اسرائیل کے غزہ پر وحشیانہ حملے، امداد کے منتظر 36 افراد سمیت مزید 74 فلسطینی شہید
اشاعت کی تاریخ: 5th, August 2025 GMT
غزہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 05 اگست2025ء)اسرائیل کی غزہ میں امداد لینے آئے کمزور و بے بس فلسطینیوں پر وحشیانہ فائرنگ اور پناہ گزین کیمپوں پر بھی بمباری سے مزید 74 سے زائد فلسطینی شہید ہوگئے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق پیر کو اسرائیلی فوج کی جانب سے غزہ میں امداد کیلئے کھڑے بے بس فلسطینیوں پر فائرنگ کی گئی جبکہ پناہ گزین کیمپوں پر بمباری بھی ہوئی۔
غزہ پر اسرائیلی حملوں میں پیر کی صبح سے اب تک 74 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں 36 امداد کے متلاشی افراد بھی شامل ہیں۔ اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیلی بمباری اور امداد کی کمی کے باعث روزانہ 28 بچے جان سے جارہے ہیں۔ادھر حماس نے کہا ہے کہ اگر اسرائیل غزہ کے تمام شہریوں تک امداد پہنچانے کے لیے انسانی راہداریوں کو کھول دے تو وہ بین الاقوامی ریڈ کراس کمیٹی (ICRC) کو غزہ میں موجود اسرائیلی قیدیوں تک امداد پہنچانے کی اجازت دینے کے لیے تیار ہے۔(جاری ہے)
غزہ کی وزارت صحت کے مطابق 7 اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی جارحیت سے غزہ میں اب تک 60 ہزار 839 افراد شہید جبکہ ایک لاکھ 49 ہزار 588 افراد زخمی ہوچکے ہیں۔ترک میڈیا کے مطابق غزہ میں ہر گزرتا لمحہ ایک اور فلسطینی بچے کی جان لے رہا ہے۔ 7 اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی بمباری اور محاصرے کے نتیجے میں اب تک 18 ہزار 592 فلسطینی بچے شہید ہو چکے ہیں جو گزشتہ 22 ماہ کے دوران غزہ میں ہونے والی کل ہلاکتوں کا 31 فیصد ہیں۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے
پڑھیں:
میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر مبنی چیٹ بوٹس کے خلاف ایک نئے قسم کے سائبر حملے سامنے آئے ہیں جن کے ذریعے ہیکرز سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ذاتی معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا
ماہرین کے مطابق جدید بڑی زبان کے ماڈلز(ایل ایل ایمز) جن میں میٹا اے آئی سمیت دیگر اے آئی چیٹ بوٹس شامل ہیں کو ایک تکنیک پرومپٹ انجیکشن‘ کے ذریعے دھوکا دیا جا سکتا ہے۔ اس طریقے میں حملہ آور چیٹ بوٹس کے حفاظتی نظام کو بائی پاس کرتے ہوئے انہیں ایسے احکامات پر عمل کرنے پر آمادہ کرتے ہیں جو عام حالات میں ممکن نہیں ہوتے۔
سائبر سیکیورٹی ماہر بروس شنائر کے مطابق ہیکرز اس مقصد کے لیے ’پرولیج ایسکلیشن‘ نامی حکمت عملی استعمال کرتے ہیں جس کے تحت اے آئی ماڈل کو ایسی فرضی شخصیت اختیار کرنے پر قائل کیا جاتا ہے جو حفاظتی قواعد کو نظر انداز کر دے یوں چیٹ بوٹ کی محدود صلاحیتیں وسیع ہو جاتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حملہ آور یہ خفیہ ہدایات بظاہر بے ضرر مواد، جیسے ای میلز، ویب سائٹس یا آن لائن پیغامات میں شامل کرتے ہیں۔ اگر چیٹ بوٹ ان ہدایات کو قبول کر لے تو ہیکرز کو صارف کے منسلک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل سروسز تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیے: اوپن اے آئی نے ’سورا‘ ایپ لانچنگ کے چند ماہ بعد ہی اچانک کیوں بند کردی؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک بار چیٹ بوٹ کے متاثر ہونے کے بعد اسے ذاتی معلومات چرانے، حساس ڈیٹا باہر منتقل کرنے یا صارف کے اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے جیسے اقدامات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خطرہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب صارفین اے آئی ٹولز کو اپنی ای میل، کیلنڈر یا دیگر ذاتی سروسز تک رسائی دے دیتے ہیں کیونکہ اس سے حملہ آوروں کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ’کوئی پڑھے نہ پڑھے اے آئی تو پڑھے گی‘: قدیم زمانوں کے محبت نامے، خفیہ تحریریں آشکار
ماہرین کے مطابق ہیکرز کا حتمی مقصد مالی فراڈ، شناختی معلومات کی چوری اور دیگر نقصان دہ سرگرمیوں کو انجام دینا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی اپنی استدلالی صلاحیتیں بھی صارفین کے خلاف استعمال کی جا سکتی ہیں جس سے روایتی سائبر سیکیورٹی اقدامات کو مؤثر بنانا مزید مشکل ہو جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اے آئی مصنوعی ذہانت ہیکنگ