Jasarat News:
2026-06-03@03:17:10 GMT

حیدرآبا ،بارش میں ڈوب گیا،میئر کے دعوے کاغذی ثابت

اشاعت کی تاریخ: 28th, June 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

حیدرآباد (اسٹاف رپورٹر)حیدرآباد اور گرد نواح میں جمعہ کے روز بھی وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری، حیدرآباد پانی میں ڈوب گیا، مون سون کے حوالے سے میئر اور حیسکو کی جانب سے کئے گئے اقدامات کاغذی ثابت ہوئے شہر میں بجلی کا مکمل بریک ڈاؤن،پینے کے پانی کی قلت پورا نظام زندگی مفلوج ہوگیا،انتظامیہ اور اراکین اسمبلی صرف فوٹو سیشن تک حدود بارش کا سلسلہ جمعرات کی شب ساڑھے آٹھ بجے شروع ہوا جو ایک گھنٹے جاری رہا جس کے بعد شہرتاریکی میں ڈوب ہوگیا کچھ علاقوں میں بجلی رات گئے بحال ہوئی تاہم جمعہ کی صبح سے تاحال شہر بھی 80فیصد علاقوں میں بجلی کی بند جبکہ بارش کا سلسلہ جمعہ کی دوپہر ڈیڑھ بجے شروع ہو اجو وقفے وقفے سے تیز اور ہلکی بارش کی صورت میں جاری ہے شہر کے نہ صرف نشیبی علاقے بلکہ پورا شہر ہی پانی میں ڈوبا ہوا ہے سول اسپتال میں بجلی کا طویل بربیک ڈاؤن ، مریضوں کو پریشانی کا سامنا رہا ضلعی انتظامیہ، حیدرآباد کے میئر سمیت جملہ میونسپل کارپوریشن، واسا انتظامیہ اور حیسکو کے ذمہ داران کی جانب سے گذشتہ دس روز جاری اہم اجلاسوں میں محرم الحرام کے حوالہ سے پیشگی کیئے گئے ہنگامی انتظامات کے بلند بانگ دعواؤں کے جملہ پول کھول کر رکھ دیئے۔ مختصر بارش میں ہی شہر بھر کے نالے و نالیاں اور گٹر لائینوں کے مین ہولز اُبل پڑے، بارش گندے پانی کے سیلاب کی وجہ سے حیدرآباد کے اکثر علاقے گندے پانی میں ڈوب کر جھیل کا منظر پیش کرنے لگے عوام کاکہنا ہے کہ انتظامی ذمہ داران نے جتنا طویل وقت رسمی اجلاسوں اور فوٹو سیشنز میں ضائع کیا ہے اس سے آدھا وقت بھی اگر عملی طور پر نالوں اور نالیوں کی ڈی سلٹنگ، صفائی، روشنی و دیگر انتظامات پر دیتے تو حالات اس قدر ابتر نہ ہوتے انہوں نے حکومتِ سندھ کو حیدرآباد کے اس بدتر اور ابتر حالات کا فوری نوٹس لے کر انتظامات کو بہتر بنانے کے لئے اقدامات کرنے کی اپیل کی ہے حیسکو ترجمان کے مطابق اس وقت پوری حیسکو ریجن میں مون سون کی بارشیں شدید آندھی اور طوفان کے ساتھ جاری ہیں جس کی وجہ سے مختلف شہروں میں اس وقت 175 عدد 11 کے وی فیڈر کی بجلی کی فراہمی معطل ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: میں بجلی میں ڈوب

پڑھیں:

ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ؛ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان

اسلام آباد: ملک میں ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان ہے۔بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے. جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے .تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان
  • محکمہ موسمیات نے تیزہواؤں اور گرج چمک کیساتھ بارش کی پیش گوئی کردی
  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • میرپور آزاد کشمیر ، مری ، کھاریاں سمیت ملک کے کئی علاقوں میں تیز ہواؤں کیساتھ بارش
  • اوباڑو : تیز آندھی اور بارش کے باعث مختلف حادثات میں 50 کے قریب افراد زخمی
  • ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ؛ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان
  • کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا
  • میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟