ترقیاتی منصوبوں کی ریکارڈ مدت میں تکمیل کارکردگی کا ثبوت ، مریم نواز ، متعلقہ افسران کو شاباش
اشاعت کی تاریخ: 8th, July 2025 GMT
راولپنڈی: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کہنا ہے کہ پنجاب ترقی کی راہ پرگامزن ہے۔ بارہ ہزار کلومیٹر سڑکیں بنا دیں۔ ترقیاتی منصوبوں کا جال بچھا دیا ہے۔ مریم نواز نے یوم عاشورہ پرسیکیورٹی کے بہترین انتظام کرنے پر تمام متعلقہ افسران کو شاباش دی۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ صوبے میں ترقیاتی منصوبوں کا ریکارڈ مدت میں آغاز اور تکمیل پنجاب حکومت کی کارکردگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب تک 12 ہزار کلومیٹر طویل سڑکیں تعمیر کی جا چکی ہیں، جس سے عوام کو آمد و رفت میں نمایاں سہولت ملی ہے۔
راولپنڈی میں انڈرپاس منصوبے کو مثال بناتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ یہ منصوبہ ریکارڈ مدت میں مکمل ہوا اور اس کے ذریعے سڑک کو مکمل طور پر سگنل فری بنا دیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ راولپنڈی ڈویژن کے تمام اسکولوں کو ری ویمپ کیا جا رہا ہے تاکہ تعلیمی معیار مزید بہتر بنایا جا سکے۔
مریم نواز نے کہا کہ پنجاب میں 50 ارب روپے کی لاگت سے صاف پانی کی فراہمی کا بڑا منصوبہ شروع کیا جا رہا ہے، جس کے تحت جنوبی پنجاب سمیت تمام اضلاع میں صاف پانی مہیا کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے بھر میں چھوٹے ڈیمز بھی تعمیر کیے جائیں گے تاکہ صاف پانی کی مستقل فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔
نالہ لئی کی بہتری کے منصوبے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ راولپنڈی میں نالہ لئی کو بھی ری ویمپ کیا جائے گا تاکہ شہریوں کو بارشوں کے دوران مسائل سے نجات ملے۔
یوم عاشورہ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے سیکیورٹی انتظامات کو ”مثالی“ قرار دیا اور کہا کہ تمام متعلقہ افسران نے ذمہ داری سے فرائض انجام دیے۔ انہوں نے تمام سیکیورٹی اداروں کو شاباش دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب حکومت ہر محاذ پر عوام کی خدمت میں مصروف ہے۔
وزیراعلیٰ نے ترقیاتی منصوبوں میں شامل تمام محکموں اور افسران کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ”یہ ٹیم ورک ہی ہے جس نے ریکارڈ مدت میں ترقیاتی منصوبوں کو ممکن بنایا۔“
200 یونٹ تک 5ہزارروپے بل، 201 یونٹ ہوتے ہی بل 15 ہزار کیوں؟ارکان اسمبلی نے سوالات اٹھادیئے
اسلام آباد : قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی توانائی کے اجلاس میں 200 اور 201 یونٹ پر بلوں میں فرق کا ایجنڈہ شامل کرنے کا مطالبہ کیا گیا اور سوال کیا 200 یونٹ تک 5000 روپے بل اور 201 یونٹ ہوتے ہیں بل 15 ہزار کیوں؟
تفصیلات کے مطابق محمد ادریس کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی توانائی کا اجلاس ہوا ، جس میں مہنگی بجلی اور زائد بلوں کی بھرمار پر اراکین قومی اسمبلی نے سوالات اٹھادیئے۔
رکن کمیٹی رانا سکندر حیات نے کہا کہ ہم لوگوں کو کیا جواب دیں بجلی کب سستی ہوگی،؟ کچی آبادیوں اور ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں بجلی کنکشن نہیں ہیں ، کئی سوسائٹیاں 50 سالوں سے قائم ہیں لیکن وہاں بجلی نہیں ہے، ایسی جگہوں پر بجلی چوری ہو رہی ہے، ایک میٹر ساتھ 10 کنڈے ہوتے ہیں۔
وزیر برائے پاور ڈویژن اویس لغاری نے بتایا کہ ہاوسنگ میں کنکشن تب لگتے ہیں جب وہاں کی مقامی اتھارٹی ڈیمانڈ کرے،مقامی اتھارٹی ڈیمانڈ کرے تو ہم کنکشن دینے کے پابند ہیں،ہم اس سے پہلے ایک اتھارٹی کا رول کیسے ادا کر سکتے ہیں۔
وزیر برائے پاور ڈویژن کا کہنا تھا کہ میرے لیے کنکشن دینا بہت آسان ہے اس سے بجلی زیادہ استعمال ہوگی،زیادہ بجلی استعمال ہوگی تو بجلی کے ریٹ کم ہو جائیں گے، بجلی کی قیمت اس لیے ہی زیادہ ہے کیونکہ بجلی کا استعمال کم ہے، 500ارب کی بجلی چوری نہیں ہے، بجلی چوری 250 ارب سالانہ ہے۔
ملک انور تاج نے کہا کہ 200یونٹ اور 201 یونٹ کا معاملہ آج کل لوگوں میں زیر بحث ہے اور 200 اور 201 یونٹ پر بلوں میں فرق کا ایجنڈہ شامل کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ایجنڈہ شامل کیا جائے کہ ایک یونٹ کے فرق پر بل اتنا کیوں بڑھ جاتا ہے۔
رانا سکندر حیات کا کہنا تھا کہ لائف لائن والے صارفین کو 200 یونٹ تک 5000 روپے بل آتا ہے، رجیسے ہی 201 یونٹ ہوتے ہیں بل 15 ہزار ہو جاتا ہے، ایک یونٹ بڑھنے سے اگلے 6 ماہ تک وہ پروٹیکٹڈ صارف بھی نہیں رہتا، کم از کم اسی مہینے کیلئے نان پروٹیکٹڈ رکھ لیں چھ ماہ کیلئے کیوں۔
اویس لغاری نے بتایا کہ 200 یونٹ تک کے صارفین کو 80 فیصد ڈسکاونٹ دیا جا رہا ہے، ہم صارفین کو ریلیف کے حوالے سے مزید اقدامات بھی کریں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ترقیاتی منصوبوں ریکارڈ مدت میں کا کہنا تھا کہ اور 201 یونٹ مریم نواز نے کہا کہ یونٹ تک ہوتے ہی کیا جا
پڑھیں:
واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
اسلام آباد،بجلی صارفین(awais laghari) کے لیے اچھی خبر سامنے آئی ہے کیونکہ جون 2026 کے دوران صارفین کو فی یونٹ 20 پیسے کا خالص ریلیف ملے گا جبکہ بجلی کی مجموعی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔
حکومتی ذرائع کے مطابق اس ریلیف کے نتیجے میں جون 2026 کے بجلی نرخ جنوری سے مئی 2026 کے مقابلے میں برقرار رہیں گے اور صارفین پر کوئی اضافی مالی بوجھ نہیں پڑے گا۔
پس منظر میں اپریل 2026 کے دوران عالمی توانائی منڈی کو شدید دباؤ کا سامنا رہا۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے باعث آر ایل این جی کی قلت پیدا ہوئی جبکہ برینٹ خام تیل کی قیمت 70 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
ماہرین کے مطابق اگر بروقت اقدامات نہ کیے جاتے تو صارفین پر 5 سے 6 روپے فی یونٹ تک اضافی بوجھ پڑ سکتا تھا۔حکومت نے صورتحال سے نمٹنے کے لیے محدود لوڈ مینجمنٹ، مارکیٹوں کی جلد بندش، مقامی گیس کی اضافی فراہمی اور فرنس آئل کے محدود استعمال سمیت متعدد اقدامات کیے۔
، جس کے نتیجے میں فیول ایڈجسٹمنٹ کا اثر صرف 1.73 روپے فی یونٹ تک محدود رہا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے تقریباً 38 ارب روپے کا ممکنہ اضافی بوجھ صارفین پر منتقل ہونے سے بچ گیا۔
دوسری جانب بہتر انتظامی اصلاحات، لائن لاسز میں کمی، بجلی کی طلب میں اضافے اور مختلف ٹیرف پیکیجز کے مثبت اثرات کے باعث سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میں 1.93 روپے فی یونٹ کمی ہوئی۔
مزید پڑھیں:وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
جس سے صارفین کو مجموعی طور پر 65 ارب روپے کا فائدہ پہنچا۔حکومت کا مؤقف ہے کہ توانائی کے شعبے میں بروقت فیصلوں اور مؤثر انتظامی حکمت عملی کے باعث عالمی اور علاقائی چیلنجز کے باوجود بجلی صارفین کو بڑے مالی بوجھ سے محفوظ رکھا گیا۔