کانگریس رہنما مانی شنکر آئر نے مودی کو بھارت کی تاریخ کا بدترین وزیرِاعظم قرار دیدیا
اشاعت کی تاریخ: 8th, July 2025 GMT
بھارت میں حکمران جماعت بی جے پی کی انتہا پسند پالیسیوں اور مذہبی منافرت پر مبنی طرز حکمرانی کے خلاف تنقید میں مزید شدت آ گئی ہے۔ کانگریس کے سینئر رہنما مانی شنکر آئر نے وزیر اعظم نریندر مودی کو بھارت کی تاریخ کا ’بدترین وزیرِاعظم‘ قرار دیتے ہوئے ان پر جمہوریت کو مسخ کرنے، معاشرتی تقسیم پیدا کرنے اور مسلمانوں کے خلاف منظم نفرت انگیزی پھیلانے کا الزام عائد کیا ہے۔
مانی شنکر آئر کا کہنا تھا کہ مودی سرکار کے ہندوتوا نظریات نے بھارت کو اندرونی طور پر کمزور کر دیا ہے۔ ان کے بقول، جب تک بھارت کو مودی حکومت سے نجات نہیں ملتی، ملک کا مستقبل اندھیروں میں گھرا رہے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ حالیہ انتخابات میں نصف سے زائد ہندوؤں سمیت دو تہائی بھارتی عوام نے نریندر مودی کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ مودی صرف ایک تہائی ووٹ لے کر اقتدار میں آئے، مگر انہوں نے خود کو بھارت کا سب سے آمرانہ رہنما ثابت کیا ہے۔
مزید پڑھیں: مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں کو بڑا دھچکا، بھارت-امریکا تجارتی مذاکرات تعطل کا شکار
آئر نے الزام لگایا کہ گزشتہ انتخابی مہم میں مودی نے 159 تقریروں میں سے 110 تقاریر میں مسلمانوں کو براہ راست نشانہ بنایا۔ یہ بی جے پی کے اس مسلم دشمن ایجنڈے کا حصہ ہے جس کی بنیاد پر وہ ہندوتوا کو ریاستی پالیسی بنا چکی ہے۔
انہوں نے یاد دلایا کہ بابری مسجد کی شہادت کی بنیاد بھی بی جے پی نے رکھی تھی، اور آج تک یہی جماعت بھارت میں مندر، مسجد اور نفرت کی سیاست کو ہوا دے رہی ہے۔
مانی شنکر آئر نے کہا کہ بی جے پی کا نعرہ ایک قوم، ایک زبان، ایک ثقافت، ایک انتخاب نہ صرف بھارت کے تنوع کے خلاف ہے بلکہ اس کی تاریخی اور ثقافتی شناخت پر حملہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مودی کے دور اقتدار میں بھارت میں جمہوریت کے پردے میں آمریت، نفرت، اور انتہا پسندی کا راج ہے۔ بی جے پی مذہبی اور ثقافتی بنیادوں پر معاشرے کو تقسیم کر رہی ہے، اور ہندوتوا نظریے کے فروغ کے لیے ملک کی روایتی اقدار پر سمجھوتا کرچکی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بدترین وزیرِاعظم بھارت بی جے پی حکمران جماعت کانگریس مانی شنکر آئر مودی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بھارت بی جے پی کانگریس بی جے پی
پڑھیں:
نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
بھارت میں نیٹ (NEET) امتحان کے مبینہ پیپر لیک کے خلاف دہلی سے شروع ہونے والا احتجاج اب ملک کے مختلف شہروں تک پھیل گیا ہے۔ طلبہ کی جانب سے امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور اصلاحات کے مطالبات زور پکڑتے جا رہے ہیں، جبکہ دہلی یونیورسٹی نے اپنے طلبہ اور اساتذہ کو جنتر منتر پر جاری احتجاج میں شرکت سے گریز کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
پیپر لیک کے خلاف احتجاج اب صرف دارالحکومت دہلی تک محدود نہیں رہا۔ ممبئی، کولکاتا، بنگلورو، حیدرآباد، پٹنہ، لکھنؤ، چندی گڑھ اور دیگر شہروں میں بھی طلبہ تنظیموں نے ریلیاں، دھرنے اور احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے ہیں۔ متعدد مقامات پر طلبہ نے امتحانی نظام میں اصلاحات، پیپر لیک میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی اور شفاف امتحانی عمل کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔
Huge crowd of students floods roads of Nashik.
Student protest is now getting pan India surge. pic.twitter.com/tW5HlH2LuY
— VIZHPUNEET (@vizhpuneet) July 23, 2026
ادھر اپوزیشن جماعتیں بھی طلبہ کی حمایت میں میدان میں آ گئی ہیں۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی اور ’انڈیا اتحاد‘ کے دیگر رہنماؤں نے احتجاجی طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ دہرایا ہے۔
دوسری جانب نیٹ دہلی یونیورسٹی نے اپنے سرکاری بیان میں کہا ہے کہ جنتر منتر پر ہونے والے اجتماعات سپریم کورٹ کی ہدایات کے تحت منظم کیے جاتے ہیں اور کسی بھی غیرقانونی مظاہرے میں شرکت کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق ایسے اقدامات طلبہ کی سلامتی، تعلیمی مستقبل اور پیشہ ورانہ مواقع کو متاثر کر سکتے ہیں، اس لیے انہیں احتجاجی سرگرمیوں سے دور رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ، نئی دہلی میں طلبہ کے احتجاج پر لاٹھی چارج
یونیورسٹی نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی جعلی اور گمراہ کن خبروں سے بھی خبردار کرتے ہوئے طلبہ کو غیر مصدقہ معلومات شیئر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ پیپر لیک معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی، تاہم طلبہ تنظیموں نے واضح کیا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارت احتجاج دہلی احتجاج نیٹ پیپر لیک