حقائق کیخلاف ٹرمپ کی جنگ جاری، ایرانی جوہری پروگرام سے متعلق دعووں کی مسلسل تکرار
اشاعت کی تاریخ: 27th, June 2025 GMT
ایرانی جوہری تنصیبات کو "سنگین نقصان" پہنچانے کے بارے انتہاء پسند امریکی صدر کے دعووں پر سوالیہ نشان لگانے والی رپورٹوں کی وسیع اشاعت اس بات کا باعث بنی ہے کہ امریکی صدر کیجانب سے اب مسلسل یکساں بیانات ہی دہرائے جانے لگے ہیں، جبکہ امریکی میڈیا میں ان حملوں کا "انتہائی محدود" قرار دیا جا رہا ہے! اسلام ٹائمز۔ انتہاء پسند امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آج ایک مرتبہ پھر دعوی کیا ہے کہ ایران نے امریکہ کے ساتھ "براہ راست ملاقات" کی خواہش ظاہر کی ہے۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اس ملک (ایران) کے اہداف کو شدید حملوں کا سامنا کرنا پڑا ہے تاہم ایرانی فوجی کارروائیوں سے متعلق "جعلی خبریں" پھیلائی گئی ہیں۔
انتہاء پسند امریکی صدر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایرانی جوہری تنصیبات کو بمباری سے قبل خالی نہیں کیا گیا تھا نیز یہ کہ ایران اب اپنے جوہری پروگرام کو دوبارہ سے شروع کرنے کی کوشش میں بھی نہیں! ٹرمپ نے مطالبہ کیا کہ عالمی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) یا کسی بھی قابلِ اعتماد ادارے کے ذریعے ایرانی جوہری تنصیبات کا "معائنہ" کیا جانا چاہیئے، اور ایک مرتبہ پھر تکرار کرتے ہوئے کہا کہ ہم ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیں گے!
واضح رہے کہ امریکی ذرائع ابلاغ، قبل ازیں، متعدد رپورٹوں میں اعلان کر چکا ہے کہ حالیہ امریکی حملے ایرانی جوہری پروگرام کو، اپنی بہترین حالت میں واپس پلٹنے کے حوالے سے، زیادہ سے زیادہ چند ماہ ہی، پیچھے دھکیلنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ایرانی جوہری امریکی صدر
پڑھیں:
ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔