UrduPoint:
2026-06-03@06:30:23 GMT

پاکستان: اربعین کے زائرین کے لیے زمینی سفر پر پابندی

اشاعت کی تاریخ: 28th, July 2025 GMT

پاکستان: اربعین کے زائرین کے لیے زمینی سفر پر پابندی

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 28 جولائی 2025ء) پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی نے اتوار کے روز اس بات کی تصدیق کی کہ وفاقی حکومت نے شورش زدہ صوبہ بلوچستان میں سکیورٹی کے خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے اربعین کے لیے عراق اور ایران جانے والے زائرین کے زمینی سفر پر پابندی عائد کر دی ہے۔

واضح رہے کہ زائرین چہلم کی تقریب میں شرکت کے لیے عراق جاتے ہیں، جسے 'اربعین‘ کہا جاتا ہے۔

چہلم پیغمبر اسلام کے نواسے امام حسین کی شہادت کے سوگ کے 40ویں دن کے موقع پر ہر سال منایا جاتا ہے اور بہت سے پاکستانی اس مذہبی جلوس میں شرکت کے لیے عراق کا سفر کرتے ہیں۔ حکومت نے پابندی سے متعلق کیا کہا؟

پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی نے حکومت کے اس فیصلے کا اعلان سوشل میڈیا ایکس پر کیا اور کہا کہ یہ ایک مشکل فیصلہ تھا، تاہم سکیورٹی وجوہات کے سبب ایسا کرنا پڑا۔

(جاری ہے)

انہوں نے اپنی ایک پوسٹ میں لکھا: "وزارت خارجہ، (بلوچستان کی حکومت) اور سکیورٹی ایجنسیوں کے ساتھ وسیع تر مشاورت کے بعد، یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ زائرین کو اس سال اربعین کے لیے سڑک کے ذریعے عراق اور ایران جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔"

انہوں نے مزید کہا کہ یہ "مشکل فیصلہ عوامی تحفظ اور قومی سلامتی کے مفاد میں کیا گیا"، تاہم چہلم کے لیے زائرین ہوائی جہاز سے سفر کر سکیں گے۔

نقوی نے زور دے کر کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے حکام کو ہدایت کی ہے کہ "آنے والے دنوں میں ان کی زیارت کی سہولت کے لیے زیادہ سے زیادہ پروازوں کا بندوبست کیا جائے۔"

ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (اے پی پی) کی اطلاع کے مطابق نقوی نے اس فیصلے کا اعلان اتوار کی صبح وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات کے بعد کیا۔ اطلاعات کے مطابق انہوں نے زائرین سے متعلق اس نئی پالیسی سے متعلق انہیں تفصیل سے آگاہ کیا۔

وزیر اعظم آفس سے جاری ایک پریس ریلیز کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ شہباز شریف نے وزیر ہوا بازی خواجہ آصف کو زائرین کے لیے "خصوصی پروازوں" کا انتظام کرنے کی بھی ہدایت کی۔

وزیر اعظم شہباز شریف کی ہدایت پر زائرین کی سہولت کے لیے پروازوں کا بندوبست کرنے کے لیے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) نے آٹھ سے 11 اگست کے درمیان کراچی سے چار خصوصی پروازوں کا اعلان کیا ہے، جبکہ نجف سے واپسی کی پروازیں 18 سے 21 اگست تک شیڈول کی گئی ہیں۔

عازمین زائرین کی مشکلات

زمینی راستے کے سفر پر پابندی کا اعلان اربعین سے محض 15 دن قبل کیا گیا ہے، جس سے عازمین اس بات سے پریشان ہیں کہ ان کو مالی نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے اور اس سے یہ خدشہ بھی پیدا ہوا ہے کہ دسیوں ہزار کم آمدن والے عازمین سفر کے متحمل نہیں ہو سکتے۔

بعض ٹریول گروپوں کا کہنا ہے کہ بہت سے لوگ پہلے ہی ویزا، گاڑیوں کے سرٹیفیکیشن اور ہوٹل کی بکنگ کے لیے پیشگی ادائیگیاں کر چکے تھے۔

عراق میں کربلا کے علاقے میں امام حسین اور ان کے بھائی عباس ایک دوسرے کے آمنے سامنے دو عظیم الشان مقبروں میں مدفون ہیں اور یہ شیعہ مسلمانوں کا مرکز ہے۔ گزشتہ برس اربعین کے موقع پر 21 ملین سے زیادہ عقیدت مندوں نے کربلا کا دورہ کیا تھا۔

ص ز/ ج ا (نیوز ایجنسیاں)

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے شہباز شریف اربعین کے کا اعلان نقوی نے کے لیے

پڑھیں:

میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت

لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔

منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔

میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔

یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔

برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔

مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں

مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔

متعلقہ مضامین

  • ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے
  • پاکستان اور کویت جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کیلئے پرامید
  • خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
  • بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت