اسلام آباد (اپنے سٹاف رپورٹر سے +نوائے وقت رپورٹ) وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ آبی وسائل پر کام کر رہے ہیں، پانی ہماری لائف لائن ہے، بھارت سندھ طاس یکطرفہ طور پر معاہدہ معطل نہیں کرسکتا، ثالثی عدالت کے فیصلے سے پاکستانی مؤقف کو تقویت ملی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ اس فیصلے سے پاکستان کے اس دیرینہ مؤقف کو تقویت ملی ہے کہ بھارت یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدے کو معطل یا ختم نہیں کر سکتا۔ یہ فیصلہ پاکستان کے لیے ایک اہم سفارتی اور قانونی کامیابی ہے۔ پاکستان آبی وسائل کے تحفظ اور بہتر انتظام پر کام کر رہا ہے کیونکہ پانی ہماری معیشت اور زرعی پیداوار کے لیے لائف لائن کی حیثیت رکھتا ہے۔ وزیراعظم نے وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ اور اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان کی بین الاقوامی قانونی محاذ پر کی گئی کاوشوں کو سراہا اور ان کی خدمات کی تعریف کی۔ وزیراعظم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان سندھ طاس معاہدے کی روح کے مطابق اپنے آبی حقوق کا ہر ممکن تحفظ یقینی بنائے گا اور کسی بھی یکطرفہ اقدام کو تسلیم نہیں کرے گا۔ دوسری جانب شہباز شریف نے ایک بار پھر پی ٹی آئی کو مذاکرات کی پیشکش کر دی۔ رپورٹ کے مطابق ذرائع نے کہا کہ وزیراعظم نے چئیرمین پی ٹی آئی کو بیٹھ کر بات کرنے کی پیش کش کر دی۔ شہباز شریف نے چیئرمین پی ٹی آئی کہا کہ بیٹھ کر بات کرتے ہیں، مذاکرات ہی تمام چیزوں کا حل ہے، پہلے بھی آپ کو کہا ہے کہ بیٹھ کر بات کر لیں، بیرسٹر گوہر نے مکالمے کے جواب میں ‘‘انشااللہ’’ کہا۔ ذرائع کے مطابق وزیر اعظم کے مشیر رانا ثنااللہ نے بھی پی ٹی آئی کو مذاکرات کی پیش کش کر رکھی ہے۔ شہباز شریف اور بیرسٹر گوہر کے درمیان مکالمہ مخصوص نشستوں کے فیصلے سے قبل ہوا، قومی اسمبلی میں وزیراعظم شہباز شریف اٹھ کر بیرسٹر گوہر سے مصافحہ کرنے بھی آئے۔وزیراعظم محمد شہباز شریف اور چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک کے درمیان ٹیلی فون  پر رابطہ ہوا جس میں چیئرمین این ڈی ایم اے نے وزیرِ اعظم کو ملک میں حالیہ بارشوں کی صورتحال کا جائزہ پیش کیا۔ وزیراعظم  نے چیئرمین این ڈی ایم اے کو ملک بھر میں بالخصوص بالائی علاقوں میں صوبائی حکومتوں کے ساتھ رابطے میں رہنے اور معاونت فراہم کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے موبائل فون میسج کے ذریعے شہریوں کو موسمی صورتحال کی پیشگی اطلاع دینے کی بھی ہدایت  کی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: شہباز شریف فیصلے سے

پڑھیں:

سیمنٹ پیداوار رائلٹی کیس، پنجاب حکومت کے فیصلے پر وفاقی آئینی عدالت کا سخت اظہارِ تشویش

وفاقی آئینی عدالت میں سیمنٹ پیداوار رائلٹی کیس کی سماعت کے دوران پنجاب حکومت کی جانب سے رائلٹی کے نفاذ کے طریقۂ کار پر عدالت نے سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ کیس کی سماعت جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی، جس میں مختلف قانونی نکات اور رائلٹی کے دائرہ کار پر تفصیلی ریمارکس دیے گئے۔

یہ بھی پڑھیں:سرکاری ملازمین کی سینیارٹی سے متعلق وفاقی آئینی عدالت نے بڑا فیصلہ سنا دیا

سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دیے کہ رائلٹی کا نفاذ معدنیات پر ہونا چاہیے نہ کہ سیمنٹ کی تیار شدہ بوری پر، کیونکہ فینشڈ پروڈکٹ پر رائلٹی عائد کرنے سے اس کا بوجھ بالآخر عوام پر منتقل ہوگا۔ جسٹس روزی خان نے کہا کہ فیکٹری مالکان کا نقصان نہیں ہوتا بلکہ رائلٹی کا اثر عام صارف تک پہنچتا ہے، جس سے سیمنٹ کی قیمت میں اضافہ ہوگا۔

جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ حکومت فینش پروڈکٹ پر رائلٹی کیسے وصول کر سکتی ہے اور کیا اس کے نتیجے میں سیمنٹ کی بوری کی قیمت میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کو اپنے لاء افسران کو اس معاملے پر واضح ہدایات دینی چاہئیں کہ اس نوعیت کا نفاذ قانونی طور پر مناسب نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:آن لائن بینک فراڈ کیس میں وفاقی آئینی عدالت کا شہری کے حق میں فیصلہ

عدالت میں وکیل احسن بھون نے مؤقف اختیار کیا کہ حکومت صرف معدنیات پر رائلٹی وصول کر سکتی ہے، جبکہ فینشڈ پروڈکٹ پر رائلٹی دراصل ایک بالواسطہ ٹیکس کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیمنٹ کی بوری پر رائلٹی کا نفاذ دراصل ڈبل ایکسائز ٹیکس کی وصولی کے برابر ہے۔

دورانِ سماعت ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے حکومت سے مزید ہدایات لینے کے لیے مہلت دینے کی استدعا کی، جسے عدالت نے منظور کرتے ہوئے مزید وقت فراہم کر دیا۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت آئندہ تاریخ تک ملتوی کر دی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پنجاب حکومت رائلٹی کیس سیمنٹ کیس وفاقی آئینی عدالت

متعلقہ مضامین

  • سیمنٹ پیداوار رائلٹی کیس، پنجاب حکومت کے فیصلے پر وفاقی آئینی عدالت کا سخت اظہارِ تشویش
  • بجٹ میں عوام کو ریلیف دینے کیلیے اقدامات کر رہے ہیں، وزیراعظم
  • بار ایسوسی ایشنز اور بار کونسلز کی ہڑتالیں غیر قانونی قرار؛ وفاقی آئینی عدالت کا حکم
  • کاروباری رہنماؤں کا حکومتی معاشی پالیسیوں پر اعتماد، تعاون جاری رکھنے کا عزم
  • اسحاق ڈار کا کویتی وزیر خارجہ سے رابطہ‘ بیلجیئم میں تعینات پاکستانی سفیر کی ملاقات
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف
  • گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف