غربت کے باعث پہلی 2 شادیاں ناکام ہوئیں، اداکار شمعون عباسی کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 26th, July 2025 GMT
معروف اداکار شمعون عباسی نے انکشاف کیا ہے کہ ان کی پہلی 2 شادیاں مالی مسائل کے باعث ختم ہوئیں اور اس میں ان کی سابقہ بیویوں جویریہ عباسی اور حمائمہ ملک کا کوئی قصور نہیں تھا۔
ایک انٹرویو میں شمعون عباسی نے کہا کہ ان کے اب بھی دونوں سابقہ بیویوں سے اچھے اور دوستانہ تعلقات قائم ہیں اور وقت کے ساتھ سب نے اپنی غلطیوں کو تسلیم کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی طور پر الزامات لگے لیکن بعد میں سب نے تحمل سے سوچا اور ایک دوسرے کو معاف کیا۔
یہ بھی پڑھیے: رجب بٹ کی فہد مصطفیٰ پر تنقید، شمعون عباسی بھی میدان میں کود پڑے
اداکار نے بتایا کہ ماضی میں ان کے مالی حالات بہت خراب تھے یہاں تک کہ وہ کئی دن بھوکے رہے اور انہیں ہوٹل سے ادھار پر کھانا کھانا پڑتا تھا، اور ایک وقت ایسا بھی آیا جب ادھار بند کر دیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے بسوں کی چھتوں پر سفر کیا، سخت غربت دیکھی لیکن ان کا یقین تھا کہ محنت کا صلہ ضرور ملے گا۔
شمعون عباسی کے مطابق اس وقت وہ نہ صرف خوشحال زندگی گزار رہے ہیں بلکہ ان کی سابقہ بیویاں بھی بہتر زندگی گزار رہی ہیں۔ انہوں نے جویریہ اور حمائمہ کی محنت اور کامیابی کو سراہا۔
خیال رہے کہ شمعون عباسی نے 1997 میں جویریہ عباسی سے شادی کی تھی جن سے ان کی ایک بیٹی عنزیلہ عباسی ہے۔ دونوں 2007 میں علیحدہ ہوگئے تھے۔ بعد ازاں 2010 میں انہوں نے حمائمہ ملک سے شادی کی جو 2013 میں ختم ہوگئی۔ اپریل 2023 میں انہوں نے تیسری شادی اداکارہ شیری شاہ سے کی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اداکار شادی شمعون عباسی غربت.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف
فائل فوٹوپبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف ہوا ہے۔
آڈٹ رپورٹ کے مطابق حیسکو کے ڈی ڈی او، ایکسیئن اور سی ایف او آفس کی ملی بھگت سے خرد برد کی گئی۔
سی ای او حیسکو کے مطابق اس کیس میں چار ملازمین کو برطرف کیا جا چکا ہے۔ تین اکاؤنٹس افسران، ایک فنانس افسر کو نوکری سے نکالا گیا۔
ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ اس کیس کے 5 مقدمات درج کیے گئے، 130 سے زائد افراد ملوث تھے، اب تک صرف 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔