لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن )سینئر صحافی حامد میر نے بلوچستان میں غیرت کے نام پر گولیاں مار کر قتل کیئے گئے مرد اور عورت کے کیس میں ایک اور تہلکہ خیز انکشاف کر دیا ہے ۔

تفصیلات کے مطابق سینئر صحافی حامد میر نے ایکس پر جاری پیغام میں کہا کہ ’’ مجھے بتایا گیا ہے کہ بانو کے والد اور شوہر اس کے قتل کے خلاف تھے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ وہ احسان کی بلیک میلنگ کا شکار تھی۔ بانو نے اپنی جان دینا قبول کر لیا تاکہ اپنے خاندان کو اُس سردار کے انتقام سے بچا سکے جس نے بغیر کسی تفصیل میں جائے، بانو اور احسان دونوں کو مارنے کا حکم دیا تھا۔‘‘

بارشوں اور سیلاب سے قیمتی جانوں کا ضیاع، پیپلز پارٹی جنوبی پنجاب کی قیادت کا اظہارِ افسوس

I am told that father and husband of Bano were against the murder of the lady because she was a victim of blackmailing by Ehsan.

She accepted to embrace death just to save her family from the revenge of Sardar who ordered to kill both Bano and Ehsan without going into details https://t.co/TKIztmF5Ca

— Hamid Mir حامد میر (@HamidMirPAK) July 22, 2025

یاد رہے کہ عید سے چند روز قبل بلوچستان مقامی جرگہ کے حکم پر خاتون بانو اور احسان کو غیرت کے نام پر گولیاں مار کر قتل کر دیا گیا تھا جس کی ویڈیو چند روز انٹرنیٹ پر وائرل ہوئی اور بلوچستان حکومت نے کارروائی کرتے ہوئے 13 ملزمان کو حراست میں لیا جس میں جرگے میں قتل کا حکم جاری کرنے والا سردار شیرباز بھی شامل ہے ۔

کوئٹہ کی پولیس سرجن ڈاکٹر عائشہ فیض نے بتایا ہے کہ مقتولین کی قبر کشائی کے بعد ان کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے۔انھوں نے کہا کہ مقتولہ خاتون کو سات گولیاں لگیں جن میں سے ایک ان کے سر پر ماری گئی تھی، جبکہ مرد کو نو گولیاں لگی تھیں اور یہ گولیاں اس کے سینے اور پیٹ میں لگیں۔انھوں نے بتایا کہ یہ واقعہ چار جون 2025 کو پیش آیا تھا اور خاتون کی عمر 35 برس کے قریب ہے۔

بلوچستان میں غیرت کے نام پر خاتون کے قتل پر مذمتی قرارداد پنجاب اسمبلی میں جمع کرا دی گئی

وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے بتایا کہ جو خاتون ہلاک ہوئی ہیں ان کے پانچ بچے ہیں اور جو آدمی مارا گیا ہے اس کی عمر 50 سال کے قریب ہے اور اس کے بھی چار، پانچ بچے ہیں۔

پولیس کی جانب سے موصول ہونے والی ایف آئی آر کے مطابق یہ واقعہ کوئٹہ کے تھانہ ہنہ سے 40 سے 45 کلومیٹر دور سنجیدی ڈیگار نامی علاقے میں پیش آیا۔ پولیس نے 15 افراد کو ایف آئی آر میں نامزد کیا ہے۔

مزید :

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

پڑھیں:

لاپتا امریکی سائنسدان خاتون کی باقیات جنگل سے برآمد، پراسرار گمشدگیاں معمہ بن گئیں

امریکی ریاست نیو میکسیکو کے شمالی علاقے میں واقع ایک قومی جنگل سے گزشتہ ہفتے ملنے والی انسانی باقیات کی شناخت میلیسا کاسیاس کے طور پر کر لی گئی ہے، جو تقریباً ایک سال قبل لاپتا ہو گئی تھیں۔

حکام کے مطابق وہ لاس الاموس نیشنل لیبارٹری سے وابستہ سائنسدان تھیں۔

میلیسا کاسیاس ان کم از کم 10 افراد میں شامل ہیں جو حالیہ برسوں میں امریکا کے حساس جوہری اور خلائی تحقیقاتی منصوبوں سے وابستہ رہے اور یا تو ہلاک ہوئے یا پراسرار طور پر لاپتا ہو گئے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی جوہری اور خلائی پروگرام سے وابستہ 10 سائنسدانوں کی پراسرار ہلاکت، ٹرمپ کا تحقیقات کا حکم

ان واقعات نے مختلف سوالات کو جنم دیا ہے اور سوشل میڈیا پر قیاس آرائیوں کو بھی ہوا دی ہے۔

نیو میکسیکو اسٹیٹ پولیس کے مطابق 28 مئی کو ایک سیاح نے کارسن نیشنل فاریسٹ کے میک گیفی رج علاقے میں انسانی باقیات دریافت کیں۔

یہ مقام کاسیاس کے شہر تاؤس میں واقع گھر سے تقریباً 15 میل کے فاصلے پر ہے۔ باقیات کے ساتھ ایک ہینڈگن بھی ملی۔

The 53-year-old woman was one of 10 dead or missing scientists and staffers linked to sensitive federal nuclear and aerospace research. https://t.co/mZ36EeDyYF pic.twitter.com/bgAIBGm5PT

— KTLA (@KTLA) June 3, 2026

ریاستی دفتر برائے میڈیکل انویسٹی گیٹر نے باقیات کی مثبت شناخت کر لی ہے، تاہم تاحال موت کی وجہ اور نوعیت کا تعین نہیں کیا جا سکا۔

حکام کے مطابق دریافت شدہ باقیات کے مزید بشریاتی معائنے کیے جائیں گے۔

مزید پڑھیں: سائنسدانوں کی بڑی تعداد امریکا کیوں چھوڑنا چاہتی ہے؟

54 سالہ میلیسا کاسیاس کو آخری بار جون 2025 میں نیو میکسیکو کے علاقے ٹالپا کے قریب ایک شاہراہ پر پیدل چلتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔

پولیس کے مطابق وہ اپنا پرس، شناختی دستاویزات اور موبائل فون گھر پر چھوڑ گئی تھیں، میڈیا رپورٹس کے مطابق ان کے ایک فون کو فیکٹری ری سیٹ بھی کیا گیا تھا۔

کاسیاس 26 جون 2025 کو اس وقت لاپتا قرار دی گئیں جب وہ کام پر نہ پہنچیں اور اپنی بیٹی کے دفتر جانے کے بعد گھر واپس بھی نہ آئیں۔

اس وقت حکام نے کہا تھا کہ کسی مجرمانہ کارروائی کے شواہد نہیں ملے تھے۔

مزید پڑھیں: امریکا کے خفیہ بائیو لیب پروگرام پر ایک دہائی سے جاری تنازع دوبارہ شدت اختیار کر گیا

واضح رہے کہ حالیہ برسوں میں امریکا کے حساس جوہری اور خلائی تحقیقاتی منصوبوں سے وابستہ میلیسا کاسیاس سمیت کم از کم 10 افراد ہلاک یا پراسرار طور پر لاپتا ہو چکے ہیں۔

اسی طرح لاس الاموس نیشنل لیبارٹری کے ایک اور ریٹائرڈ ملازم انتھونی شاویز بھی مئی 2025 میں لاپتا ہو گئے تھے، تاہم پولیس کے مطابق اس معاملے میں بھی کسی مجرمانہ کارروائی کے آثار نہیں ملے۔

دیگر واقعات میں ایک ریٹائرڈ امریکی فضائیہ کے میجر جنرل کی گمشدگی اور کیلیفورنیا میں ایک ماہر فلکیات کے قتل کا واقعہ بھی شامل ہے۔

ان معاملات کے تناظر میں امریکی کانگریس کی ہاؤس اوور سائٹ کمیٹی نے اپریل میں حساس سائنسی معلومات تک رسائی رکھنے والے افراد کی اموات اور گمشدگیوں کی تحقیقات کا اعلان کیا تھا۔

مزید پڑھیں:

امریکی ایف بی آئی کا کہنا ہے کہ وہ محکمہ توانائی اور دیگر وفاقی، ریاستی اور مقامی اداروں کے ساتھ مل کر یہ جاننے کی کوشش کر رہی ہے کہ آیا ان واقعات کے درمیان کوئی ممکنہ تعلق موجود ہے یا نہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکی سائنسدان امریکی فضائیہ ایف بی آئی پُراسرار شناختی دستاویزات قومی جنگل کانگریس لاس الاموس محکمہ توانائی نیشنل فاریسٹ نیشنل لیبارٹری نیو میکسیکو

متعلقہ مضامین

  • لاپتا امریکی سائنسدان خاتون کی باقیات جنگل سے برآمد، پراسرار گمشدگیاں معمہ بن گئیں
  • کرایہ داری ایکٹ کی خلاف ورزی پر کریک ڈاؤن تیز، 5600 سے زائد ملزمان گرفتار
  • لاہور: ماں دوسرے شوہر کے ساتھ چلی گئی، عدالت کے باہر 8 بیٹیاں روتی رہیں، ویڈیو وائرل
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • مومنہ اقبال کے شوہر کون، تفصیلات سامنے آگئیں
  • پنکی کے بعد کراچی سے ایک اور منشیات فروش خاتون گرفتار
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر
  • لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق