سوامی سشیل گوسوامی مہاراج نے کہا کہ سماج میں جو بھی جرائم ہوتے ہیں اس سے پورا سماج متاثر ہوتا ہے، ہم نے حکومت سے گذارش کی تھی کہ پارلیمنٹ میں مذہبی بحثوں کے علاوہ اس مسئلے پر بھی بحث کرائی جائے۔ اسلام ٹائمز۔ سماج میں جرائم کے بڑھتے ہوئے واقعات اور اس کی روک تھام کے موضوع پر جماعت اسلامی ہند کی جانب سے کُل مذاہب آن لائن کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ کانفرنس کی صدارت جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر پروفیسر انجینئر سلیم نے کی۔ اس کانفرنس میں مختلف مذاہب کے مذہبی رہنماؤں اور دانشوروں نے شرکت کی۔ کانفرنس میں سوامی سشیل گوسوامی مہاراج، سوامی سروالوکا نند، فادر ناربرٹ ہرمین، ربی ازاکیل اساک مالیکر، مرزبان ناریمن زائوالا اور سسٹر بے کے حسین نے اپنے خیالات کا اظہارکیا۔ اپنے صدارتی خطبے میں جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر پروفیسر انجینئر سلیم نے سماج میں بڑھتے ہوئے جرائم پر اپنی سخت تشویش کا اظہار کیا۔ جرائم کی مختلف شکلوں کی نشاندھی کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس زمین پر انسان خدا کی سب سے اعلیٰ مخلوق ہے۔ انہوں نے کہا کہ صرف سخت قانون بنا کر جرائم کو نہیں روکا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ جرائم اس وقت تک نہیں رک سکتے جب تک کہ سماج میں جرم کے خلاف بیداری نہ پیدا کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ جرائم بڑھنے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ انسان اپنا مقصد حیات بھول گیا ہے۔ انسانی وقار کا تحفظ تمام مذاہب کی بنیادی تعلیمات میں موجود ہے، لیکن ان سب کے باوجود انسان جرائم کی گندگی میں ملوث ہے۔ انہوں نے کہا کہ جرائم سماج میں تیزی سے بڑھ رہے ہیں، انسانی رشتوں کی پامالی ہورہی ہے، طاقتور کمزور کے خلاف جرم میں ملوث ہے، عورتوں اور بچوں کے خلاف جرائم میں اضافہ ہورہا ہے۔ پروفیسر انجینئر سلیم نے کہا کہ حکومت کی پشت پناہی میں ہونے والے جرائم زیادہ خطرناک ہوتے ہیں۔ حکومت کو چاہیئے کہ وہ جرائم پیشہ عناصر کی پشت پناہی بند کرے۔ عالمی سطح پر ہونے والے جرائم کا ذکر کرتے ہوئے پروفیسر انجینئر سلیم نے کہا کہ یوکرین اور فلسطین میں انسانیت کے خلاف جنگی جرائم بڑے پیمانے پر ہو رہے ہیں۔

کانفرنس منعقد کرنے کے لئے جماعت اسلامی ہند کی ستائش کرتے ہوئے سروا دھرم سنسد کے سوامی سشیل گوسوامی مہاراج نے مبارک باد پیش کی۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ سماج میں جو بھی جرائم ہوتے ہیں اس سے پورا سماج متاثر ہوتا ہے، ہم نے حکومت سے گذارش کی تھی کہ پارلیمنٹ میں مذہبی بحثوں کے علاوہ اس مسئلے پر بھی بحث کرائی جائے۔ سشیل گوسوامی مہاراج نے کہا کہ سماج میں جو برائیاں ہیں اس پرسبھی دھرم گروؤں کو خاص توجہ دینی چاہیئے۔ انہوں نے کہا جرم ایک ایسی برائی ہے جو تمام مذہب کو نقصان پہنچاتی ہے۔ انہوں نے کہا جرم اور تشدد کے لئے کسی ایک مذہب کو مورد الزام نہیں ٹھرایا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایک ایسے ملک میں رہتے ہیں جہاں مختلف مذاہب کے ماننے والے افراد بستے ہیں، ایسے میں تمام مذہبی لوگوں کو ایک پلیٹ فارم اکٹھا ہوکر اس مسئلے کے حل کے بارے میں سوچنا چاہیئے۔ 

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: پروفیسر انجینئر سلیم نے سشیل گوسوامی مہاراج جماعت اسلامی ہند انہوں نے کہا کہ کہ سماج میں کے خلاف

پڑھیں:

عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران

پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی سحر کامران کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پیش آنے والے واقعے پر اب تک معافی نہیں مانگی جبکہ وزیراعظم کو اپنے وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لینا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے اگلے وزیراعظم بلاول بھٹو زرداری، سینیٹر سحر کامران نے دعویٰ کیوں کیا؟

وی ایکسکلوسیو میں گفتگو کرتے ہوئے سحر کامران نے بتایا کہ قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے دوران انہوں نے وزارت اور متعلقہ سیکریٹری سے سوال کیا تھا کہ کمیٹی کے اجلاس میں تقریباً 12 ارب روپے مالیت کے 14 منصوبوں کی منظوری لی گئی تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ بجٹ میں 14 ارب روپے سے زائد مالیت کے 17 منصوبے منظور کیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کا صرف یہ سوال تھا کہ وہ 3 اضافی منصوبے کون سے تھے جو قائمہ کمیٹی کے سامنے پیش نہیں کیے گئے۔ ان کے بقول انہوں نے پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) سے متعلق بھی ایجنڈے کے مطابق چند سوالات کیے لیکن اسی دوران وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اونچی آواز میں گفتگو کرنے لگے جس سے انہیں شدید تضحیک کا احساس ہوا۔

سحر کامران کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس صورتحال پر واک آؤٹ کرنے کا فیصلہ کیا تاہم ان کے مطابق عطا اللہ تارڑ نے دوبارہ بلند آواز میں کہا کہ ’یہ ممبر کمیٹی کو ہائی جیک کرنا چاہتی ہیں‘، حالانکہ ان کے بقول انہوں نے ایسا کوئی اقدام نہیں کیا تھا۔

مزید پڑھیے: امریکا ایران مذاکرات، پیپلز پارٹی کا کردار پسِ منظر میں کیوں؟

رکن قومی اسمبلی نے مزید کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ عطا اللہ تارڑ کے رویے پر انہیں اعتراض ہوا ہو۔ ان کے مطابق اس سے قبل بھی ایک پارلیمانی سوال کے جواب میں وزیر اطلاعات نے ان کے سوال کا متعلقہ جواب نہیں دیا تھا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب انہوں نے قومی اسمبلی میں اس معاملے کی نشاندہی کی تو عطا اللہ تارڑ نے جواب دیا کہ میرا یہی کام ہے کہ سوال جیسا بھی ہو جواب میں اپنی مرضی کا دیتا ہوں۔

سحر کامران نے سپیکر قومی اسمبلی کے رویے پر بھی اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایوان میں جانبداری محسوس ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ اس سے قبل بھی ایک وفاقی وزیر کی جانب سے پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان کے ساتھ بھی نامناسب رویہ اختیار کیا گیا تھا۔

سحر کامران نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ وزرا کے رویے کا نوٹس لیں اور پارلیمانی روایات کے مطابق ارکان کے ساتھ احترام پر مبنی طرز عمل یقینی بنائیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے جمہوریت اور آئین کی بالادستی کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ ان کے بقول پارٹی آج بھی جمہوریت کے استحکام کی خاطر وفاقی حکومت کی اتحادی ہے تاہم اسی وجہ سے کابینہ کا حصہ نہیں بنی۔

مزید پڑھیں: عطا تارڑ کا بڑا ایکشن: واجبات کی ادائیگی تک نجی ٹی وی کے اشتہارات بند کا اعلان

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی ملک کے تمام صوبوں کے علاوہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بھی نمایاں نمائندگی موجود ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

رکن قومی اسمبلی سحر کامران سحر کامران کو عطا تارڑ سے شکایت وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ

متعلقہ مضامین

  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار