ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں نے یمن سے ایک بیلسٹک میزائل جنوبی اسرائیل پر فائر کیا۔ میزائل کا ہدف اسرائیل کے شہر بیئرسبع، ڈیمونا اور ارد کے قریبی علاقے تھے۔

یہ بھی پڑھیں:اسرائیل کا یمن میں حوثی اہداف پر حملہ، مزید کارروائیوں کی دھمکی

حملے کے فوراً بعد ان شہروں میں خطرے کے سائرن بجا دیے گئے تاکہ لوگ محفوظ مقام پر جا سکیں۔

اسرائیلی دفاعی نظام نے میزائل کو روک دیا

اسرائیلی فوج (IDF) نے دعویٰ کیا ہے کہ میزائل کو فضا میں تباہ کر دیا گیا۔ کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ حملے سے چند منٹ پہلے شہریوں کو ان کے موبائل فون پر وارننگ الرٹ بھیج دیا گیا تھا۔

حوثیوں نے حملے کی ذمہ داری قبول کر لی

حوثی باغیوں نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اسرائیل کے ہوائی اڈوں کو نشانہ بنایا۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ کارروائی اسرائیل اور امریکا کے خلاف ان کے ’مزاحمتی اقدام‘ کا حصہ ہے، خاص طور پر غزہ میں جاری اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے جواب میں۔

اسرائیل کا جواب دینے کا عندیہ

اسرائیل کے وزیر اعظم اور وزیر دفاع نے اس حملے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اسرائیل پر حملے جاری رہے تو وہ بھی بھرپور جواب دیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:اسرائیل کے بین گوریون ایئرپورٹ پر حوثیوں کا میزائل حملہ، 6 زخمی

ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل اپنی سلامتی پر کوئی سمجھوتا نہیں کرے گا۔

علاقائی کشیدگی میں اضافہ

یہ حملہ خطے میں جاری کشیدگی کا حصہ ہے، جہاں ایک طرف غزہ میں جنگ جاری ہے، دوسری طرف امریکا اور دیگر ممالک کی مداخلت بھی بڑھ رہی ہے۔

حوثیوں نے مستقبل میں مزید حملوں کا عندیہ دیا ہے، جس سے حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔ عالمی برادری نے اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیل بیلسٹک میزائل حوثی یمن.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسرائیل بیلسٹک میزائل اسرائیل کے

پڑھیں:

ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ ہونے والے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کے دوبارہ انعقاد کا فیصلہ

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ کر دیے گئے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کو دوبارہ منعقد کرنے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ تقریب اب 24 جولائی کو منعقد ہوگی اور صدر ٹرمپ اس میں شرکت کریں گے۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تقریب میں شرکت کی دعوت قبول کر لی ہے۔ یہ تقریب واشنگٹن میں صحافیوں اور میڈیا نمائندوں کے اعزاز میں منعقد کی جاتی ہے اور امریکی سیاسی و میڈیا حلقوں کی اہم تقریبات میں شمار ہوتی ہے۔

صدر ٹرمپ نے اس حوالے سے اپنے بیان میں کہا کہ وہ ’پاگل عناصر‘ کو اپنی طرزِ زندگی یا اپنے شیڈول میں تبدیلی لانے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی سرگرمیاں اور سرکاری تقریبات معمول کے مطابق جاری رہیں گی۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ فی الحال یہ کہنا مشکل ہے کہ آیا وہ تقریب میں پہلے کی طرح سخت اور دوٹوک انداز میں خطاب کریں گے یا نہیں، تاہم اس بارے میں جلد ہی صورتحال واضح ہو جائے گی۔

صدر ٹرمپ کے مطابق یہ تقریب پنسلوانیا ایونیو پر واقع والڈورف آسٹوریا کے بال روم میں منعقد ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اس مقام کی تعمیر میں ان کا بھی کردار رہا ہے۔

یاد رہے کہ رواں سال اپریل میں واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے میڈیا نمائندوں کے اعزاز میں منعقدہ عشائیے کے دوران فائرنگ کا واقعہ پیش آیا تھا۔ اس واقعے میں صدر ٹرمپ محفوظ رہے جبکہ حملہ آور کو موقع پر گرفتار کر لیا گیا تھا۔

بعد ازاں امریکی حکام نے ملزم پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو قتل کرنے کی کوشش کا باضابطہ الزام عائد کیا تھا، جس کے بعد سکیورٹی خدشات کے پیش نظر پریس ڈنر کو منسوخ کر دیا گیا تھا۔

اب تقریب کی دوبارہ میزبانی کے اعلان کو صدر ٹرمپ کی معمول کی سرگرمیوں کی بحالی اور سکیورٹی اداروں کے اعتماد کا اظہار قرار دیا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ ہونے والے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کے دوبارہ انعقاد کا فیصلہ
  • اٹلی‘ 4 پاکستانی قتل: مکمل معلومات نہیں ملیں: دفتر خارجہ 
  • آبنائے ہرمز میں کشیدگی میں اضافہ: قشم جزیرے پر امریکی حملے، ایران کے کویت اور بحرین میں امریکی اہداف پر وار
  • روس کے کیف سمیت مختلف یوکرینی شہروں پر شدید حملے، 18 افراد ہلاک، 100 سے زائد زخمی
  • ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کا پھیلاؤ، 4 مریض اسپتال داخل، الرٹ جاری
  • جاپان میں جنگلی ریچھ نے حملے کر کے چار افراد کو زخمی کر دیا
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف