شاداب خان کے کندھے کی انجری سے متعلق اہم پیشرفت
اشاعت کی تاریخ: 4th, July 2025 GMT
کراچی:
شاداب خان کے کندھے کی سرجری جمعہ کو لندن میں ہوگی، آل راؤنڈر بنگلا دیش اور ویسٹ انڈیز کے خلاف سیریز میں حصہ نہیں لے سکیں گے جبکہ ایشیا کپ میں بھی شرکت مشکوک ہے کیونکہ انھیں مکمل فٹ ہونے میں 6 سے 12 ہفتے لگ سکتے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق شاداب خان کو دورہ نیوزی لینڈ اور پھر بنگلا دیش سے ہوم سیریز میں کپتان سلمان علی آغا کا نائب بنایا گیا تھا، پی ایس ایل میں ان کی زیر قیادت اسلام آباد یونائیٹڈ کی ٹیم اعزاز کا دفاع نہیں کر سکی تھی۔
بنگلا دیش سے ہوم سیریز کے تین میچز میں انہوں نے 4 وکٹیں لیں اور 2 اننگز میں 55 رنز بنائے، اب رواں ماہ گرین شرٹس کو جوابی ٹور کرنا ہے، البتہ ٹیم کو اس میں شاداب کا ساتھ حاصل نہیں ہوگا، وہ کندھے کی انجری کا شکار ہیں جس کی لندن میں جمعہ کو سرجری ہوگی، انھیں مکمل فٹ ہونے میں 6 سے 12 ہفتے لگ سکتے ہیں۔
ذرائع نے بتایا کہ شاداب کو گزشتہ کچھ عرصے سے کندھے میں تکلیف کا سامنا تھا جس سے انھیں گیند تھرو کرنے میں دشواری ہوتی تھی، معاملہ اس وقت سنگین رخ اختیار کر گیا جب بنگلا دیش سے سیریز میں گگلی کرتے ہوئے بھی وہ مشکلات محسوس کرنے لگے، جب وہ تعطیلات گزارنے انگلینڈ گئے تو وہاں ایم آر آئی اسکین سے انجری کی سنگینی کا علم ہوا، ڈاکٹر نے انھیں فوری طور پر سرجری کرانے کا مشورہ دیا۔
شاداب نے خود بھی سوچا کہ ابھی وہ 26 سال کے ہیں اور آگے بڑا کیریئر موجود ہے جسے خطرے میں نہیں ڈالنا چاہیے، وہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ 2026 میں ٹیم کو چیمپیئن بنوانے کا عزم رکھتے ہیں اس لیے ابھی سرجری کا فیصلہ کیا ہے، پی سی بی ان حقائق سے واقف ہے، شاداب چونکہ سینٹرل کنٹریکٹ یافتہ کھلاڑی ہیں لہٰذا ان کی میڈیکل اخراجات بورڈ کی جانب سے ہی ادا کیے جانے کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ شاداب خان اب تک 6 ٹیسٹ، 70 ون ڈے انٹرنیشنل اور 112 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچز میں پاکستان کی نمائندگی کر چکے ہیں۔ اس دوران انہوں نے 1947 رنز بنائے جبکہ 211 وکٹیں بھی حاصل کیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بنگلا دیش
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔