مقتولہ بانو کا شوہر اور والد قتل کے خلاف تھے، وہ احسان کی بلیک میلنگ کا شکار تھی: حامد میر کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 22nd, July 2025 GMT
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن )سینئر صحافی حامد میر نے بلوچستان میں غیرت کے نام پر گولیاں مار کر قتل کیئے گئے مرد اور عورت کے کیس میں ایک اور تہلکہ خیز انکشاف کر دیا ہے ۔
تفصیلات کے مطابق سینئر صحافی حامد میر نے ایکس پر جاری پیغام میں کہا کہ ’’ مجھے بتایا گیا ہے کہ بانو کے والد اور شوہر اس کے قتل کے خلاف تھے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ وہ احسان کی بلیک میلنگ کا شکار تھی۔ بانو نے اپنی جان دینا قبول کر لیا تاکہ اپنے خاندان کو اُس سردار کے انتقام سے بچا سکے جس نے بغیر کسی تفصیل میں جائے، بانو اور احسان دونوں کو مارنے کا حکم دیا تھا۔‘‘
بارشوں اور سیلاب سے قیمتی جانوں کا ضیاع، پیپلز پارٹی جنوبی پنجاب کی قیادت کا اظہارِ افسوس
I am told that father and husband of Bano were against the murder of the lady because she was a victim of blackmailing by Ehsan.
یاد رہے کہ عید سے چند روز قبل بلوچستان مقامی جرگہ کے حکم پر خاتون بانو اور احسان کو غیرت کے نام پر گولیاں مار کر قتل کر دیا گیا تھا جس کی ویڈیو چند روز انٹرنیٹ پر وائرل ہوئی اور بلوچستان حکومت نے کارروائی کرتے ہوئے 13 ملزمان کو حراست میں لیا جس میں جرگے میں قتل کا حکم جاری کرنے والا سردار شیرباز بھی شامل ہے ۔
کوئٹہ کی پولیس سرجن ڈاکٹر عائشہ فیض نے بتایا ہے کہ مقتولین کی قبر کشائی کے بعد ان کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے۔انھوں نے کہا کہ مقتولہ خاتون کو سات گولیاں لگیں جن میں سے ایک ان کے سر پر ماری گئی تھی، جبکہ مرد کو نو گولیاں لگی تھیں اور یہ گولیاں اس کے سینے اور پیٹ میں لگیں۔انھوں نے بتایا کہ یہ واقعہ چار جون 2025 کو پیش آیا تھا اور خاتون کی عمر 35 برس کے قریب ہے۔
بلوچستان میں غیرت کے نام پر خاتون کے قتل پر مذمتی قرارداد پنجاب اسمبلی میں جمع کرا دی گئی
وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے بتایا کہ جو خاتون ہلاک ہوئی ہیں ان کے پانچ بچے ہیں اور جو آدمی مارا گیا ہے اس کی عمر 50 سال کے قریب ہے اور اس کے بھی چار، پانچ بچے ہیں۔
پولیس کی جانب سے موصول ہونے والی ایف آئی آر کے مطابق یہ واقعہ کوئٹہ کے تھانہ ہنہ سے 40 سے 45 کلومیٹر دور سنجیدی ڈیگار نامی علاقے میں پیش آیا۔ پولیس نے 15 افراد کو ایف آئی آر میں نامزد کیا ہے۔
مزید :
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔