محرم الحرام: سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر ملک بھر میں فوج تعینات کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 28th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: محرم الحرام کے دوران ملک بھر میں امن و امان کو یقینی بنانے کے لیے وفاقی وزارت داخلہ نے اہم اقدام اٹھاتے ہوئے پاک فوج کو تعینات کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
ذرائع کے مطابق وزارت داخلہ نے چاروں صوبوں، گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سکیورٹی کی نازک صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے فوج کی تعیناتی کی منظوری دے دی ہے۔
وفاقی حکام کا کہنا ہے کہ متعلقہ صوبوں اور علاقوں کی جانب سے سکیورٹی کے خدشات کے پیش نظر فوج کی تعیناتی کی باضابطہ درخواستیں موصول ہوئی تھیں، جنہیں منظور کرتے ہوئے وزارت داخلہ نے نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔
جاری کردہ نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ فوجی دستے محرم الحرام کے دوران سول انتظامیہ کے شانہ بشانہ فرائض انجام دیں گے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کی مدد کے لیے ہمہ وقت تیار رہیں گے۔
یہ فیصلہ اس پس منظر میں کیا گیا ہے جب محرم کے ایّام میں ماضی میں بعض علاقوں میں فرقہ وارانہ کشیدگی یا ناخوشگوار واقعات رونما ہو چکے ہیں، جنہیں روکنے کے لیے حکومت نے سخت حفاظتی اقدامات اٹھانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
وفاقی وزارت داخلہ کے مطابق فوج کی تعیناتی کا مقصد مجالس، جلوسوں اور دیگر مذہبی اجتماعات کو پرامن ماحول میں یقینی بنانا ہے تاکہ عوام بلا خوف و خطر مذہبی رسومات ادا کر سکیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: وزارت داخلہ
پڑھیں:
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائمقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اہم اجلاس31 جولائی کو طلب کر لیا گیا جس میں صدر پاکستان و چانسلر کی ہدایات پر قائمقام وی سی کی تعیناتی سے متعلق ایجنڈے پر دوبارہ غور کیا جائے گا۔
تفصیلات کے مطابق صدر پاکستان نے 24اپریل کو ریفرنس وزارت تعلیم کو بھجوایا ہے جس میں بطور چانسلر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن ایکٹ کی شق8(6)کے تحت سینٹ کے 17ویں اجلاس کے ایجنڈا نمبر13پر دوبارہ غور کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔
دستیاب دستاویز کے مطابق 5 جنوری2026 کو ہونے والے سینیٹ کے17ویں اجلاس میں سابق وائس چانسلر پروفیسر حناطیبہ خلیل کو بطور وائس چانسلر کام جاری رکھنے کی منظوری دی گئی حالانکہ پروفیسر حنا طیبہ خلیل دو ٹرم مکمل کر چکی تھیں۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم نے بھی پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن کے سینٹ اجلاس (جس میں حناطیبہ خلیل کو قائمقام وائس چانسلر ذمہ داریاں جاری رکھنے کی منظوری دی) کو کالعدم قرار دینے کی سفارش کر رکھی۔
قائمہ کمیٹی کی چیئرپرسن بشری انجم بٹ نے اجلاس کے دوان کہا تھا کہ عبوری وائس چانسلر کی تعیناتی سے متعلق ایوان صدر نے واضح کیا تھا کہ ایجنڈے کی منظوری نہیں لی گئی تھی۔
ذرائع نے بتایا کہ بشری انجم بٹ نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن کی وائس چانسلر کی تعیناتی سے متعلق ریفرنس ایوان صدر کو بھجوایا جس میں کہا گیا کہ انسٹی ٹیوٹ کے فیکلٹی ممبران ،افسران اور سٹیک ہولڈرز کی جانب سے الزامات لگائے کہ پروفیسر حناطیبہ خلیل وائس چانسلر بد انتظامی اور اختیارات کے غلط استعمال کی پریکٹس میں ملوث ہیں۔
انسٹی ٹیوٹ کی پروکیورمنٹ اور مالی معاملات میں بے ضابطگیوں سمیت انسٹی ٹیوٹ میں گورننس کے بدترین صورتحال ہے، اس کے علاوہ گرلز ہاسٹل کی تعمیر سے متعلق 450 ملین کے ٹینڈرز میں مبینہ بے ضابطگیاں بھی ہوئی ہیں۔
ایوان صدر نے سینیٹر بشری انجم بٹ کی جانب سے بھجوائے گئے ریفرنس پر اپنی سفارشات وزارت تعلیم کو بھجوا دی ہیں،
وزارت تعلیم کے ذرائع نے سینیٹ اجلاس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایوان صدر کی ہدایات کی روشنی میں سینئر فیکلٹی ممبر کو ہی قائمقام وائس چانسلر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن تعینات کیا جائے گا اور اس حوالے سے سنیارٹی لسٹ منگوا لی گئی ہے،