(سندھ بلڈنگ ) ماڈل کالونی سویٹ ہوم میں کمرشل تعمیرات کی چھوٹ
اشاعت کی تاریخ: 22nd, July 2025 GMT
ڈائریکٹر سمیع جلبانی ، اے ڈی ذوالفقار بلیدی کو خطیر رقم کی وصولی ، ڈی جی شاہ میر خاموش ہوگئے
پلاٹ نمبر18 پر دکانیں اور پورشن ،پلاٹ نمبر 19/1اور19/2 پر تجارتی مقصد کیلیے تعمیرات شروع
سندھ بلڈنگ غیر قانونی امور پرڈی جی شاہ میر خان بھٹو کی دانستہ چشم پوشی کراچی میں بلند عمارتیں تعمیر کروانے والی مافیا کو چھوٹاسسٹنٹ ڈائریکٹر ذوالفقار بلیدی نے پلاٹ نمبر 18 سویٹ ہوم پلاٹ 19/1+ 19/2 پر تجارتی مقاصد کے لئے تعمیر سے خطیر رقم بٹورلی گئی انسانی قیمتی جانوں کے نقصان کا خدشہ جرآت سروے ٹیم کی ڈائریکٹر سمیع جلبانی سے رابطے کی کوشش ناکام ۔ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی میں سابقہ روایات کو برقرار رکھتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل شاہ میر خان بھٹو نے کراچی میں جاری غیر قانونی امور سے دانستہ چشم پوشی اختیار کر رکھی ہے بلڈنگ افسران ملکی خزانے سے بھاری تنخواہیں اور دیگر مراعات حاصل کرنے کے باوجود بھی ملکی محصولات کو بھاری نقصان پہنچا کر شہر بھر میں بغیر نقشے اور منظوری کے رہائشی پلاٹوں پر کمزور عمارتوں کی تعمیرات کروانے میں مگن ہیں کمزور بنیادوں پر تعمیر کی جانے والی کمزور عمارتوں کی تعمیر سے کراچی کے مستقبل اور قیمتی انسانی جانوں کو شدید خطرات لاحق ہیں جرآت سروے کے دوران یہ بات دیکھنے میں آئی ہے کہ ضلع کورنگی کے علاقے شاہ فیصل ٹان ماڈل کالونی میں بھی رہائشی پلاٹوں پر کمرشل تعمیرات کا سلسلہ جاری ہے جس کی سرپرستی اسسٹنٹ ڈائریکٹر ذوالفقار بلیدی کر رہے ہیں ملنے والی اطلاعات کے مطابق موصوف ماڈل کالونی میں منظم طریقے سے بلند عمارتوں کی تعمیر شروع کروا رکھی ہے اسوقت بھی ماڈل کالونی پلاٹ نمبر 18 سویٹ ہوم پر دکانیں اور کمرشل پورشن یونٹ جبکہ پلاٹ نمبر 19/1+ 19/2 دو مشترکہ پلاٹوں پر تجارتی مقاصد کے لئے تعمیرات کی چھوٹ خطیر رقم بٹورنے کے بعد دے دی گئی ہے جاری خلاف ضابطہ تعمیرات کو انتظامیہ کی مکمل سرپرستی حاصل ہے جرآت سروے ٹیم کی جانب سے موقف لینے کے لئے ڈائریکٹر کورنگی سمیع جلبانی سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی مگر رابطہ ممکن نہ ہو سکا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: ماڈل کالونی پلاٹ نمبر
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔