ایرانی جوہری پروگرام سے متعلق رپورٹنگ ، امریکی صدرنے صحافیوں کی برطرفی کا مطالبہ کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 27th, June 2025 GMT
واشنگٹن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 27 جون2025ء) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر امریکی حملوں کے اثرات سے متعلق "سی این این" چینل اور "نیویارک ٹائمز اخبار کی رپورٹوں پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ان اداروں کے صحافیوں کو برطرف کر دیا جائے۔ العر بیہ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا ویب سائٹ "ٹروتھ سوشل" پر لکھا کہ یہ رپورٹر "اپنی بد نیتی کی وجہ سے برے لوگ" ہیں۔
(جاری ہے)
سی این این، نیویارک ٹائمز اور واشنگٹن پوسٹ نے دعویٰ کیا تھا کہ حالیہ امریکی فضائی حملے زیرِ زمین ایرانی جوہری تنصیبات کو مکمل طور پر تباہ نہیں کر سکے، جس پر ٹرمپ نے ان رپورٹوں کو "جعلی خبریں" قرار دیا اور کہا کہ ایران کا جوہری پروگرام عشروں تک پیچھے چلا گیا ہے۔دی ٹائمز کے مطابق، ٹرمپ نے اخبار کو قانونی کارروائی کی دھمکی دی اور معافی کا مطالبہ کیا جسے اخبار نے مسترد کر دیا۔ ٹرمپ اور ان کے معاونین نے سی این این کی رپورٹر نتاشا برترانڈ پر بھی شدید تنقید کی، جنہوں نے ابتدائی خفیہ رپورٹ شائع کی تھی۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔