (MSF) نے غزہ میں جاری اسرائیل امریکا مشترکہ خوراک تقسیم منصوبے کو “انسانی امداد کے نام پر قتلِ عام” قرار دیتے ہوئے اس کی فوری بندش کا مطالبہ کیا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کےمطابق ترجمان ایم ایس ایف کاکہنا ہےکہ گزشتہ ایک ماہ میں اس نام نہاد انسانی امدادی اسکیم کے تحت خوراک حاصل کرنے کی کوشش میں 500 سے زائد فلسطینی شہید اور تقریباً 4000 زخمی ہو چکے ہیں۔
تنظیم کے ترجمان کاکہنا تھا کہ یہ اسکیم “ایک سوچے سمجھے طریقے سے فلسطینیوں کو غیر انسانی طریقے سے خوراک کے حصول کے لیے خطرناک حالات میں دھکیلنے کی کوشش ہے،اسرائیلی محاصرے کے باعث 100 دن سے بھوکے فلسطینیوں کو طویل فاصلہ طے کرکے صرف چار مخصوص مقامات پر پہنچ کر خوراک کے ٹکڑوں کے لیے لڑنا پڑتا ہے۔
تنظیم کے ترجمان کا کہنا تھا کہ کہ موجودہ اسکیم صرف بھوک اور موت کی آڑ میں ظلم ہے، جسے فوری طور پر بند کیا جانا چاہیے۔
ایم ایس ایف کے ایمرجنسی کوآرڈینیٹر ایٹور زابالگوگیازکوا نے صورتحال کو “ایک جال” قرار دیتے ہوئے کہا کہ خوراک کی تقسیم کے یہ چاروں مقامات مکمل طور پر اسرائیلی کنٹرول والے علاقوں میں ہیں جہاں فلسطینیوں کو پہلے جبراً بے دخل کیا گیا، یہ جگہیں فٹبال گراؤنڈ جتنے بڑے میدان ہیں جن کے اردگرد نگرانی کے ٹاور، مٹی کے تودے اور خار دار تاریں ہیں۔
ایم ایس ایف کا کہنا تھا کہ فینس کھولنے کے بعد ہزاروں لوگ ایک ساتھ خوراک پر ٹوٹ پڑتے ہیں، جس کے دوران اکثر ہجوم پر فائرنگ کی جاتی ہے۔
زابالگوگیازکوا نے مزید کہاکہ اگر کوئی شخص جلدی پہنچتا ہے اور چیک پوائنٹ کے قریب آتا ہے تو اسے گولی مار دی جاتی ہے، اگر وقت پر پہنچتا ہے اور بھیڑ کی وجہ سے ماؤنڈز یا تاریں پھلانگتا ہے، تب بھی اسے نشانہ بنایا جاتا ہے، اگر دیر سے پہنچتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ وہ ‘خالی کراۓ گئے علاقے’ میں داخل ہو گیا ہے اور گولی مار دی جاتی ہے۔
ایم ایس ایف نے اسرائیلی حکام اور ان کے اتحادیوں سے مطالبہ کیا کہ اقوام متحدہ کا پرانا نظام بحال کیا جائے، خوراک، ایندھن، ادویات اور دیگر انسانی امداد پر سے پابندیاں ختم کریں، اقوام متحدہ کے ذریعے جاری پہلے سے قائم انسانی امدادی نظام کو بحال کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ایم ایس ایف
پڑھیں:
فیفا ورلڈکپ 2026 میں نافذ کیے جانے والے نئے قوانین کیا ہیں؟
فٹبال کے عالمی ادارے فیفا نے ورلڈکپ 2026 میں کئی نئے قوانین متعارف کروانے کی تصدیق کردی ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکا، میکسیکو اور کینیڈا میں منعقد ہونے والے فیفا ورلڈ کپ 2026 کے آغاز سے چند روز قبل فیفا اور انٹرنیشنل فٹبال ایسوسی ایشن بورڈ (آئی ایف اے بی) نے کھیل کے قوانین میں اہم تبدیلیوں کا اعلان کر دیا ہے۔
یہ نئے قواعد ورلڈ کپ کے دوران ہی نافذ العمل ہوں گے اور بعد ازاں 2026-27 سیزن کا بھی حصہ بنیں گے۔
نئے قوانین کے مطابق اگر کوئی کھلاڑی جان بوجھ کر تھرو اِن یا گول کِک لینے میں پانچ سیکنڈ سے زیادہ تاخیر کرے گا تو مخالف ٹیم کو فائدہ دیا جائے گا۔
اسی طرح میچ کے دوران فزیو سے علاج کروانے والے کھلاڑی کو ایک منٹ تک میدان سے باہر رہنا ہوگا، البتہ گول کیپرز اور بعض مخصوص صورتوں میں استثنیٰ دیا گیا ہے۔
فیفا کے چیف ریفری آفیسر پیئرلویجی کولینا کے مطابق ان تبدیلیوں کا مقصد وقت ضائع کرنے کی حوصلہ شکنی، کھیل کی رفتار میں اضافہ اور شائقین کے تجربے کو بہتر بنانا ہے۔
نئے ضوابط کے تحت جھگڑے یا تنازع کے دوران منہ ڈھانپ کر جملے کسنے والے کھلاڑی کو ریڈ کارڈ بھی دکھایا جا سکتا ہے۔
وی اے آر کے اختیارات میں بھی توسیع کی گئی ہے جس کے تحت کارنر کک کے فیصلے اور دوسرے یلو کارڈ کے نتیجے میں ہونے والی برطرفی پر ری ویو لیا جاسکے گا۔
متبادل کے لیے واپس بلائے جانے والے کھلاڑی کے پاس قریب ترین مقام پر میدان چھوڑنے کے لیے 10 سیکنڈز کا وقت ہوگا۔
اگر وہ ایسا کرنے میں ناکام رہتے ہیں تو متبادل کھلاڑی کم از کم ایک منٹ کے لیے کھیل کے اگلے اسٹاپیج تک میدان میں داخل نہیں ہو سکتا، یعنی ان کی ٹیم کو 10 کھلاڑیوں کے ساتھ کھیل جاری رکھنا ہوگا۔
علاوہ ازیں ہر ہاف میں تقریباً 22ویں منٹ پر تین منٹ کا ہائیڈریشن بریک بھی دیا جائے گا تاکہ کھلاڑی شدید گرمی میں بہتر کارکردگی دکھا سکیں۔