Islam Times:
2026-06-03@07:59:46 GMT

دنیا بھر میں مقیم کشمیری کل یوم سیاہ منائیں گے

اشاعت کی تاریخ: 4th, August 2025 GMT

دنیا بھر میں مقیم کشمیری کل یوم سیاہ منائیں گے

حریت کانفرنس نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ 5 اگست یوم استحصال کشمیر کو یوم سیاہ کے طور پر منائیں تاکہ دنیا کو یہ واضح پیغام دیا جائے کہ بھارت نے ان کے مادر وطن پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کنٹرول لائن کے دونوں جانب، پاکستان اور دنیا بھر میں مقیم کشمیری 5 اگست 2019ء کو مودی کی زیر قیادت بھارتی حکومت کی طرف سے کئے گئے غیر قانونی اقدامات کے خلاف اپنا احتجاج درج کرانے کے لیے کل یوم استحصال کشمیر منائیں گے۔ ذرائع کے مطابق یہ دن منانے کی اپیل کل جماعتی حریت کانفرنس نے دی ہے۔ حریت کانفرنس نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ 5 اگست یوم استحصال کشمیر کو یوم سیاہ کے طور پر منائیں تاکہ دنیا کو یہ واضح پیغام دیا جائے کہ بھارت نے ان کے مادر وطن پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے اور کشمیری اقوام متحدہ کی طرف سے تسلیم شدہ حق خودارادیت کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ حریت کانفرنس نے 5 اگست 2019ء کو کیے گئے غیر قانونی اقدامات کو کشمیر کی منفرد شناخت، حیثیت اور ثقافت پر حملہ اور آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کی کوشش قرار دیا۔ انہوں نے دنیا بھر میں مقیم کشمیریوں پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے مظلوم عوام کو درپیش مشکلات کی طرف عالمی توجہ مبذول کرانے کے لیے منگل کو احتجاجی مظاہرے کریں۔

نریندر مودی کی زیر قیادت ہندوتوا حکومت نے 5 اگست 2019ء کو بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر دی تھی اور کشمیریوں کے تمام سیاسی، سماجی، مذہبی اور دیگر بنیادی حقوق سلب کر لیے تھے جبکہ مقبوضہ علاقے کو ایک کھلی جیل میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔ حریت قیادت نے کہا کہ یہ اقدام بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی ہے جن کے تحت قابض ریاستوں کو یکطرفہ فیصلے کرنے سے روکا گیا ہے۔ کل جماعتی حریت کانفرنس نے کہا کہ وہ دن دور نہیں جب جموں و کشمیر پر بھارت کا سامراجی قبضہ ختم ہو جائے گا اور یہ علاقہ بھارت کی غلامی سے آزاد ہو جائے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: حریت کانفرنس نے

پڑھیں:

ایمریٹس کپتان دنیا کے سب سے زیادہ معاوضہ لینے والے پائلٹس میں شامل

مشرقِ وسطیٰ کی سب سے بڑی فضائی کمپنی ایمریٹس ایئرلائن (Emirates Airline)نے 2026 میں بھی دنیا کی سب سے زیادہ پرکشش اور زیادہ تنخواہیں دینے والی ایئرلائنز میں اپنی مضبوط پوزیشن برقرار رکھی ہے۔

تازہ رپورٹس کے مطابق ایمریٹس نہ صرف اپنے پائلٹس کو خطیر تنخواہیں فراہم کر رہی ہے بلکہ انہیں متعدد اضافی مراعات بھی دی جا رہی ہیں، جس کی وجہ سے دنیا بھر کے تجربہ کار پائلٹس اس ایئرلائن میں ملازمت کو ترجیح دیتے ہیں۔ اعلیٰ معیارِ زندگی، ٹیکس فری آمدن اور بہتر کیریئر مواقع اسے عالمی سطح پر ایک نمایاں ایئرلائن بناتے ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق ایمریٹس میں کام کرنے والے فرسٹ آفیسرز کی سالانہ آمدن تقریباً 4 لاکھ 20 ہزار سے 6 لاکھ 20 ہزار درہم کے درمیان ہوتی ہے، جو امریکی کرنسی میں تقریباً 1 لاکھ 14 ہزار سے 1 لاکھ 69 ہزار ڈالر کے برابر بنتی ہے۔ تنخواہ کا انحصار طیارے کی قسم اور تجربے پر ہوتا ہے، خاص طور پر بوئنگ 777 اور ایئربس A380 جیسے طویل فاصلے کے طیاروں پر تعینات پائلٹس زیادہ آمدن حاصل کرتے ہیں۔

دوسری جانب کپتانوں کی تنخواہیں اس سے کہیں زیادہ ہیں۔ رپورٹ کے مطابق 2026 میں ایمریٹس کے کپتان سالانہ 9 لاکھ سے 14 لاکھ 50 ہزار درہم تک کما سکتے ہیں، جو تقریباً 2 لاکھ 45 ہزار سے 3 لاکھ 95 ہزار امریکی ڈالر کے برابر ہے۔ الٹرا لانگ ہال طیاروں جیسے ایئربس A380 کے کپتان اضافی الاؤنسز اور فلائنگ ڈیوٹی کی وجہ سے اس سے بھی زیادہ آمدن حاصل کر سکتے ہیں۔

مزیدپڑھیں:بجٹ میں عوام کو ریلیف دینے کیلئے پر عزم ہیں،شہباز شریف

ایمریٹس کی سب سے بڑی کشش اس کی ٹیکس فری تنخواہ ہے، جس کے باعث پائلٹس کی خالص آمدن دیگر مغربی ممالک کی ایئرلائنز کے مقابلے میں زیادہ ہو جاتی ہے۔ اس کے علاوہ کمپنی اپنے ملازمین کو رہائش یا ہاؤسنگ الاؤنس، سفری الاؤنس، میڈیکل اور انشورنس سہولیات، اہل خانہ کے لیے سفری رعایتیں، بچوں کی تعلیم میں مدد اور بیرون ملک قیام کے دوران ہوٹل و کھانے کے اخراجات جیسی مراعات بھی فراہم کرتی ہے۔

بیڑے کے حوالے سے ایمریٹس دنیا کے سب سے بڑے وائیڈ باڈی طیاروں کے آپریٹرز میں سے ایک ہے، جس میں 116 ایئربس A380، 118 بوئنگ 777-300ER، 10 بوئنگ 777-200LR اور 19 ایئربس A350-900 شامل ہیں۔ کمپنی نے مستقبل کے لیے مزید 359 طیاروں کے بڑے آرڈرز بھی دیے ہیں جن میں بوئنگ 777-9، بوئنگ 777-8، بوئنگ 787 اور ایئربس A350 شامل ہیں۔

پائلٹ بننے کے لیے ایمریٹس میں سخت معیار مقرر ہیں۔ فرسٹ آفیسر کے لیے کم از کم 2 ہزار فلائنگ آورز جبکہ کپتان کے لیے 7 ہزار سے زائد فلائنگ آورز کے ساتھ ساتھ ہزاروں گھنٹوں کا کمانڈ تجربہ لازمی ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ بین الاقوامی سول ایوی ایشن کے لائسنس، میڈیکل سرٹیفکیٹ اور انگریزی زبان میں مہارت بھی بنیادی شرائط میں شامل ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ایمریٹس کپتان دنیا کے سب سے زیادہ معاوضہ لینے والے پائلٹس میں شامل
  • دنیا بھر میں غیر قانونی طور پر مقیم بھارتی شہری مختلف ممالک کیلیے وبال جان بن گئے
  • دنیا بھر میں غیر قانونی طور پر مقیم بھارتی شہری مختلف ممالک  کیلیے وبال جان بن گئے
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • عشق پاکستانی نوجوان کو ایل او سی کے پار لے گیا
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • لاہور میں ہونیوالی ’’شہید اُمت کانفرنس‘‘ میں ایک اور نشست کا اضافہ
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ