شہری پراپرٹی پر قبضے سے متعلق ڈی سی آفس میں درخواست دیں،دنوں میں فیصلہ ہوگا، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
شہری پراپرٹی پر قبضے سے متعلق ڈی سی آفس میں درخواست دیں،دنوں میں فیصلہ ہوگا، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز WhatsAppFacebookTwitter 0 29 November, 2025 سب نیوز
لاہور(آئی پی ایس ) وزیر اعلی پنجاب مریم نواز کا کہنا ہے کہ پنجاب کے ہر مرلے، ہرکنال اور ہر ایکڑ پر صرف اصل مالک کا ہی قبضہ ہوگا، زمین یا پراپرٹی پر قبضے سے متعلق ڈپٹی کمشنر آفس میں درخواست دیں، دنوں میں فیصلہ ہوگا۔وزیر اعلی پنجاب مریم نواز کی سربراہی میں اجلاس ہوا جس میں پراپرٹی آرڈیننس کے موثر نفاذ پر وزیر اعلی کو تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ ایک ہزار 5 خاندانوں کو 48گھنٹوں میں زمین کی ملکیت کا حق واپس مل گیا ہے، اب پنجاب میں خواتین کے زمین کے مقدمات اولین ترجیح پر حل کیے جائیں گے۔وزیر اعلی پنجاب کا کہنا تھا کہ زمین کا اصل مالک جب تک قبضہ نہ لے فیصلہ ادھورا ہے، فیصلہ صرف کاغذ پر نہیں ہوگا۔ پنجاب کے ہرمرلے، ہرکنال اور ہرایکڑ پر صرف اور صرف اصل مالک کا ہی قبضہ ہوگا، شہری زمین یا پراپرٹی پر قبضے سے متعلق ڈی سی آفس میں درخواست دیں، دنوں میں فیصلہ ہوگا۔ مریم نواز کا کہنا تھا کہ زمین کے مقدمات میں فیصلے پر فوری قبضہ دیا جائیگا،کوئی سفارش نہیں چلے گی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبربھارت کی عالمی سطح پر ایک اور ناکامی، آئی ایم ایف نے اپنی سالانہ رپورٹ میں بھارتی معیشت کو سی گریڈ دیدیا بھارت کی عالمی سطح پر ایک اور ناکامی، آئی ایم ایف نے اپنی سالانہ رپورٹ میں بھارتی معیشت کو سی گریڈ دیدیا بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کی طبیعت مزید بگڑ گئی ایف بی آر نومبر میں ٹیکس وصول کا ہدف حاصل کرنے میں ناکام سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے باخبر قیادت، قومی یکجہتی اور مربوط پالیسی سازی ضروری ہے، صدرمملکت گنے کی قیمتیں مقرر کرنے میں گٹھ جوڑ پر 10شوگر ملز کو شوکاز نوٹس جاری خیبر پختونخوا کودہائیوں سے جنگوئوں نے تباہ کیا، مزید لڑائی کی گنجائش نہیں ، اسد قیصرCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: پراپرٹی پر قبضے سے متعلق آفس میں درخواست دیں دنوں میں فیصلہ ہوگا پنجاب مریم نواز وزیر اعلی
پڑھیں:
وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
افغانستان کے صوبے بدخشاں میں سونے کی کانوں، غیر قانونی دولت، مسلح گروہوں کے باہمی مفادات اور قدرتی وسائل پر کنٹرول کے تنازع نے طالبان حکومت کے اندر بڑھتے ہوئے اختلافات کو نمایاں کردیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق بدخشاں کی صورتحال طالبان کے سرکاری بیانیے سے مختلف تصویر پیش کرتی ہے، جہاں مختلف دھڑے عوامی فلاح یا حکمرانی کے بجائے سونے کے ذخائر، منشیات سے حاصل ہونے والی آمدنی، غیر قانونی مالی فوائد اور طاقت کے حصول کے لیے ایک دوسرے کے مدمقابل دکھائی دیتے ہیں۔
سونے کے ذخائر پر کشمکش، قندھاری قیادت پر الزاماتبدخشاں میں سونے کی کانوں پر جاری تنازع نے طالبان کے اندر موجود گہرے اختلافات کو نمایاں کر دیا ہے۔
مقامی سطح پر اس بات پر ناراضی پائی جاتی ہے کہ قندھاری طالبان قیادت مبینہ طور پر کانوں، آمدنی کے ذرائع، ریاستی اختیارات اور معاشی فوائد پر اپنا کنٹرول مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ مقامی طالبان عناصر کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
10 ہزار جنگجوؤں کا دعویٰ، انتظامی بیان یا طاقت کا مظاہرہ؟صوبہ زابل کے طالبان نائب گورنر ملا جمعہ خان فتح کی جانب سے 10 ہزار جنگجوؤں پر کمانڈ رکھنے کا دعویٰ بھی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ بیان ایک فعال انتظامیہ کے نمائندے کے بجائے ایسے مسلح دھڑے کے رہنما کا تاثر دیتا ہے جو دولت، اثر و رسوخ اور اختیار کی اندرونی کشمکش میں اپنی طاقت دکھانے کے لیے تیار ہے۔
تحقیقات کا حکم، بدعنوانی کے اعتراف کے مترادف قرارطالبان رہنما کی جانب سے غیر قانونی کان کنی، منشیات کی تجارت اور شہریوں پر مظالم کے الزامات کی تحقیقات کا حکم اس بات کا اعتراف سمجھا جا رہا ہے کہ طالبان نظامِ حکومت کے اندر مجرمانہ مالی مفادات، وسائل کے استحصالی استعمال اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے مسائل موجود ہیں۔
اسلامی انصاف کا دعویٰ سوالات کی زد میںرپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان اقتدار سنبھالنے کے بعد بعض عہدیداروں کی اچانک بڑھتی ہوئی دولت، کانوں پر کنٹرول کے لیے دھڑوں کی کشمکش اور ہزاروں جنگجوؤں تک رسائی کے دعوے طالبان کے ’اسلامی انصاف‘ کے بیانیے کو کمزور کرتے ہیں۔ اس صورتحال کو وسائل کی لوٹ مار، عسکری بدعنوانی اور جنگجو سرداروں کی طرز کی سیاست سے تشبیہ دی گئی ہے۔
بدخشاں طالبان طرز حکمرانی کی عکاس تصویررپورٹ کے مطابق بدخشاں میں سونے کے مافیا، منشیات پر مبنی معیشت، مسلح سرپرستی کے نظام، شہریوں کو دباؤ میں رکھنے کے حربے اور مختلف جنگجو گروہوں کے درمیان مسابقت طالبان حکمرانی کی ایک واضح تصویر پیش کرتی ہے۔
اس صورتحال میں مقامی آبادی استحصال کا سامنا کررہی ہے جبکہ طالبان کے مختلف حلقے وسائل اور اثر و رسوخ کے حصول کی دوڑ میں مصروف ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان نے اقتدار میں آنے سے قبل نظم و ضبط، احتساب اور بدعنوانی کے خاتمے کے وعدے کیے تھے، تاہم بدخشاں کی صورتحال قندھاری قیادت کے مبینہ اختیارات پر قبضے، اندرونی اختلافات، معدنی وسائل کی لوٹ مار، منشیات سے جڑی بدعنوانی اور مسلح گروہی طرز عمل کو نمایاں کرتی ہے، جس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ طالبان حکومت ایک مرکزی ریاستی نظام کے بجائے مختلف مسلح نیٹ ورکس کے اتحاد کی صورت اختیار کر چکی ہے جو اقتدار اور وسائل کی تقسیم پر باہمی کشمکش میں مبتلا ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اختلافات افغان طالبان وسائل پر قبضے کی جنگ وی نیوز