اسٹیبلشمنٹ کسی سیاسی عمل میں نہیں آنا چاہتی، طلال چوہدری
اشاعت کی تاریخ: 13th, July 2025 GMT
وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کسی سیاسی عمل میں نہیں آنا چاہتی، پی ٹی آئی کو مذاکرات کرنے ہیں تو اسپیکر کی میز پر لوٹنا ہو گا۔
فیصل آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے طلال چوہدری نے کہا کہ ژوب میں پنجاب سے تعلق رکھنے والے 9 افراد کوشہید کیا گیا، بلوچستان میں پنجابیوں کے خلاف بیانیہ بنایا جارہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بھارت کی اسپانسرڈپراکیسزپنجاب کے خلاف بیانیہ بناتی ہیں، پنجاب نےاین ایف سی ایوارڈ میں بلوچستان کےعوام کو ان کاحصہ دیا، مرنے والے پنجابی نہیں پاکستانی ہیں، مارنے والے فتنہ الہندوستان کے دہشت گرد ہیں۔
وزیر مملکت نے کہا کہ پنجاب میں بلوچی اورپشتون کاروبارکرتے ہیں اوررہائش پذیر بھی ہیں۔
طلال چوہدری نے کہا کہ چوہدری دہشت گردوں کے تانے بانے بیرون ملک سے ملتے ہیں، بلوچستان سے نکلنے والی گیس کا 70 فیصد بلوچستان خود استعمال کرتا ہے، کچھ عناصرنفرت کی آگ میں انسانیت کادرس بھول گئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ کسی سیاسی عمل میں نہیں آنا چاہتی، پی ٹی آئی کو مذاکرات کرنے ہیں تو اسپیکر کی میز پر لوٹنا ہو گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: طلال چوہدری نے کہا
پڑھیں:
سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد:اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔
جسٹس انعام امین منہاس نے درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار کی جانب سے بیرسٹر ظفر اللہ جبکہ اسسٹنٹ اٹارنی جنرل، ایف آئی اے اور امیگریشن حکام بھی عدالت پیش ہوئے۔ عدالتی ہدایت پر بیرسٹر ظفر اللہ نے کوئٹہ پولیس کا خط پڑھا۔
جسٹس انعام امین منہاس نے استفسار کیا کہ متعلقہ پولیس کہہ رہی ہے بندہ نہیں چاہیے، ایف آئی اے کو بھی مطلوب نہیں، جن کو چاہیے تھا ان کو بھی اب نہیں چاہیے، پھر ابھی تک نام کیوں نہیں نکالا؟
ایف آئی اے حکام نے جواب دیا کہ ای سی ایل میں نام نہیں ہے، صرف پی این آئی لسٹ میں نام ہے جو 28 مارچ کو ڈالا گیا۔
عدالت نے استفسار کیا کہ اس لسٹ میں نام کتنے دن کے لیے ہوتا ہے اور کب مکمل ہوئی؟ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ ایک ماہ کے لیے ہوتا ہے اور پھر ایک ماہ کی توسیع لینا ہوتی ہے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ زیادہ سے زیادہ 60 روز رکھ سکتے ہیں تو اب جولائی ہے، کتنے ماہ ہوگئے ہیں؟ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ 5 ماہ ہوگئے، ابھی تک ہمیں آفیشلی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
عدالت نے ایف آئی اے افسر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اتنے وقت کیسے آپ رکھ سکتے ہیں، کس قانون کے تحت ابھی تک رکھا ہوا ہے۔ جسٹس راجہ انعام امین نے ریمارکس دیے کہ ایسے کتنے ہی کیسز ہمارے پاس آرہے ہیں، کتنی بار لکھ بھی چکے ہیں، سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی ہے۔
عدالت نے سردار یار محمد رند کی سفری پابندی لسٹ سے نام نکالنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔