مہوش حیات ساتھی اداکار ساحر لودھی کو ٹرول کرنے والوں پر شدید برہم
اشاعت کی تاریخ: 23rd, July 2025 GMT
پاکستان شوبز کے مشہور میزبان اور اداکار ساحر لودھی ایک بار پھر سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بن گئے ہیں۔
ان دنوں ساحر لودھی کے آفیشل سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر ان کی روزمرہ مصروفیات کی ویڈیوز پوسٹ کی جارہی ہیں، جن میں وہ ہمیشہ کسی میٹنگ کی تیاری کرتے نظر آتے ہیں اور ایسا دکھاتے جیسے اچانک انکی ویڈیو بن رہی ہے اور وہ اس سے بےخبر تھے۔
A post common by Sahir Lodhi (@sahir_lodhi)
ان ویڈیوز میں اُن کے مصنوعی تاثرات اور ایک جیسے انداز کے باعث یہ کلپس میمز کی شکل میں وائرل ہو چکے ہیں۔ جس کے بعد سوشل میڈیا انفلوئنسرز کے ساتھ ساتھ معروف اداکار یاسر نواز، فیصل قریشی اور اعجاز اسلم نے ان ویڈیوز کا مزاحیہ انداز میں جواب دیا، جس پر صارفین نے بھرپور دلچسپی کا مظاہرہ کیا۔
A post common by Dialogue Pakistan (@dialoguepakistan)
تاہم اداکارہ مہوش حیات نے ساحر لودھی کا مزاق بنانے والوں پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں آڑے ہاتھوں لے لیا اور کہا کہ ساحر لودھی انڈسٹری کے ایک بہترین فنکار ہیں جنہوں نے اپنا نام بنانے میں بہت محنت کی ہے اور کسی کی محنت اور جدوجہد کا مذاق اُڑانا درست نہیں۔
A post common by SANA FAYSAL (@sanafaysal)
مہوش حیات نے کہا کہ ساحر لودھی نے ایک مشکل انڈسٹری میں مستقل مزاجی سے اپنا مقام بنایا ہے اور اُن کا تمسخر اُڑانا ناانصافی ہے۔ ان کے مطابق ہمیں دوسروں کے جذبات کا احترام کرنا چاہیے اور ہمدردی کو فروغ دینا چاہیے۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: ساحر لودھی
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔